ناپاک تولیہ سے گیلا جسم صاف کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ناپاک تولیہ سے گیلا جسم صاف کیا تو کیا جسم ناپاک ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ناپاک تولیہ سے گیلا جسم صاف کیا، تو کیا جسم ناپاک ہوجائے گا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر خشک ناپاک تولیہ گیلے جسم سے اس قدر تر ہو گیا کہ پھر اس تولیہ سے ناپاک تری چھوٹ کر بدن کو لگی تو بدن کا وہ حصہ ناپاک ہوگا جس پر تولیہ سے ناپاک تری چھوٹ کر لگی ہے ، یونہی اگر تری چھوٹ کر بدن پر نہیں لگی لیکن بدن پر اس تولیہ سے نمی پہنچی اور بدن میں نجاست کا اثر مثلاً بو آگئی تو بھی بدن کا بدبو والا حصہ ناپاک ہو جائے گا اور اگر تولیہ اس قدر تر نہیں ہوا کہ اس سے تری چھوٹ کر دوبارہ جسم پر لگے اور نہ ہی بدن پر نجاست کا کوئی اثر مثلاً بو ہے تو بدن پاک شمار ہوگا۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1367 ھ/ 1948 ء) لکھتے ہیں: ”ناپاک کپڑے میں پاک کپڑا یا پاک میں ناپاک کپڑا لپیٹا اور اس ناپاک کپڑے سے یہ پاک کپڑا نم ہو گیا تو ناپاک نہ ہو گا بشرطیکہ نجاست کا رنگ یا بو اس پاک کپڑے میں ظاہر نہ ہو، ورنہ نم ہو جانے سے بھی ناپاک ہو جائے گا، ہاں اگر بھیگ جائے تو ناپاک ہو جائے گا اور یہ اسی صورت میں ہے کہ وہ ناپاک کپڑا پانی سے تر ہوا ہو اور اگر پیشاب یا شراب کی تری اس میں ہے تو وہ پاک کپڑا نم ہو جانے سے بھی نجس ہو جائے گا اور اگر ناپاک کپڑا سوکھا تھا اور پاک تر تھا اور اس پاک کی تری سے وہ ناپاک تر ہو گیا اور اس ناپاک کو اتنی تری پہنچی کہ اس سے چُھوٹ کر اس پاک کو لگی تو یہ ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2،صفحہ 393، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2414
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1447ھ/01 اگست 2025ء