logo logo
AI Search

ناپاک رومال سے شلوار گیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ناپاک رومال گیلا ہو گیا، جس سے شلوار بھی گیلی ہو گئی تو کیا شلوار بھی ناپاک ہو گئی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مجھے پیشاب کے قطرے آتے ہیں، کپڑوں کو ناپاکی سے بچانے کے لئے میں نے شرم گاہ پر رومال باندھا ہوا ہے۔ اگر قطرے گرنے کی وجہ سے رومال ناپاک ہو گیا اور خشک ہو گیا، جس کے بعد میں نہانے کے لیے چلا گیا اب رومال دوبارہ گیلا ہو گیا اور اس رومال سے شلوار گیلی ہو گئی۔ تو کیا شلوار ناپاک ہو گئی۔اور ہم نے شلوار کو دوسرے کپڑوں کے ساتھ مشین میں دھو دیا ۔ تو کیا دوسرے کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے ؟

جواب

اگر ایسا ہوا کہ ناپاک خشک رومال پانی لگنے کی وجہ سے تر ہو گیا اور پھر یہ تری پاک شلوار کو لگی تو شلوار کے جس حصے پر یہ تری لگی ہے وہ حصہ ناپاک ہوجائے گا، اب اس کو پاک کیے بغیر دودسرے کپڑوں کے ساتھ دھوئیں گے تو دوسرے کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے اور اگر ناپاک رومال سے تری چھوٹ کر شلوار کو نہیں لگی اور نہ ہی شلوار میں نجاست کا اثر مثلاً بُو ہے تو شلوار پاک ہوگی، اس کی وجہ سے دوسرے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ناپاک کپڑے میں پاک کپڑا یا پاک میں ناپاک کپڑا لپیٹا اور اس ناپاک کپڑے سے یہ پاک کپڑا نم ہو گیا تو ناپاک نہ ہو گا بشرطیکہ نجاست کا رنگ یا بُو اس پاک کپڑے میں ظاہر نہ ہو، ورنہ نم ہو جانے سے بھی ناپاک ہو جائے گا، ہاں اگر بھیگ جائے تو ناپاک ہو جائے گا اور یہ اسی صورت میں ہے کہ وہ ناپاک کپڑا پانی سے تر ہوا ہو اور اگر پیشاب یا شراب کی تری اس میں ہے تو وہ پاک کپڑا نم ہو جانے سے بھی نجس ہو جائے گا اور اگر ناپاک کپڑا سوکھا تھا اور پاک تر تھا اور اس پاک کی تری سے وہ ناپاک تر ہو گیا اور اس ناپاک کو اتنی تری پہنچی کہ اس سے چُھوٹ کر اس پاک کو لگی تو یہ ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2،صفحہ 393، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2415
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1447ھ/05 اگست 2025ء