logo logo
AI Search

ناپاک کپڑے پہننے سے غسل فرض ہو جاتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا ناپاک کپڑے پہننے سے غسل لازم ہو جاتا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے نماز کے علاوہ ناپاک کپڑا پہنا تو کیا اس پر نہانا ضروری ہوگا یا صرف کپڑے کو پاک کرنا کافی ہے ؟

جواب

ناپاک کپڑا پہننے سے غسل لازم نہیں ہوتا، کہ یہ غسل فرض کرنے والے اسباب میں سے نہیں ہے، تاہم! اسے پہننے کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ: اگر اس کپڑے پر خشک نجاست لگی ہو، تب تو نماز کے علاوہ پہننا گناہ نہیں، اگرچہ پاک کپڑا موجود ہو، لیکن پاک کپڑا ہوتے ہوئے پہننا نہیں چاہئے، اور اگر نجاست ایسی تازہ ہے کہ کپڑا پہننے سے نجاست چھوٹ کر بدن کو لگے گی، تو اس صورت میں پاک کپڑا ہوتے ہوئے ناپاک کپڑا پہننا جائز نہیں ہوگا، کہ یہ بلاوجہ بدن کو ناپاک کرنا ہے۔

صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ”غیر نماز میں نجس کپڑا پہنا تو حرج نہیں اگرچہ پاک کپڑا موجود ہو اور جو دوسرا نہیں تو اسی کو پہننا واجب ہے۔ یہ اس وقت ہے کہ اس کی نجاست خشک ہو، چھوٹ کر بدن کو نہ لگے ورنہ پاک کپڑا ہوتے ہوئے ایسا کپڑا پہننا مطلقاً منع ہے کہ بلاوجہ بدن ناپاک کرنا ہے۔“ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 480، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5202
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء