logo logo
AI Search

مٹیالے پانی سے وضو کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بورنگ کا پانی مٹیالا آرہا ہو تو وضو کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں بورنگ کے پانی سے وضو کیا جاتا ہے، کچھ دنوں سے اس پانی کا رنگ تھوڑا سا مٹیالا ہوگیا ہے، بعض نمازیوں کو لگتا ہے کہ اس پانی سے وضو نہیں کرسکتے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس پانی سے وضو کرنا جائز و درست ہے یا نہیں؟ پانی کے بہاؤ میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں آیا ہے، فقط معمولی مٹیالا سا ہوگیا ہے۔

جواب

پوچھی گئی صورت کے مطابق مذکورہ پانی سے وضو کرنا بالکل جائز و درست ہے ، کہ پانی میں پاک مٹی شامل ہوجانے کے بعد اگر پانی کی رقت و سیلان (بہاؤ) برقرار رہے تو اس پانی سے وضو و غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ اس کا رنگ مٹیالا، خاکی ہوگیا ہو۔ البتہ اگر اس میں رقت و سیلان (بہاؤ) باقی نہ رہے، بلکہ کیچڑ کی صورت اختیار کرلے تو پھر اس سے وضو، غسل درست نہ ہونگے۔

فتح القدیر میں ہے: ”لا بأس بالوضوء بماء السيل مختلطا بالطين إن كانت رقة الماء غالبة، فإن كان الطين غالبا فلا“ یعنی سیلاب کا پانی جس میں کیچڑ کی آمیزش ہو اس سے وضو کرنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ اس میں پانی کی رقت غالب ہو۔ اور اگر کیچڑ غالب ہو تو جائز نہیں ہے۔ (فتح القدير على الهداية، کتاب الطھارات، جلد 1، صفحہ 72، دار الفكر، لبنان)

علامہ ابوبکربن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ’’بدائع الصنائع“ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”لو تغير الماء المطلق بالطين أو بالتراب، أو بالجص، أو بالنورة أو بوقوع الأوراق، أو الثمار فيه، أو بطول المكث يجوز التوضؤ به؛ لأنه لم يزل عنه اسم الماء، و بقي معناه أيضا مع ما فيه من الضرورة الظاهرة لتعذر صون الماء عن ذلك“ یعنی اگر مطلق پانی کیچڑ، مٹی، چونے، درخت کے پتوں یا پھلوں سے یا کافی دیر تک ٹھہرے رہنے سے متغیر(تبدیل) ہوجائے، تو ایسے پانی سے وضو کرنا شرعاً جائز ہے، کیونکہ پانی کانام اُس سے زائل نہیں ہوا، اور اس کا معنی (یعنی پانی ہونا) بھی باقی ہے، اور ساتھ ہی اس میں واضح ضرورت بھی ہے کہ پانی کا اس طرح کی چیزوں سے بچنا مشکل ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 1، صفحہ 15، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

جس پانی سے طہارت درست ہے اُس کی اقسام بیان کرتے فقیہ النفس، امامِ اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: وہ پانی جس میں مٹی، ریتا، کیچڑ کسی قدر مل جائے جب تک اس کی روانی باقی ہو اعضا پر پانی کی طرح بہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 2، صفحہ 544 - 543، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اور اگر کوئی پاک چیز ملی جس سے رنگ یا بو یا مزے میں فرق آگیا مگر اس کا پتلا پَن نہ گیا جیسے ریتا، چونا یا تھوڑی زعفران، تو وُضو جائز ہے۔ (بھارِ شریعت، حصہ 02، صفحہ 329، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FMD-4850
تاریخ اجراء: 02 ذی القعدۃ الحرام 1447ھ / 20 اپریل 2026ء