جنبی کا بال پانی میں گرنے سے پانی مستعمل ہو گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنبی شخص کا بال پانی میں گر جائے، تو پانی مستعمل ہو گا یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر جنبی شخص کا بال ٹوٹ کر تھوڑے پانی مثلاً بالٹی وغیرہ کے پانی میں گر جائے، تو وہ پانی ناپاک یا مستعمل ہو جائے گا یا نہیں؟
جواب
انسانی بال پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہو اور وہ ٹوٹ کر پانی میں گر جائے، تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا اور نہ ہی مستعمل ہو گا، اگرچہ وہ بال جنبی شخص کا ہو اور دہ در دہ (225 اسکوائر فٹ پھیلاؤ والے) سے کم غیر جاری پانی میں گرا ہو۔ پانی ناپاک اس لئے نہیں ہو گا کہ انسانی بال پاک ہیں اور پاک چیز گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اور مستعمل اس لئے نہیں ہو گا کہ بال جب تک جسم کے ساتھ متصل رہے، اس کا حکم جسم والا ہوتا ہے، لیکن جب جدا ہو جائے، تو اب اس کا حکم جسم والا نہیں رہتا، اس لئے جنبی شخص کے جسم سے جدا ہونے کے بعد اس بال پر جنابت والا حکم باقی نہ رہے گا، لہذا اس کی وجہ سے پانی بھی مستعمل نہیں ہو گا۔ البتہ بال پر ظاہری نجاست لگی ہو، تو غیر جاری قلیل پانی ناپاک ہو جائے گا۔
انسانی بال پاک ہیں، لہذا یہ قلیل پانی کو بھی ناپاک نہیں کریں گے۔ چنانچہ فتاوی قاضی خان میں ہے ”وشعر الآدمي طاهر في ظاهر الرواية اذا وقع في الماء القليل، لا يفسد الماء“ ترجمہ: ظاہر الراویہ کے مطابق آدمی کے بال پاک ہیں، لہذا قلیل پانی میں گریں، تو اس پانی کو فاسد نہیں کریں گے۔ (فتاوی قاضی خان، کتاب الطھارۃ، فصل فیما یقع فی البئر، جلد 1، صفحہ 18، مطبوعہ کراچی)
یونہی بحر الرائق میں ہے: ’’(وشعر الانسان والميتة وعظمهما طاهران) انما ذكرهما في بحث المياه لافادة انه اذا وقع في الماء لا ينجسه لطهارته عندنا‘‘ ترجمہ: انسان اور مُردار کے بال، ہڈیاں پاک ہیں، ان کو پانی کی بحث میں اس چیز کا فائدہ دینے کے لیے ذکر کیا ہے کہ جب یہ پانی میں گِر جائیں، تو ہمارے نزدیک پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ (البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، جلد 1، صفحہ 112، مطبوعہ بیروت)
اور اس سے پانی مستعمل بھی نہیں ہو گا۔ یہ حکم مع علت بحر الرائق میں کچھ یوں مذکور ہے: ”لو وصلت شعر آدمي الى ذؤابتها فغسلت ذلك الشعر الواصل لم يصر الماء مستعملا ولو غسل راس انسان مقتول قد بان منه صار الماء مستعملا لان الراس اذا وجد مع البدن ضم الى البدن وصلي عليه فيكون بمنزلة البدن والشعر لا يضم مع البدن فبالانفصال لم يبق له حكم البدن فلا تكون غسالته مستعملة، قال الولوالجي في فتاويه: وهذا الفرق ياتي على الرواية المختارة ان شعر الآدمي ليس بنجس“
ترجمہ: (پہلا مسئلہ)اگر عورت نے آدمی کے بال اپنی چوٹیوں میں ملائے پھر ان ملائے گئے بالوں کو دھویا تو پانی مستعمل نہیں ہوگا۔ (دوسرا مسئلہ) اور اگر کسی نے قتل کیے ہوئے انسان کا کٹا ہوا سر دھویا تو پانی مستعمل ہو جائے گا کیونکہ جب سر موجود ہو تو اسے بدن کے ساتھ ملا کر اس پر نماز پڑھی جائے گی تو سر بدن ہی کے مرتبہ میں ہے، جبکہ بال کو بدن کے ساتھ نہیں ملایا جاتا تو جدا ہونے کی وجہ سے اس کے لیے بدن والا حکم باقی نہ رہا لہذا اس کا غسالہ مستعمل نہیں ہوگا، ولوالجی نے اپنے فتاوی میں کہا: یہ فرق اس روایت مختارہ کے مطابق ہے جس میں ہے کہ آدمی کا بال نجس نہیں ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، جلد 1، صفحہ 96، مطبوعہ بیروت)
البتہ بال پر (غلیظہ یا خفیفہ) نجاست لگی ہو، تو قلیل پانی ناپاک ہو جائے گا۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ’’اگر پانی (کی) مقدار کثیر (دہ در دہ) سے کم ہے، تو البتہ کتنی ہی ذرا سی نجاست اگرچہ خفیفہ کے گرنے یا کسی ایسے شخص کے نہانے سے جس کے بدن پر کچھ بھی نجاست حقیقیہ لگی تھی، ضرور بالاتفاق ناپاک ہو جائے گا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 249، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6956
تاریخ اجراء: 09 شوال المکرم 1443ھ/11 مئی 2022ء