logo logo
AI Search

ٹیٹو بنوانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جسم پر ٹیٹو بنا ہو تو وضو و غسل کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جسم پر بعض لوگ سوئی یا مشین سے کھودائی کروا کر سرمہ وغیرہ بھروا کر جسم پر مختلف جانوروں کے ٹیٹو بنواتے ہیں، شرعی رہنمائی درکار ہے کہ اس طرح کرنا کیسا ہے؟ اگر کسی نے بنوا لیا ہو تو اب اس کو ختم کروانا ضروری ہے یا نہیں جبکہ اب وہ جلد کے اندر جاچکا ہے، اسے ختم کرنے کے لیے دوبارہ جلد کی چیر پھاڑ کرنی پڑے گی؟ اس ٹیٹو کی موجودگی میں اس کا وضو ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

اپنے جسم پرسوئی یا مشین سے کھودائی کروا کر، اس میں سرمہ وغیر ہ بھروا کر اس سے مختلف جانوروں وغیرہ کا ٹیٹو بنوانا، ناجائز و حرام ہے، کہ یہ کئی حرام افعال کامجموعہ ہے: جیسے:

(1) یہ اللہ عزوجل کی پیداکی ہوئی شے میں ردوبدل کرناہے ۔

(2) اپنے جسم کو بلاوجہ شرعی ایذا دینا ہے۔

(3) جاندار کی تصویر بنانا، ناجائز و حرام ہے۔ اور ان سب کاموں سے شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے۔

نیز اگر کسی نے جسم پر ٹیٹو بنا لیا ہو تو اگر دوائی وغیرہ کسی علاج سے اسے ختم کرنا ممکن نہ ہو بلکہ کھال کی چیر پھاڑ کرنی پڑے گی یا زخم لگانے کی ضروت پڑے گی تو اسے ختم نہ کیا جائے کہ شریعت مطہرہ اسے اس چیز کا مکلف نہیں بناتی۔ اس صورت میں گناہ سے بری ہونے کے لیے سچی توبہ کافی ہے۔ اور رہی بات اس ٹیٹو کی موجودگی میں اس کے وضو کی تو اس صورت میں وضو ہوجائے گا کیونکہ ٹیٹو میں موجود سرمہ یا نیل تو جلد کے نیچے گوشت میں داخل ہوچکا ہوتا ہے اور جلد کا وہ حصہ جس کو دھونا فرض ہے اس پر ٹیٹو کا صرف رنگ اور اثر ظاہر ہوتا ہے، اس کا کوئی جرم و عین موجود نہیں ہوتا اور محض رنگ جسم تک پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتا، جیسا کہ مہندی کی رنگت مانع وضو و غسل نہیں۔

تغییر لخلق اللہ شیطانی کام ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے ﴿وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ عزوجل کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے۔ (پارہ 5، سورہ نساء، آیت 119)

اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر قرطبی، جلد 5، ص 392، تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 428 اور تفسیر ابن عطیہ میں ارشاد فرمایا ”قال ابن مسعود و الحسن: ھی إشارۃ إلی الوشم و ما جری مجراہ من التصنع للحسن“ ترجمہ: ابن مسعود اور حسن رضی اللہ عنھما نے ارشاد فرمایا: یہ گودنے کی طرف اشارہ ہے اور جو اس کے قائم مقام حسن حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ (تفسیر ابن عطیۃ، جلد 2، صفحہ 114، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صحیح بخاری میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”لعن اللہ الواشمات و المستوشمات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کھال گودنے اور گدوانے والی، ابروکے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لئے دانتوں میں مصنوعی فاصلہ بنانے والی اور بناوٹ خداوند میں رد و بدل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرماتا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، جلد 2، صفحہ 404، مطبوعہ لاہور)

علامہ بدرالدین عینی رحمۃاللہ علیہ عمدۃ القاری میں اس حدیث کے الفاظ (الواشمات) کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: و ھو غرز إبرۃ أو مسلۃ و نحوھمافی ظھر الکف أو المعصم أو الشفۃ و غیر ذلک من بدن المرأۃ حتی یسیل منہ الدم ثم یحشی ذلک الموضع بکحل أو نورۃ ۔ ۔ ۔ ۔ و سواء فی ھذا کلہ الرجل و المرأۃ۔ ملتقطاً“ یعنی سوئی وغیرہ کو ہتھیلی یا کلائی کی پشت یا ہونٹ وغیرہ عورت کے بدن کے کسی حصہ پر گاڑنا حتی کہ اس سے خون بہنا شروع ہوجائے پھر اس جگہ کو سرمہ یا نورہ وغیرہ کے ذریعے بھردیا جائے . . . . . اور ان تمام باتوں میں مرد و عورت برابر ہیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب التفسیر القرآن، جلد 19، صفحہ 225، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

بلا اجازت شرعی انسا ن کا خود اپنے آپ کو تکلیف و ایذاء دینا بھی گناہ ہے، چنانچہ علامہ قسطلانی رحمۃاللہ علیہ ارشاد الساری لشرح البخاری میں فرماتے ہیں: ”أن جنایۃ الإنسان علی نفسہ کجنایتہ علی غیرہ فی الإثم لأن نفسہ لیست لہ ملکا مطلقا بل ہی للہ فلا یتصرف فیہا إلا فیما أذن فیہ“ ترجمہ: بے شک انسان کی اپنے نفس پر زیادتی گناہ ہے جیسا کہ دوسرے پر زیادتی گناہ ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مطلقاً مالک نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے پس اس میں وہی تصرف جائز ہے جس کی اجازت دی گئی ہے۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری، ج 14، ص 72، دار الفکر، بیروت)

بلا وجہ شرعی جاندار کی تصویر بنانا و بنوانا یہ بھی حرام ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں ہے :قال:سمعت النبي صلى اللہ عليه و سلم يقول: «إن أشد الناس عذابا عند اللہ يوم القيامة المصورون»ترجمہ:حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب والے وہ ہیں جو تصویر بنانے والے ہیں۔ (صحیح البخاری، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، ج 7، ص 167، دار طوق النجاۃ)

علامہ علی بن سلطان القاری رحمۃاللہ علیہ مرقاۃ میں فرماتے ہیں: و إنما نهي عنه لأنه من فعل الفساق و الجهال، و لأنه تغيير خلق اللہ ۔ ۔ و في تعليق الفراء أنه يزال الوشم بالعلاج، فإن لم يمكن إلا بالجراح لا يجرح و لا إثم عليه بعد التوبة۔ ملتقطاً“ ترجمہ: اور بیشک نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے گودنے اور گدوانے سے منع فرمایا کیونکہ یہ فساق و جہال کا کام ہے۔ اور کیونکہ یہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ چیزوں میں تبدیلی کرنا ہے۔ اور فراء کی تعلیق میں ہے کہ گودنے کو علاج کے ساتھ زائل کیا جائے پھر اگر زخم لگائے بغیر اس کا علاج ممکن نہ ہوتو زخم نہ لگایا جائے اور توبہ کے بعد کوئی گناہ نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 5، صفحہ 1895، مطبوعہ بیروت)

علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں: و قد صرح به في القنية فقال: و لو اتخذ في يده وشما لا يلزمه السلخ“ترجمہ:قنیہ میں اس کی تصریح ہے کہ اگر کسی نے اپنے ہاتھ پر گودائی کی تو اسے اکھیڑنا لازمی نہیں۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 591، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: یہ غالبا خون نکال کر اسے روک کر کیا جاتاہے جیسے نیل گدوانا، اگریہی صورت ہو تو اس کے ناجائز ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے تو سوا توبہ و استغفار کے کیا علاج ہے مولی تعالی عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 387، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ٹیٹو کے بارے میں علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں: نقول: إن ما تداخل في اللحم لا يؤمر بغسله كما لو تشربت النجاسة في يده مثلا، و ما على سطح الجلد مثل الحناء و الصبغ“ ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ جو چیز گوشت میں داخل ہوگئی، اس کو دھونے کا حکم نہیں دیا جائے گا جیسا کہ اگر نجاست مثلا ہاتھ میں سرایت کرجائے اور جو چیز جلد کے اوپر ہے تو وہ مہندی اور رنگ کی مثل ہے۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد 1، صفحہ 591، مطبوعہ کوئٹہ)

اسی میں ہے "فالمراد بذی الجرم ما تشاهد بالبصر ذاته لا اثره" ترجمہ: پس جرم والی چیز سے مراد وہ ہے جس کی ذات کا آنکھ سے مشاہدہ کیا جاسکے نہ کہ اس کے اثر کا۔ (رد المحتار، جلد 1، صفحہ 318، دار الفکر، بیروت)

اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ جد الممتار میں ارشاد فرماتے ہیں: اقول: بل ھو مفاد المتن، لأن الحقیقۃ فی الحناء ھو الجرم، و لأن منع مجرد اللون لا یذھب الیہ وھم“ ترجمہ: میں کہتا ہوں: متن میں حنا ء سے خود جرم ہی مراد و مفاد ہے کیونکہ مہندی میں وضو کے حوالہ سے کلام مہندی کے جرم کے بارے میں ہی ہے اس لئے کہ محض مہندی کے رنگ کے مانعِ وضو ہونے کی طرف تو وہم بھی نہیں جاتا۔ (جد الممتار، جلد 1، صفحہ 223، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-620
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاخر 1444ھ / 28 اکتوبر 2022ء