گوبر ملی مٹی کے پانی کے چھینٹوں کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مٹی میں گوبر مکس ہو تو اس کی پاکی و ناپاکی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مٹی میں گائے کا گوبر ڈالتے ہیں، پھر پانی لگتا ہے اور پانی کے چھینٹے کپڑوں پر پڑتے ہیں، کیا ان کپڑوں میں نماز ہو جائے گی؟
جواب
مٹی میں گائے، بھینس وغیرہ کا جو گوبر ڈالا جاتا ہے، وہ ناپاک (نجاستِ غلیظہ) ہوتا ہے، البتہ اس کے حکم کی دو صورتیں ہیں:
(1) جب تک اس گوبر کی اصل ماہیت و حقیقت تبدیل ہوکر وہ مٹی نہیں بن جاتا، تب تک وہ ناپاک ہی رہے گا اور اس پر لگنے والا پانی بھی ناپاک ہوجائے گا۔ اب اگر وہ ناپاک پانی کپڑوں پر لگ جائے، تو اُن کپڑوں میں نماز پڑھنے کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ
· اگر وہ ناپاک پانی کپڑوں پر درہم کی مقدار سے زیادہ لگ جائے، تو ان کپڑوں کو پاک کرنا فرض ہے کہ پاک کیے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں۔
· اور اگر ناپاک پانی درہم کی مقدار کے برابر لگے، تو اس کا پاک کرنا واجب ہے کہ پاک کیے بغیر نماز پڑھی، تو اس نماز کو دہرانا واجب ہوگا اور مذکورہ دونوں صورتوں میں جان بوجھ کر ان کپڑوں میں نماز پڑھنا گناہ بھی ہوگا ۔
· اور اگر درہم کی مقدار سے کم لگے، تو پاک کرنا سنت ہےکہ پاک کیے بغیر نماز پڑھی، تو نماز ہوجائے گی، مگر خلافِ سنت ہوگی اور ایسی نماز کو دہرانا بہتر ہے۔
یاد رہے کہ یہاں درہم کی مقدار سے مراد ہتھیلی کی گہرائی کے برابر ہے یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے، اُتنا درہم سمجھا جائے گا۔
(2) البتہ اگر اس گوبر کی اصل ماہیت ہی تبدیل ہوجائے اور وہ مٹی بن جائے، تو اس صورت میں اس کی حقیقت بدل جانے کی وجہ سے حکم بھی تبدیل ہوجائے گا اور اب وہ پاک شمار ہوگا۔اس حالت میں اگر اس پر پانی پڑے اور چھینٹیں کپڑوں کو لگیں، تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے اور ان کپڑوں میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
گوبر کے ناپاک ہونے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے: ”وألقى الروثة، وقال: هذا ركس“ ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لید کو پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ گندگی ہے۔ (صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 43، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)
گوبر کے نجاستِ غلیظہ ہونے کے متعلق مجمع الانہر میں ہے: ”(من نجس مغلظ ...الروث والخنثى) ...وقد ورد في نجاستهما نص وهو ما روي عن النبي ﷺ أنه رمى بالروثة وقال: هذا رجس أو ركس“ ترجمہ: گوبر اور لید نجاستِ غلیظہ ہیں اور ان کے نجس ہونے پر نص موجود ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لید کو پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ ناپاکی اور گندگی ہے۔ (مجمع الانھر، جلد 1، کتاب الطھارۃ، باب الانجاس، صفحہ 62، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)
امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ لکھتے ہیں: ”گملوں میں ڈالی جانے والی کھاد (Fertilizer) میں گائے وغیرہ کا گوبر (Dung) شامل ہوتا ہے جو ناپاک ہے اور یہ گوبر ساری کھاد کو بھی ناپاک کر دیتا ہے، نیز اس گوبر کے مٹی ہوجانے سے پہلے جو پانی اس میں ڈالا جاتا ہے، وہ بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔ اس پانی کے باہر نکلنے کے لیے گملوں کے نیچے سوراخ ہوتا ہے، تو جب تک گملوں کی کھاد پوری طرح مٹی نہیں ہوجاتی اس میں سے نکلنے والا پانی نجس ہوگا اس سے اپنے بَدن اور کپڑوں کو بچانا ضَروری ہے۔ (درخت لگائیے ثواب کمائیے، صفحہ 15-16، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
نجاستِ غلیظہ لگ جانے کی صورت میں نماز کے حکم کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ”النجاسة إن كانت غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة“ ترجمہ: نجاست جب غلیظہ ہو اور درہم سے زائد ہو، تو اسے دھونا فرض اور اس کے ساتھ نماز باطل ہے اور اگر درہم کے برابر لگی ہو، تو اسے دھونا واجب ہے اور اس کے ساتھ نماز ہوجائے گی (یعنی فرض ادا ہوجائے گا) اور اگر درہم سے کم مقدار ہو، تو اسے دھونا سنت ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 58، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: نَجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے، تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہو گئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔ ۔۔شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار تقریباً یہاں کے روپے کے برابر ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 389، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
ناپاک چیز کی اصل ماہیت بدلنے سے پاک ہوجانے کے متعلق تبیین الحقائق میں ہے: ”والأعيان النجسة تطهر بالاستحالة عندنا وذلك مثل الميتة إذا وقعت في المملحة فاستحلت حتى صارت ملحا والعذرة إذا صارت ترابا أو أحرقت بالنار وصارت رمادا فهي نظير الخمر إذا تخللت۔۔۔فإنه يحكم بطهارتها للاستحالة“ ترجمہ: ہمارے نزدیک ناپاک چیزیں استحالہ (یعنی حقیقت کے بدل جانے) سے پاک ہو جاتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر مردار نمک کی کان میں گر جائے اور وہ تبدیل ہو کر نمک بن جائے یا پاخانہ مٹی بن جائے یا اسے آگ میں جلا دیا جائے اور وہ راکھ بن جائے ، تو یہ اس شراب کی طرح ہیں، جو سرکہ بن جائے کہ حقیقت بدل جانے کی وجہ سے ان کے پاک ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 76، مطبوعہ المطبعة الكبرى الأميرية، القاهرة)
مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1403ھ/1982ء) لکھتے ہیں:”ہر شے قلبِ ماہیت کے بعد پاک ہوجاتی ہے۔“ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 697، مطبوعہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ، بصیرپور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10110
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء