logo logo
AI Search

گرمیوں کے دانوں سے نکلنے والے پانی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گرمیوں میں جو دانے نکلتے ہیں، ان سے نکلنے والے پانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

گرمیوں میں جو دانے نکلتے ہیں، اگر وہ پھٹ جائیں، یعنی ان میں سے پانی نکلے، تو کیا وہ پانی ناپاک ہوگا؟ اور نماز کا کیا حکم ہو گا ؟اور کیا پانی لگنے سے کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے ؟

جواب

دانوں سے نکلنے والا پانی اگر نکل کر دانوں کے سرے سے ڈھلک جائے، یا ڈھلکنے سے پہلے صاف کر لیا گیا، لیکن ظن غالب ہے کہ اگر صاف نہ کیا جاتا، اس کا راستہ کھلا رکھا جاتا، تو ڈھلک جاتا، تو اس سے وضو بھی ٹوٹ جائے گا، اور وہ پانی نجاستِ غلیظہ ہوگا، کہ انسانی بدن سے نکلنے والی ایسی چیز جس سے وضو یا غسل ضروری ہو، وہ نجاستِ غلیظہ ہے، لہذا وہ پانی جسم یا لباس کے جس حصے پر لگے گا، اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا۔

اور اگر پانی دانوں ہی میں موجود رہے، باہر نہ نکلے، یا پھر پانی کی بوند تو چمکے، لیکن دانوں کے سرے سے نیچے نہ ڈھلکے، اور نہ اس میں ڈھلکنے کی صلاحیت ہو، تو اگرچہ بار بار کپڑا لگ کر کتنا ہی سن جائے، تو نہ اس سے وضو ٹوٹے گا، اور نہ یہ ناپاک قرار پائے گا، بلکہ اگر مختلف جلسوں میں نکلنے والا اتنا تھا کہ اگر اس سارے کو جمع کیا جائے، تو بہنے کی مقدار ہو جائے لیکن ایک جلسے میں جتنا نکلا، وہ بہنے کی مقدار برابر نہیں تھا، تو تب بھی نہ اس سے وضو جائے، اور نہ یہ ناپاک قرار پائے گا۔ ہاں! اگر ایک جلسے میں ایسا ہوا، کہ جتنا نکلا، صاف کر دیا، لیکن اگر اسے صاف نہ کیا جاتا، تو ڈھلک جاتا، تو ایسی صورت میں یہ ناپاک ہے، اور اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

منیۃ المصلی، ہدایہ، فتاوی ہندیہ وغیرہ کتبِ فقہیہ میں ہے "وإن قشرت نفطة وسال منها ماء أو صديد أو غيره إن سال عن رأس الجرح نقض و إن لم يسل لا ينقض" ترجمہ: اور اگر چھالہ نوچا گیا، اور اس سے پانی، یا پیپ، وغیرہ، نکلی، تو اگر وہ زخم کے سرے سےنکل کر بہہ گئی، تو وضو ٹوٹ گیا، اور اگرنہ بہی، تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 13، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ”ماء“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "و الظاھر المتبادر من ماء النفطۃ وھو الدم الذی نضج فرق فاشبہ الماء" (یعنی اس سے ظاہر متبادر آبلہ کا پانی ہے اور یہ وہ خون ہے جو پک کر رقیق ہوگیا، تو پانی جیسا بن گیا۔) (فتاوی رضویہ، جلد 1(الف)، صفحہ 484، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”چھالا نوچ ڈالا، اگر اس میں کا پانی بہ گیا وضو جاتا رہا ورنہ نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 305، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

 البحر الرائق میں ہے ”كل ما يخرج من بدن الانسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد“ یعنی بدنِ انسانی سے نکلنے والی ہر وہ چیز جس کا نکلنا وضو یا غسل کو واجب کرے، تو وہ نجاستِ غلیظہ ہے جیسے پاخانہ، پیشاب، منی، مذی، ودی، پیپ اور کچ لہو۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 399، مطبوعہ: کوئٹہ)

 امامِ اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”خون و ریم اس کے باطن سے تجاوز کر کے اس کے منہ پر رہ جائے، منہ سے اصلاً تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تک دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں، اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے، اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں۔ یہ صورت بالاجماع ناقضِ وضو نہیں، نہ اس خون و ریم کے لئے حکمِ ناپاکی ہے کہ مذہبِ صحیح و معتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں، ولہذا اگر خارش کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چپک پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اس چپک سے سارا کپڑا بھر گیا ناپاک نہ ہوگا۔۔۔۔ اور اسی حکم میں داخل ہے یہ کہ خون یا ریم اُبھرا اور فی الحال اس میں قوتِ سیلان نہیں اُسے کپڑے سے پونچھ ڈالا دوسرے جلسے میں پھر اُبھرا اور صاف کر دیا یوں ہی مختلف جلسوں میں اتنا نکلا کہ اگر ایک بار آتا ضرور بہہ جاتا تو اب بھی نہ وضو جائے نہ کپڑا ناپاک ہو کہ ہر بار اُتنا نکلا ہے جس میں بہنے کی قوت نہ تھی۔ ہاں جلسہ واحدہ میں ایسا ہوا تو وضو جاتا رہے گا کہ مجلس واحد کا نکلا ہوا گویا ایک بار کا نکلا ہوا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1( الف)، صفحہ 370، 371، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "زخم سے خون وغیرہ نکلتا رہا اور یہ بار بار پونچھتا رہا کہ بہنے کی نوبت نہ آئی تو غور کرے کہ اگر نہ پونچھتا تو، بہ جاتا یا نہیں اگر بہ جاتا تو وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔ یوہیں اگر مٹی یا راکھ ڈال ڈال کر سکھاتا رہا اس کا بھی وہی حُکْم ہے۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 305، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5072
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 04 جون 2026ء