بلی کا تھوک پاک ہے یا ناپاک؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا بلی کا تھوک پاک ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا بلی کا تھوک پاک ہے؟
جواب
ہر جاندار کے لعاب کا وہی حکم ہے جو اُس کے جوٹھے کا حکم ہے۔ اصح قول کے مطابق بلی کا جوٹھا پاک اور مکروہِ تنزیہی ہے لہٰذا اس کے لعاب کا بھی یہی حکم ہے۔
بلی کے جوٹھے کے متعلق تنویر الابصار مع الدر المختار وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے: (و سواكن بيوت) طاهر للضرورة (مكروه) تنزيها فی الأصح“ یعنی گھرمیں رہنے والے جانوروں کا جوٹھا ضرورتاً پاک ہے، اور اصح قول کے مطابق کراہت تنزیہی ہے۔
رد المحتار میں (طاهر للضرورة) کے تحت ہے: بيان ذلك أن القياس في الهرة نجاسة سؤرها؛ لأنه مختلط بلعابها المتولد من لحمها النجس، لكن سقط حكم النجاسة اتفاقا بعلة الطواف المنصوصة بقوله صلى اللہ عليه وسلم إنها ليست بنجسة، إنها من الطوافين عليكم والطوافات أخرجه أصحاب السنن الأربعة وغيرهم، و قال الترمذي حسن صحيح؛ يعني أنها تدخل المضايق و لازمه شدة المخالطة بحيث يتعذر صون الأواني منها، و في معناها سواكن البيوت للعلة المذكورة، فسقط حكم النجاسة للضرورة و بقيت الكراهة لعدم تحاميها النجاسة
یعنی اس کی تفصیل یہ ہے کہ قیاس کے مطابق تو بلی کا جوٹھا ناپاک ہے کہ وہ اس کے لعاب سے ملا ہوتا ہے اور بلی کا لعاب اس کے ناپاک گوشت سے بنتا ہے، لیکن بلی کے بار بار گھر آنے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان یہ نجس نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بہت زیادہ آنے والوں میں سے ہے کی وجہ سے بالاتفاق نجاست کا حکم ساقط ہوگیا۔ اس حدیث کو چاروں اصحابِ سنن وغیرہ نے نقل کیا اور امام ترمذی نے فرمایا کہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یعنی بلی تنگ جگہوں میں داخل ہو جاتی ہے جس کا لازم یہ ہے کہ بلی سے برتنوں کو بچانا متعذر ہے۔ مذکورہ علت کی وجہ سے بلی کے حکم میں تمام گھر میں رہنے والے جانور داخل ہیں۔ تو ضرورت کی بنا پر نجاست کا حکم ساقط ہو گیا اور بلی کے نجاستوں سے نہ بچنے کی وجہ سے کراہت باقی ہے۔ (رد المحتار مع در المختار، کتاب الطھارۃ، ج 01، صفحہ 224، مطبوعہ بیروت)
ہر جاندار کے لعاب (تھوک) کا وہی حکم ہے کہ جو اُس کے جوٹھے کا حکم ہے۔ جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: جس کا جوٹھا ناپاک ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی ناپاک ہے اور جس کا جوٹھا پاک اس کا پسینہ اور لعاب بھی پاک اور جس کا جوٹھا مکروہ اس کا لعاب اور پسینہ بھی مکروہ۔ (بہارِ شریعت، ج 01، ص 344، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید ایک دوسرے مقام پر صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جوٹھا مکروہ ہے۔ اگر کسی کا ہاتھ بلّی نے چاٹنا شروع کیا تو چاہیے کہ فوراً کھینچ لے، یوہیں چھوڑ دینا کہ چاٹتی رہے مکروہ ہے اور چاہیے کہ ہاتھ دھو ڈالے بے دھوئے اگر نماز پڑھ لی تو ہو گئی مگر خلافِ اَولیٰ ہوئی۔ (بہارِ شریعت، ج 01، ص 343، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2456
تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1447ھ / 12 ستمبر 2025ء