بہتی پیپ ناپاک ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دانے وغیرہ سے نکلنے والی کون سی پیپ ناپاک ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بہتی پیپ سے کیا مراد ہے؟ اگر جسم سے تھوڑی پیپ نکلے جیسے کبھی دانے سے نکلتی ہے کہ اگر اسے حرکت دو تو اپنی جگہ سے ہل تو رہی ہوتی ہے لیکن لیکویڈ بن کے اپنی جگہ سے بہہ نہیں رہی ہوتی، تو کیا وہ پاک ہوتی ہے؟
جواب
خون یا پیپ جسم کے کسی حصے سے بہہ کر ایسی جگہ پہنچ جائے جس جگہ کو وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہےاور یہ نکلنے والا خون یا پیپ ناپاک یعنی نجاستِ غلیظہ ہوتا ہے۔ بہنے سے مراد یہ ہے کہ خون یا پیپ اپنی جگہ سے نکل کر اُبھرے اور پھر زخم کی جگہ سے نیچے ڈھلک جائے۔ لہذا اگر خون اپنی جگہ سے نکلے ہی نہیں بلکہ کھال پھٹنے پر صرف نظر آنے لگے، یا اپنی جگہ سےنکل کر جسم کی سطح، یا دانے کے منہ سے اوپر ایک ببولے کی صورت اختیار کرجائے کہ حرکت دینے سے ہل تو رہا ہو، مگر اپنی جگہ سے آگے کی طرف ڈھلکے نہیں بلکہ وہیں رُکار ہے، تو ان صورتوں میں وہ خون یاپیپ بہا نہیں، لہذا پاک ہے اور وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں جب اپنی جگہ چھوڑ کر اس سے ڈھلک جائے گا، تو وضو ٹوٹ جائے گا اور ناپاک بھی ہوگا۔
ہدایہ میں ہے: فإن قشرت نقطة فسال منها ماء أو صديد أو غيره إن سال عن رأس الجرح نقض وإن لم يسل لا ينقض‘‘ ترجمہ: اگر کوئی آبلہ پھٹا اور اس سے پانی، یاخون ملا پیپ وغیرہ نکلا، تو اگر وہ زخم سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر نہ بہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (الھدایہ، جلد 1، فصل فی نواقض الوضوء، صفحہ 18، دار احياء التراث العربي، بيروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ما يخرج من غير السبيلين و يسيل إلى ما يظهر من الدم و القيح و الصديد و الماء لعلة وحد السيلان أن يعلو فينحدر عن رأس الجرح. كذا في محيط السرخسي و هو الأصح. كذا في النهر الفائق. الدم إذا علا على رأس الجرح لا ينقض الوضوء و إن أخذ أكثر من رأس الجرح. كذا في الظهيرية و الفتوى على أنه لا ينقض وضوءه في جنس هذه المسائل. كذا في المحيط‘‘ ترجمہ: غیر سبیلین (پیشاب اور پاخانہ کے راستوں کے علاوہ) سے جو نجاست نکلے اور ظاہری جسم پربہہ جائے، یعنی خون، پیپ، خون ملا پیپ اور بیماری کی وجہ سے نکلنے والا پانی ۔ بہنے کی حد یہ ہے کہ وہ اوپر آئے پھر زخم کے سرے سے نیچے کی طرف بہہ جائے۔ اسی طرح محيط سرخسی میں ہے اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ نہر الفائق میں بھی اسی طرح ہے۔ اگر خون زخم کے سرے پر اوپر ہی رہے تو وہ وضو کو نہیں توڑتا، چاہے وہ زخم کے منہ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ ظہیریہ میں بھی اسی طرح ہے، اور فتویٰ بھی اسی پر ہے کہ اس قسم کے مسائل میں وضو نہیں ٹوٹتا۔ محيط میں بھی یہی بات مذکور ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 10، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتےہیں: خون و ریم (پیپ) اس کے باطن سے تجاوز کرکے اس کے منہ پر رہ جائے، منہ سے اصلاً تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تک دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں، اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں۔ یہ صورت بالاجماع ناقضِ وضو نہیں، نہ اس خون و ریم کے لئے حکم ناپاکی ہے کہ مذہبِ صحیح و معتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ۔ ۔ ۔ (البتہ) اُبھر کر ڈھلک بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہٖ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلک جاتا ۔ ۔ ۔ یہ شکل (یعنی یہ صورت) ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقضِ وضو ہے اور کپڑا قدر درم سے زائد بھرے تو ناپاک۔ ملتقطاً (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ: الف، صفحہ 370، 372، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے: خون یا پیپ یا زرد پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا۔ اگر صرف چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یا خِلال کیا یا مِسواک کی یا اُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایا، یا ناک میں اُنگلی ڈالی اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تووُضو نہیں ٹوٹا۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 304، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1194
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء