logo logo
AI Search

وکیل صدقے کے پیسے خود رکھ سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وکیل کا صدقے کے پیسے خود رکھ لینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مجھے میرے بھائی نے بیرون ملک سے نفلی صدقے کے پیسے بھیجے ہیں، کہ انہیں صدقہ کر دینا۔ کیا انہیں اپنے تصرف میں لا سکتا ہوں ؟

جواب

اگر بھائی نے صرف اتنا کہا ہےکہ "انہیں صدقہ کر دینا" عموم والے الفاظ نہیں بولے، یعنی اس طرح نہیں کہا کہ: "جہاں چاہو، یا جہاں مناسب سمجھو دے دو، وغیرہ" تو ایسی صورت میں وہ رقم آپ نے نہیں رکھ سکتے۔ بدائع الصنائع میں ہے ”الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل فيملك قدر ما افاده ولا يثبت العموم الا بلفظ يدل عليه وهو قوله: اعمل فيه برايك وغير ذلك مما يدل على العموم“ ترجمہ: وکیل وہی تصرف کرسکتا ہے جو اسے مؤکل کی جانب سے دیا گیا ہو، لہٰذا وہ اُتنا ہی اختیار رکھتا ہے جتنا اُسے دیا گیا ہے اور عمومی اختیار اُس وقت ہی ثابت ہوگا جب کوئی ایسا لفظ موجود ہو جو اس پر دلالت کرے، جیسے مؤکل یہ کہے: اس میں اپنی رائے کے مطابق کام کرو یا اس جیسا کوئی اور جملہ جو عمومی اجازت پر دلالت کرے۔ (بدا ئع الصنائع، ج 5، ص 29، مطبوعہ: کوئٹہ)

در مختار میں ہے "وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها: ضعها حيث شئت" ترجمہ: وکیل کے لیے اپنی فقیر اولاد اور زوجہ کو زکوۃ دینا جائزہے، اپنے لیے رکھنا جائز نہیں، مگر جب مؤکل یہ کہےکہ اسے جہاں چاہو دے دو (تو پھر اپنے آپ کو بھی دےسکتا ہے)۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 224، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ "زید نے بکر کو کچھ دیا اور کہا اس کو مساکین کو جہاں مناسب سمجھو دے دیجیو، اگر زید خود اس کا مصرف ہو، اپنے اوپر اس کو صرف کر سکتا ہے یا نہیں؟"

تو جواباً ارشاد فرمایا: "جس کے مالک نے اُسے اذنِ مطلق دیا کہ جہاں مناسب سمجھو، دو، تو اسے اپنے نفس پر بھی صرف کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ یہ اس کا مصرف ہو۔ ہاں! اگر یہ لفظ نہ کہے جاتے، اُسے اپنے نفس پر صَرف کرنا، جائز نہ ہوتا، مگر اپنی یا اولاد کودے دینا جب بھی جائز ہوتا، اگر وُہ مصرف تھے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 10، ص 158، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے، ہاں اگر زکوٰۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو، تو لے سکتا ہے۔" (بہارِ شریعت، ج 1، حصہ 5، ص 888، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5069
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 04 جون 2026ء