نمازوں کا فدیہ مسجد میں دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
فوت شدہ شخص کی نمازوں کا فدیہ مسجد میں دیں یا کہیں اور؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
مرحوم کی نمازوں کا فدیہ مسجد میں نہیں دے سکتے، شرعی فقیر وغیرہ کسی مصرفِ زکوٰۃ کو ہی دینا لازم ہوگا۔ کیونکہ اس کے مصارف وہی ہیں، جو زکوٰۃ، فطرہ وغیرہ صدقاتِ واجبہ کے ہیں۔ ہاں شرعی فقیر لینے کے بعد اگر خود اپنی مرضی سے مسجد میں دے دے تو اس میں حرج نہیں۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: میت کی طرف سے نمازو روزہ کافدیہ اس کے مستحق کون کون اشخاص ہیں؟ سیّد کودے سکتے ہیں یا نہیں؟ اقربا میں جو لوگ غریب ہیں ان کو دینے کا حکم ہے یا نہیں؟ گھر کے نوکر چاکر کو اگر دیں اور مشاہرہ یا کھانے میں وضع نہ کریں تو جائز ہے یا نہیں؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: مصرف اس کا مثل مصرفِ صدقہ فطر و کفارہ یمین و سائر کفارات و صدقاتِ واجبہ ہے بلکہ کسی ہاشمی مثلاً شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے۔ غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کونہیں دے سکتے، کافر کونہیں دے سکتے، جو صاحبِ فدیہ کی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی، یا صاحبِ فدیہ جس کی اولاد میں جیسے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، انہیں نہیں دے سکتے، اور اقربا مثلاً بہن، بھائی ، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، ان کو دے سکتے ہیں جبکہ اور موانع نہ ہوں، یونہی نوکروں کو جبکہ اجرت میں محسوب نہ کریں۔ ۔ ۔ صدقاتِ واجبہ زوجین کو بھی نہیں دے سکتے۔ اقول: فدیہ نماز و روزہ جب بعدِ مرگ دیا جائے تو مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ زوجہ کا فدیہ شوہر فقیر کو فوراً اور شوہر کا زوجہ فقیرہ کو بعد عدت گزرنے کے دینا جائز ہو کہ اب زوجیت نہ رہی اور شوہر زوجہ کے مرتے ہی اجنبی ہو جاتا ہے و لہٰذا اسے مَس جائز نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 528، رضافاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2539
تاریخ اجراء: 10 ربیع الآخر 1446ھ / 14 اکتوبر 2024ء