logo logo
AI Search

نفلی صدقہ تقسیم کے لیے ملے تو خود رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کسی نے نفلی صدقہ ضرورت مندوں کو دینے کے لئے دیا ہو تو اسے خود رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مجھے کسی نے نفلی صدقہ کی رقم دی ہے کہ ضرورت مند افراد میں تقسیم کر دو۔ میں مقروض ہوں تو کیا اس رقم سے کچھ رقم لے سکتا ہوں یا اس کو بتا کر لینی ہوگی؟

جواب

دینے والے نے اگر آپ کو مطلق اجازت دے دی ہے کہ جہاں مناسب سمجھو ضرورت مند افراد میں دے دو اور آپ خود ضرورت مند ہیں تو بغیر بتائے اپنے لئے رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر اس طرح کی اجازت نہیں تو پھر اپنے لئے نہیں رکھ سکتے۔ اور سب سے بہتر یہ ہے کہ دینے والے کو اپنی ضرورت کے بارے میں بتا دیا جائے، اسے اعتماد میں لے کر ہی اپنے خرچ میں لایا جائے، اعتماد بحال رہنے میں یہ عمل معاون ثابت ہوگا، ورنہ بدگمانیاں جنم لے سکتی ہیں۔

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا: ”زید نے بکر کو کچھ دیا اور کہا اس کو مساکین کو جہاں مناسب سمجھو دے دیجیو، اگر زید خود اس کا مصرف ہو اپنے اوپر اس کو صرف کر سکتا ہے یا نہیں ؟“ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جس کے مالک نے اُسے اذنِ مطلق دیا کہ جہاں مناسب سمجھو، دو، تو اسے اپنے نفس پر بھی صرف کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ یہ اس کا مصرف ہو۔ ہاں اگر یہ لفظ نہ کہے جاتے اُسے اپنے نفس پر صَرف کرنا، جائز نہ ہوتا مگر اپنی یا اولاد کو دے دینا جب بھی جائز ہوتا اگر وُہ مصرف تھے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ، ج 10، ص 158، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2460

تاریخ اجراء: 22 ربیع الاوّل 1447ھ/16 ستمبر 2025ء