کیا اپنے استعمال شدہ کپڑے کسی غریب کو دے سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اپنے پہنے ہوئے کپڑے کسی اور کو دینا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اپنے استعمال شدہ کپڑے کسی غریب کو دے سکتے ہیں جبکہ وہ اچھی کنڈیشن میں ہیں اور واشنگ پاؤڈر سے دھوئے ہیں؟ کیا اس پر ثواب ملے گا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں عاقل بالغ شخص کا اپنے کپڑے کسی غریب کو دینا شرعاً جائز و باعثِ ثواب ہے
اپنے پرانے کپڑےکسی کو دینا بھی صدقہ ہے۔ چنانچہ سنن الترمذی میں ہے: ”عن أبی أمامة، قال: لبس عمر بن الخطاب، ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذی كسانی ما أواری به عورتی، وأتجمل به فی حياتی، ثم عمد إلى الثوب الذی أخلق فتصدق به، ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من لبس ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذی كسانی ما أواری به عورتی، وأتجمل به فی حياتی ثم عمد إلى الثوب الذي أخلق فتصدق به كان فی كنف الله وفی حفظ الله، وفی ستر الله حيا وميتا“ یعنی : حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی " الحمد لله الذی كسانی ما أواری به عورتی، وأتجمل به فی حياتی" (اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں)۔“ پھر ( آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے) جو کپڑے پرانے ہوگئے تھے،انہیں صدقہ کردیا،اور فرمایا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کہ جو نئے کپڑے پہن کر یہ دعا پڑھے " الحمد لله الذی كسانی ما أواری به عورتی، وأتجمل به فی حياتی " اور جو کپڑے پرانے ہوگئے تھے،انہیں صدقہ کردے تو وہ اللہ کی حفظ و امان اوراس کی طرف سے ستر پوشی میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی ۔(سنن الترمذی،رقم الحدیث 3560،ج 5،ص 558،مطبوعہ مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2621
تاریخ اجرا: 22جمادی الاولٰی1447ھ / 14 نومبر 2025ء