روزے میں کھانے کا ذائقہ محسوس ہو تو حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
روزے کی حالت میں حلق میں کھانے کا ذائقہ محسوس ہو تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بوقتِ سحری کسی چیز کو کھایا اور کھانے کے بعدکلی وغیرہ بھی کرلی، پھر سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد بحالتِ روزہ حلق میں اُس کھائی ہوئی چیز کا ذائقہ محسوس ہوا، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹا، کیونکہ یہ بعینہٖ وہی چیز نہیں، بلکہ اُس کھائی ہوئی چیز کا اثر ہے۔
علامہ بدر الدین عینی حنفی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’فما وجد في حلقه من طعمه إنما هو أثره لا عينه‘‘ ترجمہ: حلق میں جو کھانے کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے، وہ اُس چیز کا اثر ہوتا ہے، بعینہ وہی چیز نہیں۔ (البناية شرح الهداية، کتاب الصوم، ج 3، ص 643، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام فخر الدین زیلعی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’ما يجده في حلقه أثر الكحل لا عينه فلا يضره كمن ذاق الدواء و وجد طعمه في حلقه‘‘ ترجمہ: جو حلق میں محسوس ہوتا ہے وہ سُرمے کا اثر ہوتا ہے، بعینہ سُرمہ نہیں، پس یہ اثر روزے کو نُقصان نہیں پہنچاتا، جیسے کسی نے دوائی چکھی اور اُسکا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصوم، جلد 2، ص 170، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5434
تاریخ اجراء: 08 ربیع الاول 1448ھ / 22 اگست 2026ء