روزے کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کب کھلائیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
روزہ توڑنے پر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کے حکم کی تفصیل
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
روزے کے کفارے میں ساٹھ روزوں کی استطاعت وقدرت نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جس وقت وہ شخص کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے، اس وقت بڑھاپے یا کسی ایسے مرض کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتا، جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو یا روزے تو رکھ سکتا ہے لیکن پے در پے ساٹھ نہیں رکھ سکتاحالانکہ روزے کے کفارے میں پے در پے روزے رکھنا شرط ہے یا پے در پے ساٹھ روزے رکھنے سے مرض پیدا ہوجانے کا ظن غالب ہےبایں طورکہ اس کی کوئی واضح علامت ہے، یا سابقہ ذاتی تجربہ ہے یا کوئی ایسا مسلمان ڈاکٹر جو اپنے شعبے کا ماہر ہو،وہ بتادے تو شرعی طورپر اس شخص کو روزوں کی استطاعت و قدرت نہیں ہےبلکہ وہ روزے رکھنے کے ذریعے کفارے کی ادائیگی سے عاجز ہے لہذا وہ کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کر سکتا ہے۔
عند الشرع رمضان کا روزہ توڑنے کا وہی کفارہ ہے جوظہار میں ہوتا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أمر الذی أفطر یوما من رمضان بکفارۃ الظہار‘‘ ترجمہ: جس نے رمضان کا روزہ توڑ دیا تھا اس کو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے ظہار کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ (سنن دار قطنی، کتاب الصیام، باب القبلۃ للصائم، جلد 3، صفحہ 167، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے اور اگر اس پر قادر نہ ہو جیسے ہمارے دور میں کہ غلام وغیرہ نہیں ہیں تو کفارے کے طور پرپے درپےساٹھ روزے رکھے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو توساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کے دو وقت کھانا کھلائے، چنانچہ ظہار کا کفارہ بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاؕ- ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖؕ- وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿۳﴾ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاۚ- فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًاؕ-﴾ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بڑی بات کہہ چکے تو ان پر لازم ہے ایک بردہ آزاد کرنا قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔پھر جسے بردہ نہ ملے تو لگاتار دو مہینے کے روزے قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا۔ (پ 28، سورۃ المجادلۃ، آیت 3 – 4)
مذکورہ بالا آیت کے تحت ساٹھ روزوں کی استطاعت نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے التفسیرات الاحمدیۃ فی بیان الآیات الشرعیۃ میں علامہ احمد بن ابوسعید المعروف ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”فمن لم یستطع الصیام اصلاً او استطاع ولم یستطع التتابع لھرم او مرض ۔۔ فالواجب علیہ اطعام ستین مسکینا“ترجمہ:پس جو کوئی روزوں کی بالکل استطاعت نہ رکھتا ہو یا روزے رکھنے کی استطاعت تو رکھتا ہو لیکن پے درپے ساٹھ روزے رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا بڑھاپے یا مرض کی وجہ سے تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ (التفسیرات الاحمدیۃ فی بیان الآیات الشرعیۃ، سورۃ المجادلۃ، صفحہ 674، مطبوعہ بیروت)
اگر پے درپے ساٹھ روزوں سے مانع بڑھاپا یا ایسا مرض ہو جس کے زائل ہونے کی امید نہ ہو تووہ شخص کھاناکھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کر سکتا ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در المختارمیں ہے ”و اللفظ للاول: (فإن عجز عن الصوم) لمرض لا يرجى برؤه أو كبر (أطعم ستين مسكينا)“ ترجمہ: پس اگر وہ کسی ایسے مرض کی وجہ سے جس کے زائل ہونے کی امید نہ ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے لگاتار دو ماہ کے روزے رکھنے سے عاجز ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ (تنویر الابصار مع در المختار، کتاب الطلاق، باب کفارۃ الظہار، جلد 3، صفحہ 478، مطبوعہ بیروت)
جامع الرموز میں ہے ” و ان عجز عن الصوم لمرض اوغیرہ اطعم ستین مسکیناً“ ترجمہ: اور اگر مرض وغیرہ کسی وجہ سے روزے رکھنے سے عاجز ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ (جامع الرموز، کتاب الطلاق، فصل فی الظہار، جلد 1، صفحہ 565، مطبوعہ کراچی)
نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے ”"فإن لم يستطع الصوم" لمرض أو كبر "أطعم ستين مسكينا“ ترجمہ: پس اگر مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، جلد 1، صفحہ 250، مکتبۃ العصریۃ)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کفارے میں روزے رکھنے کی بجائے کھانا کھلانے کی اجازت کی صورت بیان کرتے ہوئے فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”اگر نہایت پیرانہ سالی یا مرضے قوی بے امید بہی طاقت روز ہائے پیہم بردہ است شصت مسکین را طعامے ہمچو صدقہ فطر رساند“ نہایت بڑھاپے یا کسی قوی مرض جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت بحال ہونے کی امید بھی نہ ہوتو پھر ایسا شخص ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار کھانا دے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 271، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
اگر تندرست شخص کو بھی دو ماہ کے پے درپے روزے رکھنے سے بیمار ہوجانے کا ظن غالب ہو تو وہ بھی شرعا روزوں سے عاجز شمار ہوگا چنانچہ النہر الفائق شرح کنز الدقائق میں ہے ”و الصحیح الذی یخشی المرض کالمریض و لاتنافی بینھما لان الخشیۃ بمعنی غلبۃ الظن بخلاف مجرد الخوف“ ترجمہ: اور صحیح یہ ہے کہ جس شخص کو بیمار پڑ جانے کا خوف ہوتو وہ مریض کی ہی طرح ہے۔ اور ان دونوں میں کوئی منافات نہیں کیونکہ یہاں خوف بمعنی ظن غالب ہے بخلاف محض خوف کے۔ (النہر الفائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصوم، فصل فی العوارض، جلد 2، صفحہ 28، مطبوعہ کراچی)
ظن غالب تین طرح سے حاصل ہوسکتا ہے: اس کی کوئی واضح علامت ہو، یا سابقہ ذاتی تجربہ ہو یا کوئی ایسا مسلمان ڈاکٹر جو اپنے شعبے کا ماہر ہو،وہ بتائے، چنانچہ مریض کو روزے نہ رکھنے کی رخصت کے حوالے سے تنویر الابصار مع در المختار میں ہے ”(مريض خاف الزيادة) لمرضه وصحيح خاف المرض ۔ ۔ بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بأخبار طبيب حاذق مسلم مستور (الفطر)“ ترجمہ: مریض کواپنے مرض کے بڑھنے کا اور تندرست کو روزے رکھنے سے بیمار ہوجانے کا ظن غالب ہوکسی علامت کی وجہ سے یاتجربے کی بناپریامسلم غیرفاسق حاذق طبیب کے بتانے سے تو اسے عذر والے دن روزہ افطار کرنا، جائزہے۔ (تنویر الابصار مع در المختار، جلد 3، صفحہ 463 تا 465، مطبوعہ کوئٹہ)
اگر کفارہ ادا کرتے وقت کسی سبب سے روزوں کی استطاعت نہیں تھی تو ساٹھ بندوں کو کھانا کھلانے کے ذریعے بھی کفارہ دے سکتا ہے اور کھانا کھلانے کے بعد اگرچہ روزوں پر قدرت پائی جائے پھر بھی پہلے والا ہی کفارہ کافی ہے چنانچہ مبسوط للسرخسی میں ہے ”ثم أطعم حين لم يستطع الصوم، وذلك كفارته؛ لأن المعتبر عدم الاستطاعة عند التكفير بالإطعام، و ذلك يتحقق بمرضه، و لا يشترط استدامة العذر بعد التكفير“ ترجمہ: بس جب وہ روزوں کی استطاعت نہ رکھتا ہوتو کھانا کھلائےاور یہی اس کا کفارہ ہے کیونکہ روزے رکھنے کی استطاعت نہ ہونے کا اعتبار، کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کرتے وقت کا ہے۔اور یہ مرض کی وجہ سے متحقق ہوتا ہے اور کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کے بعد (روزوں کی طاقت نہ ہونے کا سبب بننےوالے) عذر کا ہمیشہ باقی رہنا شرط نہیں ہے۔ (مبسوط للسرخسی، باب الصیام فی الظہار، جلد 7، صفحہ 13، مطبوعہ بیروت(
بدائع الصنائع میں ہے” من لم يستطع الصيام فعليه إطعام ستين مسكينا فلا يجب الإطعام مع استطاعة الصيام، ثم اختلف في أن المعتبر هو القدرة و العجز وقت الوجوب أم وقت الأداء، قال: أصحابنا رحمهم الله: وقت الأداء“ترجمہ: جو کوئی روزوں پر قادر نہ ہوتو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے پس روزوں کی استطاعت ہوتے ہوئے کھانا کھلانا واجب نہیں ہے۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ روزوں پر قادر ہونے یا عاجز ہونے میں کفارہ واجب ہونے کے وقت کا اعتبار ہے یا کفارہ ادا کرتے وقت کا اعتبار ہے؟ ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ: ادائیگی کے وقت کا اعتبار ہے۔ (بدائع الصنائع، فصل فی شرائط کل نوع، جلد 5، صفحہ 97، مطبوعہ بیروت)
اشکال:
مراقی الفلاح وجامع الرموزو تفسیرات احمدیہ وغیرہ میں تو مرض کو مطلق ذکر کیا ہے خواہ اس کے زوال کی امید ہو یا نہ ہو، اس کی موجودگی میں کھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے جبکہ درمختار میں اسے ایسے مرض سے مقید کیا گیا ہے جس کے زوال کی امید نہ ہو تو آپ نے مطلق کو چھوڑ کر مقید کو فتوے میں کیوں اختیار کیا ہے؟
جواب:
عندالشرع کسی مسئلےمیں کوئی ایسی زائدقید جسے کوئی معتمد امام بیان فرمائیں تو اسے قبول کرنا ضروری ہوتاہے، جب تک کہ اس کے خلاف دیگر ائمہ کے کلمات میں تصریح اور اس پر ترجیح نہ ہو ،خاص طورپر جب احتیاط کا مقام ہوتو امام معتمد کی بتائی ہوئی قید کوقبول کرنا اور ضروری ہے اور مذکورہ مسئلے میں بعض کتب فقہ میں اگرچہ مرض کو مطلق ذکرکرتے ہوئے اس کی موجودگی میں کھاناکھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کا حکم بیان کیا گیاہے تاہم محقق علی الاطلاق، صاحب فتح القدیر علامہ کمال ابن ہمام، صاحب درمختار علامہ علاؤ الدین حصکفی، صاحب بحرعلامہ ابن نجیم مصری، صاحب مجمع الانھر علامہ عبد الرحمن ابن محمد المعروف شیخی زادہ وغیرہ کئی ایک محققین و قابل اعتماد فقہاء نےکھانا کھلانے کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کی اجازت ورخصت صرف اس مریض کو دی ہے جس کو روزوں سے مانع ایسا مرض ہو جس کے زائل ہونےکی امید نہ ہو اور تلاش وتتبع کے باوجود کتب فقہ میں اس مقید حکم کے خلاف کسی بھی امام معتمد کی تصریح یا اس پر ترجیح نہیں ملی بلکہ اس قید کے قبول ہونے کی تائیدات موجود ہیں چنانچہ خاتمۃ المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ردالمحتار میں اور علامہ سید احمد طحطاوی رحمۃاللہ علیہ نے طحطاوی علی الدر المختارمیں بغیر اعتراض کیے اس قید کو برقرار رکھا یونہی اعلی حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جدالممتار میں نہ صرف یہ کہ اس قید پر اعتراض نہیں کیا بلکہ خود فتاوی رضویہ میں بھی اسی قید کو ملحوظ رکھتے ہوئے فتوی دیا اور صاحب بہار شریعت نے بھی اسی قیدسمیت بہار شریعت میں یہ مسئلہ نقل فرمایا ہے لہذا اس قید کوقبول کرنا ضروری تھا، اسی وجہ سے فتوے میں اس قید کا لحاظ کرتے ہوئے حکم بیان کیا گیا ہے۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ زائد قید جو کسی امام معتمد نے لگائی ہو اگرچہ وہ قید اکثر متون و شروح میں نہ ہو، اس کے قبول کرنے کے حوالے سے ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ”و ہر چند درعامہ متون واکثر شروح این مسئلہ رابارسال واطلاق آوردہ انداماقیدے زائد کہ امام معتمد افادہ فرماید از قبولش ناگزیر ست مادامیکہ خلا فش در کلمات دیگر ائمہ مصرح و بران مرجح نباشد خصوصاً در صورتیکہ مقام مقامِ احتیاط ست۔ ۔ و این معنی منافیِ تقدیم متون نیست کہ آن فرع تضادست و این بیان مراد“ یہ مسئلہ اگرچہ عام متون اور اکثر شروح میں بغیر قید کے مطلقاً ذکر ہوا ہے (اور کہا گیا ہے کہ معدنیات وغیرہ پر غبار و تراب ہو تو تیمم جائز ہے) لیکن ایک ایسی زائد قید جو کوئی معتمد امام افادہ فرمائیں اسے قبول کرنا ضروری ہے جب تک کہ اس کے خلاف دیگر ائمہ کے کلمات میں تصریح اور اس پر ترجیح نہ ہو خاص طور سے جب احتیاط کا مقام ہو تو امام معتمد کی بتائی ہوئی ایسی قید کا قبول کرنا اور ضروری ہے۔ ا یسی قید قبول کرلینا تقدیمِ متون کے منافی نہیں ہوگا اس لئے کہ منافات کی بات تو اس وقت ہوگی جب دونوں میں تضاد ہو۔ یہاں تضاد نہیں بلکہ بیان مراد ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 303، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتح القدیر، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 4، صفحہ 116، مطبوعہ بیروت، مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، جلد 1، صفحہ 452، مطبوعہ بیروت، اللباب فی شرح الکتاب، جلد 3، صفحہ 73، مطبوعہ بیروت،وغیرہ کتب معتبرہ میں کچھ الفاظ کے فرق کے ساتھ مسئلہ اسی قید کے ساتھ بیان ہوا ہے جس کو جواب میں اختیار کیا گیا ہے ”و اللفظ للاول: (و إذا لم يستطع الصيام) أي لمرض لا يرجى زواله أو كبر“ ترجمہ: اور جب روزوں کی استطاعت نہ ہو یعنی ایسے مرض کی وجہ سے جس کے زوال کی امید نہ ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے۔ (فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب الظہار، جلد 4، صفحہ 268، مطبوعہ بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0898
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1444ھ / 08 مئی 2023ء