logo logo
AI Search

بغیر سحری نفل روزہ رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

سحری کے بغیر روزہ رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

روزہ فرض ہو یا نفل، اُس کے لیے سحری شرط نہیں، بغیر سحری کے بھی روزہ رکھ سکتے ہیں اور روزہ بغیر کسی کراہت کے درست ہوجاتا ہے۔ البتہ روزہ رکھنے والے کیلئے سحری کرنا سنت ہے، لہذاجان بُوجھ کر سحری نہ کرنے میں سنت سے محروی ہے۔ سحری میں خوب پیٹ بھر کرکھانا ہی ضروری نہیں بلکہ اگر ایک آدھ کھجور، یا صرف پانی بھی سحری کی نیت سے استعمال کرلیں گے جب بھی کافی ہوگا اور سحری کی سنت ادا ہوجائے گی۔

سنن ترمذی میں ہے: عن أنس بن مالك، أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: تسحروا، فإن في السحور بركة‘‘ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ (سنن ترمذی، جلد 2، صفحہ 241، رقم الحدیث: 717، دار الرسالة العالمية)

اس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں: أمر ندب كما أجمعوا عليه أي تناولوا شيئا ما وقت السحر، لحديث «تسحروا و لو بجرعة ماء»‘‘ ترجمہ: ( سحری کیا کرو) یہ استحبابی حکم ہے، جیسا کہ اس پر علماء کا اجماع ہے، (مراد یہ ہے کہ) یعنی سحری کے وقت کچھ نہ کچھ ضرور کھاؤ، حدیث کی وجہ سے کہ سحری کیا کرو، اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی سے ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1381، دار الفکر، بیروت)

تحفۃُالفقہا ءمیں ہے: إنما التسحر سنة في حق الصائم على ما روي عن عمرو بن العاص عن النبي عليه السلام أنه قال إن فصل ما بين صيامنا و صيام أهل الكتاب أكلة السحر‘‘ ترجمہ: سحری کرنا روزےدار کے حق میں سنت ہے، جیسا کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہمارے روزوں اور اہلِ کتاب کے روزوں کے درمیان فرق، سحری کا کھانا ہے۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 365،دار الكتب العلمية، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1255
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1448ھ / 06 جولائی 2026ء