روزے میں زخم پر دوائی لگانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
روزے کی حالت میں زخم پر دوائی لگانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
روزہ ٹوٹنے کا دارو مدار اِس بات پر ہے کہ کوئی چیز پیٹ، دماغ یا منفذ یعنی پیٹ یا دماغ تک جانے والے راستوں میں داخل کی جائے جیسے آنکھ میں دوائی ڈالی یا ناک میں دوائی وغیرہ ڈالی۔ مسام کے ذریعے اندر جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زخم پر دوا لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹےگا کیونکہ یہاں روزہ توڑنے والی بات نہیں پائی جا رہی۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: جوف کے اندر مسام کے سوامنافذ سے پہنچے تو روزہ جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 511، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2523
تاریخ اجراء: 17 ربیع الآخر 1447ھ / 11 اکتوبر 2025ء