logo logo
AI Search

قربانی کے پہلے دن صاحب نصاب ہونا اور تیسرے دن نہ رہنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جو شخص قربانی کے پہلے دن صاحب نصاب ہو اور دوسرے و تیسرے دن نہ رہے، اس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص عید الاضحیٰ کے پہلے دن صاحب نصاب تھا، لیکن دوسرے اور تیسرے دن صاحب نصاب نہ رہا اور اس نے قربانی بھی نہیں کی، حتی کہ ایام قربانی گزر گئے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس شخص پر قربانی واجب ہو چکی تھی ؟ اگر واجب تھی، تو اب اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس شخص پر قربانی واجب نہیں تھی، کیونکہ قربانی کے وجوب میں صاحب نصاب ہونے کا اعتبار ایام قربانی کے آخری وقت (12 ذوالحجہ کی غروب آفتاب سے پہلے) کا ہوتا ہے اور آخری وقت میں وہ شخص صاحب نصاب نہیں تھا، لہذا اس پر قربانی بھی واجب نہیں ہوئی۔

قربانی کے وجوب میں صاحب نصاب ہونے کا اعتبار آخری وقت کا ہوتا ہے۔ چنانچہ علامہ شمس الدین تمر تاشی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1004ھ) لکھتے ہیں: ”والمعتبرآخر وقتها للفقير وضده والولادة والموت، فلو كان غنيا في أول الأيام فقيرا في آخرها لا تجب عليه“ ترجمہ: (قربانی کے وجوب کے لیے) فقیر یا غنی ہونے، ولادت اور موت میں قربانی کا آخری وقت معتبر ہے، پس اگر کوئی شخص ایام قربانی کے شروع میں صاحب نصاب تھا، آخری وقت میں فقیر ہوگیا تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 9، صفحہ 462، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں: ”لوکان اھلا فی اولہ ثم لم یبق اھلا فی آخرہ بان ارتد او اعسر او سافر فی آخرہ لا یجب علیہ“ ترجمہ: اگر وہ اول وقت میں اہل تھا، پھر آخر وقت میں اہل نہ رہا، اس طور پر کہ وہ (معاذ اللہ عزوجل) مرتد ہو گیا یا فقیر ہو گیا یا مسافر ہو گیا، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہو گی۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 65، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”یہ ضرور نہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے، لہٰذا اگر ابتدائے وَقت میں اس کا اہل نہ تھا، وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں اہل ہو گیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے، تو اُس پر واجب ہو گئی اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں اور آخرِ وقت میں شرائط جاتے رہے تو واجب نہ رہی۔“ (بھار شریعت، جلد 3، صفحہ 334، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0147
تاریخ اجراء: 19 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 05 جون 2026ء