logo logo
AI Search

شادی کے لیے جمع شدہ رقم پر قربانی واجب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شادی کے لیے جمع کی گئ رقم پر قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہم سب بھائی والد کے ساتھ رہتے ہیں، میرے پاس اپنی کمائی کی رقم جمع ہے جس سے میں نے اپنی شادی کا بند و بست کرنا ہے کیا مجھ پر اس رقم کی وجہ سے قربانی لازم ہو گی؟

جواب

اگر آپ کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم ہے اور آپ پر قرض بھی نہیں یا قرض ہے مگر قرض مائنس کرنے کے بعد بھی آپ کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم بچتی ہے تو آپ پر قربانی واجب ہے ورنہ نہیں۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دو سو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔“ (بھارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ: 333، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-029

تاریخ اجراء: 06 ربیع الثانی 1448ھ/19 ستمبر 2026ء