logo logo
AI Search

استطاعت کے باجود قربانی نہ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

استطاعت کے باجود قربانی نہ کرنے والے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، لیکن اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے، تو کیا وہ گنہگار ہوگا؟

جواب

جو مسلمان ایام قربانی میں مقیم ہو، (مسافر نہ ہو) اور صاحب نصاب ہو، اس پر قربانی کرنا واجب ہے، اور جس شخص پر قربانی واجب ہو، وہ بلاعذر شرعی قربانی نہ کرے، اور اسی طرح ایام قربانی گزر جائیں، تو وہ واجب چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا، اور اس پر توبہ کے ساتھ، بکری کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔ یہ قیمت کسی شرعی فقیر (مستحقِ زکوۃ) کو دینا ضروری ہے۔

حدیث پاک میں ہے "عن ابي هريرة، ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: "من كان له سعة ولم يضح، فلا يقربن مصلانا" ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو (قربانی کی) وسعت ہو، اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ، ص 226، مطبوعہ: کراچی)

مجمع الانہر میں ہے "وجه الوجوب قوله عليه الصلاة والسلام: من وجد سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا، هذا وعيد يلحق بترك الواجب" وجوب کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو وسعت پائے اور قربانی نہ کرکے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے، یہ وعید واجب کو چھوڑنے کے ساتھ ہی لاحق ہوتی ہے۔ (مجمع الانہر، ج 04، ص 166، مطبوعہ: کوئٹہ)

در مختار میں ہے "(وشرائطها: الاسلام والاقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الانثى)" ترجمہ: قربانی کے وجوب کی شرائط یہ ہیں: (1) مسلمان ہونا اور(2) مقیم ہونا اور اتنا مالدار ہونا کہ جس سے صدقہ فطر کا وجوب متعلق ہوتا ہے، جیسا کہ یہ بات گزر چکی۔ مرد ہوناشرط نہیں، لہذاعورت پر بھی قربانی واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 520، مطبوعہ: کوئٹہ)

قربانی کے وجوب کے نصاب کے متعلق بدائع الصنائع ہے ”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جو اس (دو سو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

صاحب نصاب پر قربانی کے دنوں میں قربانی نہ کرنے کے سبب بکری کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے، جیسا کہ در مختار میں ہے ”(وتصدق بقیمتھا غنی شراھا او لا) لتعلقھا بذمتہ شراھا او لا فالمراد قیمۃ شاۃ تجزی فیھا“ ترجمہ: قربانی قضا ہونے کی صورت میں غنی ایک بکری کی قیمت صدقہ کرے گا، چاہے اس نے جانور خریدا ہو، یا نہ خریدا ہو؛ کیونکہ اب یہ اس کے ذمے لازم ہو گئی، چاہے اس نے جانور خریدا ہو یا نہ خریدا ہو اور قیمت سے مراد قربانی کے قابل بکری کی قیمت ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 533، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں ہوسکتی۔۔خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔" (بہار شریعت، ج 03، ص 338، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5073
تاریخ اجراء: 19 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 05 جون 2026ء