پچھلے سالوں کی قربانی نہ کی ہو تو حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پچھلے سال کی قربانی نہ کی ہو، تو کیا وہ اس سال ہوسکتی ہے
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کی سابقہ چار سال کی قربانیاں باقی ہیں۔ وہ صاحب نصاب تھے، مگر ان سالوں میں قربانی نہیں کی۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ اس سال گائے وغیرہ لے کر سابقہ چار سال کا حصہ بھی شامل کرلیا جائے اور اس سال کی بھی قربانی ادا کردیں، تو کیا ایسا کرنے سے وہ بری الذمہ ہوجائیں گے یا کچھ اور طریقہ ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
صورت مسئولہ میں ان پر سابقہ چار سالوں کی قربانی نہ کرنے کی وجہ سے چار بکریوں کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ان کے بدلے میں اس سال بڑے جانور میں حصے کی صورت میں یا بکرا، بکری قربان کردیں، اس طرح کرنے سے سابقہ قربانیاں ادا نہیں ہوسکتیں، کیونکہ صاحبِ نصاب پر قربانی کے ایام اگر گزر جائیں اور جانور بھی قربانی کے لیے نہ خریدا ہو، تو پھر بکری کی قیمت صدقہ کرنا لازم آتی ہے اور اگر اس سال گزشتہ سالوں کی نیت سے بڑے جانور میں حصہ ڈالیں گے، تو موجودہ سال کی قربانی ہوجائے گی اور باقی گزشتہ سالوں کی طرف سے ادا نہیں ہوں گی، محض نفل ہوں گی اور ایسی صورت میں سارے کا سارا گوشت (یعنی موجودہ سال والی اور دوسری قربانیوں کا گوشت) بھی صدقہ کرنا ہوگا ۔
بدائع الصنائع میں ہے: ’’انھا لاتقضی بالاراقۃ لأن الاراقۃ لا تعقل قربۃ و انما جعلت قربۃ بالشرع فی وقت مخصوص فاقتصر کونھا قربۃ علی الوقت المخصوص فلا تقضی بعد خروج الوقت‘‘ ترجمہ: قربانی کی قضا خون بہانے (یعنی جانور ذبح کرنے) سے نہیں ہوسکتی، کیونکہ خون بہانا عقلاً قربت نہیں ہے، اسے شرع کی وجہ سے ایک وقت مخصوص میں قربت قرار دیا گیا ہے، تو اس کا قربت ہونا وقت مخصوص تک ہی محدود ہوگا، وقت کے ختم ہونے کے بعد اس طرح قضا نہیں ہوسکتی۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 202، مطبوعہ کوئٹہ)
اسی میں ایام نحر کے بعد قیمت لازم ہونے کے بارے میں ہے: ’’و ان کان لم یوجب علی نفسہ و لا اشتری و ھو موسر حتی مضت أیام النحر تصدق بقیمۃ شاۃ تجوز فی الأضحیۃ‘‘ ترجمہ: اگر قربانی اپنے اوپر خود واجب نہیں کی تھی اور نہ ہی قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور وہ صاحب نصاب بھی تھا (اور اس نے قربانی نہیں کی) یہاں تک کہ ایام نحر گزر گئے تو اب ایک ایسی بکری کی قیمت صدقہ کرے گا جس کی قربانی جائز ہوتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 203، مطبوعہ کوئٹہ)
گزشتہ سالوں کی نیت سے حصہ ڈالنے کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”لو كان أحدهم مريدا للأضحية عن عامه و أصحابه عن الماضی تجوز الأضحية عنه و نية أصحابه باطلة و صاروا متطوعين، و عليهم التصدق بلحمها و على الواحد“ ترجمہ: (بڑے جانور میں) شرکاء میں سے کسی ایک نے موجودہ سال کی قربانی کی نیت کی اور باقیوں نے گزشتہ سالوں کی، تو موجودہ سال والے کی نیت درست ہوجائے گی اور اس کے ساتھیوں کی نیت باطل ہوگی اور ان کی قربانیاں نفل ہوں گی اور ان پر اور اس اکیلے پر (جس نے موجودہ سال کی نیت کی تھی، ان سب پر) گوشت صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، صفحہ 540، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: غنی نے قربانی کیلئے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کردے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔ (بہارشریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 338، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید اسی میں ہے: قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کرلے، یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔ (بهارشریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 339، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
گزشتہ سالوں کی قربانی کی نیت سے حصہ ڈالا تو اس کے متعلق بہارِ شریعت میں ہی ہے: شرکا میں سے ایک کی نیت اس سال کی قربانی ہے اور باقیوں کی نیت سال گزشتہ کی قربانی ہے، تو جس کی اس سال کی نیت ہے اوس کی قربانی صحیح ہے اور باقیوں کی نیت باطل، کیونکہ سال گزشتہ کی قربانی اس سال نہیں ہوسکتی۔ ان لوگوں کی یہ قربانی تطوّع یعنی نفل ہوئی اور ان لوگوں پر لازم ہے کہ گوشت کو صدقہ کر دیں بلکہ ان کا ساتھی جس کی قربانی صحیح ہوئی ہے، وہ بھی گوشت صدقہ کردے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 343، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1366
تاریخ اجراء: 13 ذیقعدۃ الحرام 1439ھ / 27 جولائی 2018ء