عمر پوری ہو مگر دانت نہ نکلے ہوں تو قربانی ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیل کی عمر پوری ہو اور دانت نہ نکلے ہوں، تو قربانی کا حکم؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا بیل جس کی عمر تو پوری ہو چکی ہو، لیکن ابھی تک اس کے سامنے والے بڑے دانت نہ نکلے ہوں، تو اس کی قربانی کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب
ایسا بیل جس کی عمر اسلامی اعتبار سے دو سال مکمل ہو اور اس میں مانعِ قربانی کوئی بھی عیب نہ ہو، تو اس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے، اگرچہ ابھی تک اس کے سامنے والے دو بڑے دانت نہ نکلے ہوں (جن کی وجہ سے جانور کو عرف میں ’’دوندا یعنی دو دانت والا‘‘ کہا جاتا ہے)، کیونکہ شریعت کی طرف سے قربانی کے جانوروں کی مقرر کردہ عمر کا پورا ہونا ضروری ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں۔
صحیح مسلم میں ہے: ’’لا تذبحوا الا مسنة‘‘ ترجمہ: تم قربانی میں مسنہ ذبح کرو۔ (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب سن الاضحیہ، ج 2، ص 155، مطبوعہ کراچی)
’’مسنہ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں: ’’هي التثنية من كل شيء‘‘ ترجمہ: مسنہ اونٹ، گائے اور بکری میں سے ’’ثنی‘‘ کو کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 5، ص 166، مطبوعہ ملتان)
اور ’’ثنی‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے تحفۃ الفقہاء میں ارشاد فرمایا: ’’ثم الثني من الابل عند الفقهاء ابن خمس سنين و من البقر ابن سنتين و من الغنم ابن سنة‘‘ ترجمہ: اور فقہاء کے نزدیک اونٹ میں سے ثنی وہ ہے جس کی عمر پانچ سال ہو اور گائے میں سے جس کی عمر دوسال ہو اور بکری میں سے جس کی عمر ایک سال ہو۔ (تحفۃ الفقھاء، ج 3، ص 84، مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
قربانی کے جانور میں عمر کا پورا ہونا ضروری ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں۔ چنانچہ مفتی جلال الدین امجدی علیہ رحمۃ القوی ارشاد فرماتے ہیں: قربانی کے بکرے کی عمر سال بھر ہونا ضروری ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں، لہذا بکرا اگر واقعی سال بھر کا ہے، تو اس کی قربانی جائز ہے، اگرچہ اس کے دانت نہ نکلے ہوں۔ (فتاری فیض الرسول، ج 2، ص 456، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور)
البتہ یہ یاد رہے کہ سامنے کے دوبڑے دانتوں کا نکلنا جانور کی عمر پوری ہونے کی علامت ہے، کیونکہ اونٹ کے پانچ سال بعد، گائے وغیرہ کے دو سال بعد اور بکری وغیرہ کے ایک سال کے بعد ہی دانت نکلتے ہیں، اس سے پہلے نہیں، لہذا اگر کسی جانور کے دانت نہ نکلے ہوں، تو خریدنے سے پہلے اچھی طرح تسلی کرلی جائے کہ اس کی عمر مکمل دو اسلامی سال ہے یا نہیں، اگر شک ہو تو ایسے جانور کو قربانی کے لیے نہ خریدا جائے، خصوصا ً اس دور میں کہ جس میں جھوٹ بول کر جانور بیچنا عام ہوچکا ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کےایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: سال بھر سے کم کی بکری عقیقے یا قربانی میں نہیں ہوسکتی، اگر مشکوک حالت ہے، تو وہ بھی ایسی ہی ہے کہ سال بھر کی نہ ہونا معلوم ہو ’’لان عدم العلم بتحقق الشرط کعلم العدم‘‘ کیونکہ شرط کے متحقق ہونے کا عدمِ علم اس کے عدمِ تحقق کے علم کی طرح ہے، خصوصا بائع کا بیان کہ وہ اس سے زیادہ آگاہ ہے اور سال بھر سے کم کی ظاہر کرنے میں اس کا کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کا عکس متوقع ہے کہ جب مشتری اپنے مطلب کی نہ جانے گا نہ لے گا۔
اور فرماتے ہیں: جبکہ سال بھر کامل ہونے میں شک ہے، تو اس کا عقیقہ نہ کریں اور قصاب کا قول یہاں کافی نہیں کہ بکنے میں اس کا نفع ہے اور حالتِ ظاہر اس کی بات کو دفع کررہی ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 583، 584، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-4758
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1437ھ / 11 ستمبر 2016ء