logo logo
AI Search

کیا بھینسے اور بھینس کی قربانی کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بھینس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بھینس اور بھینسے کی قربانی کرنا کیسا؟

جواب

دو سالہ بھینس اور بھینسے کی قربانی جائز ہے، کیونکہ یہ گائے کی ایک قسم ہے اور گائے کی قربانی احادیث میں مذکور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ قربانی میں گائے سات افراد کی طرف سے کفایت کرتی ہے۔

چنانچہ سنن ابو داؤد میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: البقرۃ عن سبعۃ، و الجزور عن سبعۃ‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: (قربانی میں) گائے سات کی طرف سے اور اونٹ (بھی) سات کی طرف سے (کافی) ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب فی البقر و الجزور عن کم تجزی، جلد 2، صفحہ 40، مطبوعہ لاھور)

بھینس اور بھینسا گائے کی جنس میں داخل ہیں۔ علامہ علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی علیہ رحمۃ اللہ الغنی (متوفی 587ھ) بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں: ’’اما جنسہ، فھو ان یکون من الاجناس الثلاثۃ: الغنم او الابل او البقر، و یدخل فی کل جنس نوعہ و الذکر و الانثی منہ و الخصی و الفحل لانطلاق اسم الجنس علی ذلک، و المعز نوع من الغنم، و الجاموس نوع من البقر بدلیل انہ یضم ذلک الی الغنم و البقر فی باب الزکاۃ‘‘ ترجمہ: بہرحال قربانی کے جانوروں کی جنس، تو اس کا ان تین جنسوں میں سے ہونا ضروری ہے: بکری، اونٹ یا گائے اور ہر جنس میں اُس کی نوع، نر اور مادہ، خصی اور غیر خصی سب شامل ہیں، کیونکہ جنس کا اطلاق اِن سب پر ہوتا ہے۔ بھیڑ، بکری کی اور بھینس، گائے کی ایک قسم ہے، اِس دلیل کی بناء پر کہ انہیں (یعنی بھیڑ اور بھینس کو) زکوۃ کے معاملے میں بکری اور گائے کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیہ، جلد 4، صفحہ 205، مطبوعہ کوئٹہ)

برہان الدین ابو الحسن علی بن ابو بکر المرغینانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی (متوفی 593ھ) ہدایہ شریف میں فرماتے ہیں: ’’(و الاضحیۃ من الابل و البقر و الغنم) و یدخل فی البقر الجاموس، لانہ من جنسہ‘‘ ترجمہ: (اونٹ، گائے اور بکری کی قربانی درست ہے ) ۔ ۔ اور گائے کے تحت بھینس بھی داخل ہے، کیونکہ وہ اِسی کی جنس میں سے ہے۔ (ھدایہ، کتاب الاضحیہ، جلد 4، صفحہ 449، مطبوعہ لاھور)

خاتم المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز عابدین الدمشقی الحنفی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی 1252ھ) رد المحتار میں فرماتے ہیں :’’(و الجاموس) ھو نوع من البقر کما فی المغرب، فھو مثل البقر فی الزکاۃ و الاضحیۃ و الربا‘‘ ترجمہ: (اور بھینس) یہ گائے کی ایک قسم ہے جیسا کہ المُغرب میں ہےاور یہ زکوۃ، قربانی اور سود (کے معاملات) میں گائے ہی کی مثل ہے۔ (رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ البقر، جلد 3، صفحہ 241، مطبوعہ پشاور)

قربانی میں دو سالہ گائے اور بھینس کفایت کرے گی۔ چنانچہ علامہ عبد الرحمن بن محمد بن سلیمان کلیوبی حنفی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی 1078ھ) مجمع الانہر میں فرماتے ہیں: ’’(و انما یجزیء فیھا) ای فی الاضحیۃ ۔۔ (الثنی فصاعدا من الجمیع) و ھو ابن خمس من الابل و حولین من البقر و الجاموس و حول من الشاۃ و المعز‘‘ ترجمہ: (بکری، گائے اور اونٹ کی قربانی میں دوندا یا اس سے زائد عمر والا جانور کفایت کرے گا) اور اُ ونٹ میں اس کی عمر پانچ سال ہے، گائے اور بھینس میں دو سال اور بکری اور بھیڑ میں ایک سال ہے۔ (مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر، کتاب الاضحیہ، جلد 4، صفحہ 171، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (متوفی 1340ھ) فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: (ترجمہ): قربانی کے جانوروں کی ابتدائی تین قسمیں ہیں: (١) شاۃ یا غنم، (٢) بقر، (٣) جمل ۔ شاۃ کو پھر دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: ضان اور معز اور بقر کی بھی دو قسمیں کرتے ہیں: بقر و جاموس۔ اس طرح اصل اور ذیلی قسموں کو ملا کر کل پانچ قسمیں ہوئیں: (١) جمل (اونٹ)، (٢) بقر (گائے)، (٣) جاموس (بھینس)، (٤) ضان (دنبہ)، (٥) معز (بکری) اور مذکر و مؤنث دونوں کو شامل کر دیا جائے، تو کل دس ہوتی ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 382، 383، رضا فاونڈیشن، لاھور)

فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاوی فیض الرسول میں فرماتے ہیں: جاموس یعنی بھینس بھینسے کی قربانی حدیثوں سے ثابت ہے کہ جاموس بقر کی ایک قسم ہے اور بقر کی قربانی حدیثوں میں مذکور ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 449، شبیر برادرز، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-3033
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1435ھ / 21 ستمبر 2014ء