logo logo
AI Search

حیض میں قرآن پاک پڑھنے سے متعلق احادیث کا محمل

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیض کی حالت میں قرآن پاک پڑھنے کے متعلق روایات کا محمل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ

(1)  حائضہ عورت کے لیے، حالت حیض میں قرآن پاک پڑھنا کیسا ہے؟

(2) بعض لوگ حائضہ کے لیے تلاوت قرآن جائز قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حائضہ کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کی ممانعت پر جو احادیث ہیں وہ بہت ضعیف اور ناقابل حجت ہیں لہذا شریعت کی طرف سے ممانعت نہ ہونے کی وجہ سے جائز ہے۔ اس سے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

(3) کچھ لوگ درج ذیل احادیث و آثار سے جواز ثابت کرتے ہیں۔ اس سے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

(1-2): نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت فرمایا جب وہ حج کے موقع پر حائضہ ہوگئیں: ”فافعلی مایفعل الحاج غیر ان لاتطوفی بالبیت حتی تطھری“ ترجمہ: تم وہ سب مناسک ادا کرو جو حاجی کرتے ہیں سوائے بیت اللہ کے طواف کے کہ وہ پاک ہونے تک نہ کرو۔ (صحیح البخاری)

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”كنا نؤمر أن يخرج الحيض فيكبرن بتكبيرهم ويدعون“ ترجمہ: ہمیں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ حائضہ عورتیں نکلیں اور مسلمانوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہیں اور دعا کریں۔

حدیث میں حائضہ کو صرف طواف سے روکا گیا ہے بقیہ اعمالِ حج جو کہ ذکر، تلبیہ، تلاوت قرآن اور دعا پر مشتمل ہیں ان سے منع نہیں کیا دعا قرآنی آیات پر مشتمل ہوتی ہے یونہی حائضہ عورتوں کو عید گاہ سے باہر رہ کر دعا کرنے کی اجازت دی ہے اور دعا میں قرآن کریم کی آیات بھی ہوتی ہیں لہذا جب وہ دعا میں آیات پڑھ سکتی ہیں تو انھیں تلاوت قرآن کی بھی اجازت ہے۔

(3-4-5): ”کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یذکر اللہ على کل أحیان“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر حال میں اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے۔(صحیح البخاری)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہرقل روم کو خط لکھا اور اس میں قرآن کریم کی آیت بھی لکھی ہوئی تھی، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”أخبرني أبو سفيان، أن هرقل دعا بكتاب النبي صلى اللہ عليه وسلم، فقرأ فإذا فيه: "بسم اللہ الرحمن الرحيم و {يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة} [آل عمران: 64] " الآية“ ترجمہ: مجھے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا خط مبارک منگوایا پھر اس کو پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا: اللہ کے نام سے شروع جو مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف۔۔الآیۃ۔ (صحیح البخاری)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق تعلیقا مروی ہے: ”ولم ير ابن عباس: ”بالقراءة للجنب بأسا“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جنبی کے قرآن پاک پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے۔“(بخاری)

ان تینوں دلیلوں کا حاصل یہ ہے کہ جنبی کے لیے تلاوت قرآن جائز ہے، جب اس کے لیے جائز ہے تو حائضہ کے لیے بھی جائز ہے۔

جواب

(1) عند الشرع حائضہ عورت کے لیے، دیکھ کر، خواہ زبانی قرآن پاک پڑھنا ناجائز و حرام ہے اگرچہ ایک آیت سے بھی کم ہو۔ البتہ قرآن پاک کی وہ آیات جو ذکر و دعا و ثناء پر مشتمل ہیں ان کو ذکر و دعا و ثناء کی نیت سے پڑھنا جائز ہے یونہی حیض والی عورت اگر معلمہ ہے تو اس کے لئے اجازت ہے کہ وہ سانس توڑ کر ایک ایک کلمہ کر کے پڑھا سکتی ہے اور ہجے بھی کرا سکتی ہے۔ یہی احادیث و آثار اور اقوال فقہاء سے ثابت ہے اور یہی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے اکثر اہل علم کا موقف ہے۔

سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی، مسند احمد، سنن بیہقی وغیرہ کتب احادیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ”والفظ للاول: عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم قال: لا تقرأ الحائض، ولا الجنب شيئا من القرآن“ وفي الباب عن علي۔حديث ابن عمر حديث لا نعرفه إلا من حديث إسماعيل بن عياش، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: ”لا تقرأ الجنب ولا الحائض“ وهو قول أكثر أهل العلم من أصحاب النبي صلى اللہ عليه وسلم، والتابعين، ومن بعدهم مثل: سفيان الثوري، وابن المبارك، والشافعي، وأحمد، وإسحاق، قالوا: لا تقرأ الحائض ولا الجنب من القرآن شيئا، إلا طرف الآية والحرف ونحو ذلك، ورخصوا للجنب والحائض في التسبيح والتهليل“ ترجمہ: اور ترمذی کے الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔“ اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں کہ) ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف اسی طرح جانتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش، موسی بن عقبہ سے، وہ نافع سے، وہ ابن عمر سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں۔“ اور یہی اکثر اہل علم، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء مثلاً امام سفیان ثوری، امام ابن مبارک، امام شافعی، احمد بن حنبل اور امام اسحاق علیہم الرحمۃ والرضوان کا قول ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں البتہ طرفِ آیت اور ایک حرف وغیرہ پڑھنے کی اجازت ہے۔ اور انھوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی رخصت دی ہے۔ (سنن ترمذی، باب ما جاء في الجنب والحائض أنهما لا يقرآن القرآن، جلد 1، صفحہ 236، مطبوعہ مصطفى البابي الحلبي مصر)

صحابی رسول حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اس کی ممانعت مروی ہے چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ”لا تقرأ الحائض القرآن“ ترجمہ: حیض والی عورت قرآن نہ پڑھے۔ (مصنف ابن ابی شيبة، جلد 1، صفحہ 98، مکتبۃ الرشد، ریاض)

جلیل القدر تابعی حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”لا يقرأ الجنب والحائض القرآن“ ترجمہ: جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں۔ (مصنف ابن ابی شيبة، جلد 1، صفحہ 97، مکتبۃ الرشد، ریاض)

امام ابو العالیہ تابعی رضی اللہ عنہ بھی حائضہ کو تلاوت قران سے منع فرماتے تھے، چنانچہ مصنف ابی شیبہ اور سنن دارمی میں ہے ”واللفظ للاول: عن أبي العالية قال: ”الحائض لا تقرأ القرآن“ ترجمہ: حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حائضہ عورت قرآن نہ پڑھے۔“ (مصنف ابن ابی شيبة، جلد 1، صفحہ 98، مکتبۃ الرشد، ریاض)

نور الایضاح مع المراقی میں ہے”ويحرم قراءة آية من القرآن إلا بقصد الذكر إذا اشتملت عليه لا على حكم أو خبر“ ترجمہ: اور حیض و نفاس والی عورت پر قرآن پاک کی ایک آیت بھی پڑھنا حرام ہے مگر یہ کہ وہ ذکر کی نیت سے پڑھے جبکہ وہ آیت ذکر پر مشتمل ہو، حکم یا خبر پر مشتمل نہ ہو۔

علامہ طحطاوی رحمۃاللہ علیہ "بقصد الذکر" کے تحت فرماتے ہیں: ”أي أو الثناء أو الدعاء إن اشتملت عليه فلا بأس به في أصح الروايات قال في العيون ولو أنه قرأ الفاتحة على سبيل الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم يرد به القرآن فلا بأس به“ ترجمہ: یعنی یا ثناء یا دعا کی نیت سے پڑھے جبکہ وہ آیت اس پر مشتمل ہو تو اس میں صحیح ترین روایت کے مطابق کوئی حرج نہیں ہے۔عیون میں فرمایا کہ اگر اس نے سورہ فاتحہ کو دعا کی نیت سے پڑھا یا قرآن پاک کی آیات میں سے کوئی آیت پڑھی جس میں دعا کا معنی موجود ہے اور قرآن پڑھنے کا قصد نہ کیا تو اس میں حرج نہیں ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، جلد 1، صفحہ 142، مطبوعہ بیروت)

علامہ برہانی الدین مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ ہدایہ میں فرماتے ہیں: ”وليس للحائض والجنب والنفساء قراءة القرآن؛ لقوله صلى اللہ عليه وسلم: ”لا تقرأ الحائض والجنب شيئا من القرآن وهو حجة على مالك في الحائض، وهو بإطلاقه يتناول ما دون الآية“ ترجمہ: اور حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتوں کے لیے قرآن پاک پڑھنا جائز نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ حائضہ اور جنبی قران پاک میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔اور وہ حدیث حائضہ کے قرآن پڑھنے کے معاملے میں امام مالک رضی اللہ عنہ پر حجت ہے اور وہ اپنے اطلاق کی وجہ سے آیت سے بھی کم قرآن کریم کو شامل ہے۔

مذکورہ عبارت کے تحت البنایۃ لشرح الہدایۃ میں ہے ”(وليس للحائض والجنب والنفساء قراءة القرآن) ش: على قصد القرآن دون قصد الذكر والثناء۔۔وبه قال الحسن وقتادة وعطاء وأبو العالية والنخعي والزهري وإسحاق وأبو ثور والشافعي رضي الله عنهم في أصح قوليه، وهو قول عمر وعلي وجابر وأبي وائل رضي الله عنهم“ ترجمہ: اور حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتوں کے لیے قرآن پاک، بقصد قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے۔ ہاں ذکر اور ثناء کی نیت سے پڑھنا جائز ہے۔ اور یہی قول حضرت امام حسن بصری، قتادہ، عطاء، ابوالعالیہ، ابراہیم نخعی، زہری، اسحاق، ابو ثور کا ہے اور امام شافعی رضی اللہ عنہ کے دو قولوں میں سے اصح قول بھی یہی ہے۔ اور یہی حضرت عمر، علی، جابر اور ابو وائل رضی اللہ عنہم کا قول ہے۔ (البنایۃ لشرح الہدایۃ، کتاب الطہارۃ، دخول الحائض والجنب المسجد، جلد 1، صفحہ 646، مطبوعہ بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے ”و اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لھا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ و تقطع بین الکلمتین ولا یکرہ لھا التہجی بالقرآن“ ترجمہ: اور معلمہ جب حائضہ ہو تو اس کے لئے اجازت ہے کہ وہ کلمہ کلمہ کر کے پڑھائے، اور ہر دو کلموں کے درمیان سانس توڑے اور ہجے کرانا مکروہ نہیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 38، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے ”حیض و نفاس والی عورت کو قرآن مجید پڑھنا دیکھ کر یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں“ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 379، مکتبہ المدینہ کراچی)

(2) حائضہ کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کی ممانعت پر جو احادیث ہیں انھیں بہت زیادہ ضعیف اور ناقابل حجت قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ حائضہ کی ممانعت والی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس حدیث کے متابعات موجود ہیں اور وہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ ضعیف حدیث تعدد طرق کی وجہ سے قوی ہو جاتی ہے اور قوت پانے کے لیے اس کا دو سندوں سے آنا ہی کافی ہوتا ہے لہذا ممانعت والی حدیث ضعیف نہیں بلکہ حسن ہے اور حدیث حسن احکام میں حجت ہوتی ہے۔ نیز صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے اکثر اہل علم بالخصوص ائمہ مجتہدین میں سے امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم کا اس حدیث کے مطابق عمل کرنا بھی اس حدیث کی قوت کا باعث ہے کیونکہ اہل علم کے عمل کر لینے سے بھی حدیث قوی ہو جاتی ہے اگرچہ سند ضعیف ہو۔ لہذا جمہور علماء امت نے حائضہ کے لیے قرآن کی تلاوت کو حرام قرار دیا ہے اور یہی قرآن عظیم کی تعظیم کے بھی لائق ہے۔

حائضہ کے لیے تلاوت قرآن کی ممانعت والی حدیث دوسری سند کے ساتھ سنن دار قطنی میں موجود ہے، چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا يقرأ الحائض ولا الجنب ولا النفساء القرآن“ ترجمہ: حیض والی، جنبی اور نفاس والی عورتیں قرآن نہ پڑھیں۔ (سنن دار قطنی، باب في النهي للجنب والحائض عن قراءة القرآن، جلد 1، صفحہ 218، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)

حائضہ کے قرآن پڑھنے کی ممانعت والی احادیث اور ان کے متابعات کو بیان کرنے کے بعد "السنن الکبری للبیہقی" میں ہے کہ مشہور محدث امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، جلیل القدر محدث و تابعی حضرت امام زہری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: ”سئل الزهري عن الجنب والنفساء، والحائض، فقال: ”لم يرخص لهم أن يقرءوا من القرآن شيئا" ورويناه عن جابر بن عبد اللہ، ثم عن عطاء وأبي العالية والنخعي وسعيد بن جبير في الحائض لا تقرأ القرآن“ ترجمہ: امام زہری رضی اللہ عنہ سے جنبی، نفاس اور حیض والی عورت کے (قرآن پڑھنے کے) حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: جنبی اور حیض و نفاس والی عورت کو قرآن میں سے کچھ بھی پڑھنے کی رخصت نہیں ہے۔ (امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) اور ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ پھر حضرت عطاء، ابو العالیہ، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنھم سے حائضہ کے متعلق روایت کیا ہے کہ وہ قرآن نہ پڑھے۔ (السنن الکبری للبیہقی، باب الحائض لا تمس المصحف ولا تقرأ القرآن، جلد 1، صفحہ 461، مطبوعہ بیروت)

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”(رواه الترمذي): ورواه ابن ماجه وضعفه البخاري والترمذي والبيهقي وغيرهم، نقله السيد عن التخريج لكن له متابعات كما ذكره ابن جماعة وغيره تجبر ضعفه، ومن ثم حسنه المنذري. ورويت أحاديث بمعناه كلها ضعيفة۔۔والحاصل أن جمهور العلماء على الحرمة; إذ هي اللائقة بتعظيم القرآن، ويكفي في الدلالة عليها الأحاديث الكثيرة المصرحة بها وإن كانت كلها ضعيفة; لأن تعدد طرقها يورثها قوة أي قوة، وترقيها إلى درجة الحسن لغيره، وهو حجة في الأحكام، فالحق الحرمة إذ هي الجارية على قواعد الأدلة لا الحل، وإن كان هو الأصل، كذا ذكره ابن حجر“ ترجمہ: اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام بخاری و ترمذی اور بیہقی وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کو سید نے تخریج سے نقل کیا ہے لیکن اس حدیث کے متابعات ہیں جیسا کہ ان کو ابن جماعہ وغیرہ محدثین نے ذکر کیا ہے جس سے اس کے ضعف کا نقصان پورا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے علامہ منذری نے اسے حدیث حسن قرار دیا ہے۔ اس معنی میں کئی احادیث مروی ہیں جو سب ضعیف ہیں۔ اور حاصل کلام یہ ہے کہ جمہور علماء حائضہ کے لیے قرآن کی تلاوت کی حرمت کے قائل ہیں جبکہ یہی قرآن عظیم کی تعظیم کے لائق ہے۔ اور اس مسئلے پر صراحت کرنے والی، کثیر احادیث کی دلالت ہی کافی ہے اگرچہ وہ سب احادیث ضعیف ہیں کیونکہ اس حدیث کا متعدد طرق سے مروی ہونا، اس میں قوت پیدا کردیتا ہے اور اس حدیث کو حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچا دیتا ہے اور وہ احکام میں حجت ہے۔ تو حق یہ ہے کہ یہ حرام ہے، حلال نہیں ہے کیونکہ دلائل کی روشنی میں یہی ثابت ہے اگرچہ حلت اصل ہے اسی طرح ابن حجر علیہ الرحمۃ نے ذکر کیا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الطہارۃ، باب مخالطة الجنب وما يباح له، جلد 2، صفحہ 439، مطبوعہ بیروت)

متعدد طرق سے مروی ہونے والی حدیث قوت پاجاتی ہے اگرچہ تمام طرق سے ضعیف ہو، چنانچہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ایک ضعیف حدیث جو متعدد طرق سے مروی تھی اس پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”هذه الأسانيد وإن كانت ضعيفة فهي إذا ضم بعضها إلى بعض أخذت قوة“ ترجمہ: اس حدیث کی تمام اسناد اگرچہ ضعیف ہیں، لیکن جب ان میں بعض کو بعض کے ساتھ ملایا جائے گا تو وہ قوت پاجائے گی۔ (شعب الایمان للبیہقی، صوم التاسع مع العاشر، جلد 5، صفحہ 333، مطبوعہ بیروت)

امام عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”قد احتج جمھور المحدثین بالحدیث الضعیف اذا کثرت طرقہ والحقوہ بالصحیح تارۃ، وبالحسن اخری“ بیشک جمہور محدثین نے حدیث ضعیف کو حجت و دلیل بنایا ہے جبکہ وہ کثرتِ طرق سے مروی ہو اور اسے کبھی حدیث صحیح اور کبھی حدیث حسن سے ملحق کیا ہے۔ (المیزان الکبرٰی للشعرانی، فصل ثالث من فصول فی الاجوبۃ عن الامام، جلد 1، صفحہ 68، مطبوعہ مصطفی البابی مصر)

اور حدیث کے قوی ہونے کے لیے صرف دو سندوں سے آنا بھی کافی ہے چنانچہ علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ ایک ضعیف حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ضعيف لضعف عمرو بن واقد لكنه يقوي بوروده من طريقين“ ترجمہ: یہ حدیث اپنے راوی عمرو بن واقد کے باعث ضعیف ہے مگر دو سندوں سے آکر قوت پاگئی۔ (التيسير بشرح الجامع الصغير، حرف الھمزہ، جلد 1، صفحہ 217، مطبوعہ بیروت)

اہل علم کا عمل حدیث میں قوت پیدا کردیتا ہے چنانچہ علامہ قاری رحمۃ اللہ علیہ، امام ترمذی کی مروی ایک حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”رواہ الترمذی وقال ھذا حدیث غریب والعمل علی ھذا عند اھل العلم، قال النووی واسنادہ ضعیف نقلہ میرک، فکأن الترمذی یرید تقویۃ الحدیث بعمل اھل العلم“ ترجمہ: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے اور اہلِ علم کا اس پر عمل ہے۔ علامہ میرک نے امام نووی سے نقل کیا کہ اس کی سند ضعیف ہے تو گویا امام ترمذی اہل علم کے عمل سے حدیث کو قوت دینا چاہتے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، جلد 3، صفحہ 879، مطبوعہ بیروت)

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ "التعقبات علی الموضوعات" میں فرماتے ہیں: ”قد صرح غیر واحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ“ ترجمہ: کئی علماء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اہل علم کی موافقت صحتِ حدیث کی دلیل ہوتی ہے اگرچہ اُس کے لئے کوئی سند قابلِ اعتماد نہ ہو۔ (التعقبات علی الموضوعات، باب الصلوٰۃ، صفحہ 12، مطبوعہ فیصل آباد )

یہ (ترمذی والی) حدیث نقل کرنے کے بعد حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اس کے راوی ایک اسمعیل بن عیاش ضعیف ہیں۔ اس حدیث کے ہم معنی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی دار قطنی نے اور ابن عدی نے کامل میں روایت کی ہے۔ اس کے بھی ایک راوی محمد بن فضل ضعیف ہیں، مگر دو طریقوں سے مروی ہے اس لئے حسن ہوگئی۔“ (نزہۃ القاری، 1/792، فرید بک سٹال)

امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اسی روایت کے مطابق عمل کرتے ہیں چنانچہ الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے”ذهب الحنفية والشافعية والحنابلة إلى أنه يحرم على الحائض والنفساء قراءة القرآن لقول النبي صلى اللہ عليه وسلم: لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن“ ترجمہ: حنفیہ، شافعیہ، اور حنابلہ کا مذہب یہ ہے کہ حیض و نفاس والی عورت کے لیے قران کریم پڑھنا حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، قراءة الحائض والنفساء والجنب للقرآن، جلد 33، صفحہ 59، مطبوعہ کویت)

(3) مذکورہ احادیث و آثار سے حائضہ کے لیے قرآن کریم بنیت قرآن پڑھنے کا جواز کسی طور پر ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اس مسئلے میں صریح نہیں ہے اور جمہور فقہاء نے ان سب کو مؤول قرار دیا ہے۔

(1-2) پہلی روایت میں حالتِ حیض میں طواف کے سوا بقیہ اعمال حج مثلاً ذکر، تلبیہ، دعا، وقوف عرفات و مزدلفہ و منی، رمی جمرات، سعی و قربانی و تقصیر وغیرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ اعمال حج کا اطلاق انھیں باتوں پر ہوتا ہے۔ ہر عاقل پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تلاوت قرآن باقاعدہ اعمال حج میں سے نہیں ہے لہذا اس کے جواز پر اس حدیث میں کوئی دلیل نہیں۔ البتہ دوران دعا اگر ضمنا قرآن کی کوئی آیت آ جائے جو دعا یا ثناء کے معنی پر مشتمل ہو اور حائضہ اسے بہ نیت دعا و ثناء پڑھ لے تو یہ ہمارے نزدیک بھی جائز ہے۔

دوسری روایت سے فقط اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ حائضہ تکبیر پڑھ سکتی ہے۔ ذکر کرسکتی ہے۔ دعا مانگ سکتی ہے اگرچہ وہ دعا کلمات قرآن سے ہو جبکہ وہ آیت دعا کے معنی پر مشتمل ہو جیسے ربنا اتنا فی الدنیا۔۔الخ۔ اس کی تو ہم بھی اجازت دیتے ہیں۔ کلام اس میں ہے کہ حائضہ کو بہ نیت قرآن، تلاوت کی اجازت ہے یا نہیں اور اس حوالے سے اس روایت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔

ان دونوں باتوں پر کلام کرتے ہوئے شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اس سے بھی ثابت ہوتا ہے تو صرف یہ کہ حائضہ تکبیر پڑھ سکتی ہے، دعا مانگ سکتی ہے اگرچہ وہ دعا کلمات قرآن سے ہو مثلاً ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ۔ الآیۃ وغیرہ“(نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 794، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)

مؤخر الذکر ان تین باتوں کا مدار چونکہ اس بات پر ہے کہ جنبی کے لیے قرآن کی تلاوت کا جواز ثابت ہے جس سے حائضہ کے تلاوت قرآن کا جواز ثابت ہوتا ہے لہذا پہلے ہم اس پر کلام کریں گے اور پھر ان باتوں کا جواب دیں گے۔

جمہور علماء امت کے نزدیک جنبی کے لیے تلاوت قرآن جائز نہیں ہے اور یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ اور صحابہ و تابعین علیہم الرضوان کے آثار سے ثابت ہے۔ اور چاروں اماموں کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے لہذا جب جنبی کے لیے قرآن کی تلاوت جائز نہیں ہے تو اس پر حائضہ کا قیاس بھی درست نہیں ہے۔چنانچہ سنن ترمذی، سنن ابوداود، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ کتب احادیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”و اللفظ للاول: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقرئنا القرآن على كل حال ما لم يكن جنبا“ حديث علي حديث حسن صحيح“ ترجمہ: اور ترمذی کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہمیں حالت ِجنابت کے علاوہ ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے۔“ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ والی حدیث، حدیثِ حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی، باب في الرجل يقرأ القرآن على كل حال ما لم يكن جنبا، جلد 1، صفحہ 273، مطبوعہ بیروت)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی حالت جنابت میں قرآن پڑھنے کی ممانعت ثابت ہے چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ”عن عمر، قال: لا يقرأ الجنب القرآن“ ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: جنبی شخص قرآن کریم نہ پڑھے۔ (مصنف ابن ابی شيبة، جلد 1، صفحہ 97، مکتبۃ الرشد، ریاض)

مشہور تابعی محدث و فقیہ حضرت مجاہد سے بھی اس کی ممانعت ثابت ہے چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ”عن مجاهد قال: ”لا يقرأ الجنب القرآن“ ترجمہ: حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: جنبی شخص قرآن کریم نہ پڑھے۔ (مصنف ابن ابی شيبة، جلد 1، صفحہ 97، مکتبۃ الرشد، ریاض)

حائضہ اور جنبی کے تلاوت قرآن کے ممنوع ہونے پر وارد شدہ احادیث پر کلام کرتے ہوئے، شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں: ”وقد وردت أحاديث كثيرة بمنع قراءة القرآن للجنب والحائض. منها: حديث عبد اللہ بن رواحة، رضي اللہ تعالى عنه [حم (نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن يقرأ أحدنا القرآن وهو جنب) [/ حم. قال أبو عمر: رويناه من وجوه صحاح. ومنها: حديث عمرو بن مرة عن عبد  اللہ بن سلمة عن علي، رضي اللہ تعالى عنه، يرفعه: (لا يحجبه عن قراءة القرآن شيء إلا الجنابة) صححه جماعة منہا ابن خزيمة وابن حبان وأبو علي الطوسي والترمذي والحاكم والبغوي في (شرح السنة) وفي (سؤالات الميموني) قال شعبة: ليس أحد يحدث بحديث أجود من ذا، وفي (كامل) ابن عدي عنه، لم يرو عمرو وأحسن من هذا وكان شعبة يقول: هذا ثلث رأس مالي، وخرجه ابن الجارود في (المنتقى)۔۔ومنها: حديث جابر أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: (لا يقرأ الحائض ولا الجنب ولا النفساء القرآن شيئا) رواه الدارقطني ثم البيهقي۔۔ ومنها حديث أبي موسى قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم (يا علي لا تقرأ القرآن وأنت جنب)، وعن الأسود أخرجه ابن أبي شيبة في (مصنفه) بسند لا بأس به وإبراهيم لا يقرأ الجنب، وعن الشعبي وأبي وائل مثله بزيادة، والحائض“۔ ملتقطاً ترجمہ: جنبی اور حائضہ کے تلاوت قرآن کے ممنوع ہونے پر کثیر احادیث وارد ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں قرآن پڑھے۔ ابو عمرو رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ہم نے اس حدیث کو صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ممانعت کی احادیث میں سے ایک وہ حدیث ہے جسے عمرو بن مرہ نے عبد اللہ بن سلمہ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: قرآن پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی شی رکاوٹ نہیں۔“ محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ تصحیح بیان کرنے والی جماعت میں سے محدث ابن خزیمہ، امام ابن حبان، محدث ابو علی طوسی، امام ترمذی، امام حاکم، امام بغوی نے شرح السنہ میں تصحیح کی ہے۔ اور "سوالات میمونی " میں ہے کہ امام شعبہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے عمدہ حدیث کسی نے بیان نہیں کی۔ اور محدث ابن عدی کی کتاب "الکامل" میں انھیں سے مروی ہے کہ عمرو نے اس سے اچھی حدیث روایت نہیں کی۔ اور امام شعبہ کہا کرتے تھے کہ یہ حدیث میرے راس المال کا ثلث ہے۔ محدث ابن جارود نے "المنتقی" میں اس کی تخریج کی ہے۔ اور ممانعت کی احادیث میں سے ایک حضرت جابر رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حائضہ اور جنبی اور نفاس والی عورت قران میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔“ اس حدیث کو امام دار قطنی نے روایت کیا پھر امام بیہقی سے روایت ہے۔ اور ممانعت کی احادیث میں سے حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی! تم حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت نہ کرو۔“ اسود سے ہے کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں اس کو ایسی سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں ہے اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جنبی قرآن نہ پڑھے اور امام شعبی اور ابو وائل سے حائضہ کے اضافے کے ساتھ اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض، جلد 3، صفحہ 261، مطبوعہ بیروت)

علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”فالجمهور على تحريم القراءة عليهما جميعا“ ترجمہ: جمہور علماء کے نزدیک حائضہ اور جنبی پر تلاوت قرآن حرام ہے۔ (شرح النووی علی مسلم، باب ذكر اللہ تعالى في حال الجنابة وغيرها، جلد 4، صفحہ 68، مطبوعہ بیروت)

جنبی کے لیے تلاوت قرآن کی حرمت پر چاروں ائمہ کا اتفاق ہے چنانچہ الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے ”ويحرم على الجنب قراءة القرآن عند عامة العلماء من الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة“ ترجمہ: اور جنبی پر عامہ علماء، حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ، اور حنابلہ کے نزدیک تلاوت قرآن حرام ہے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، مایحرم فعلہ بسبب الجنابۃ، جلد 16، صفحہ 54، مطبوعہ کویت)

اب سوال میں مذکور آخری تین روایات کے انفرادی طور پر بالترتیب جواب ملاحظہ فرمائیں:۔

(3) تیسری روایت کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے۔“ اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا حالت جنابت میں تلاوت قرآن کرنا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حدیث کے الفاظ ”علی کل احیانہ“ اپنے عموم کلی پر نہیں بلکہ کھانے، پینے، سونے، حوائج ضروریہ کے اوقات اس سے مستثنی ہیں اور جب یہ عموم کلی پر نہیں تو جنابت کا شامل ہونا یقینی نہیں۔ اسی طرح جب ذکر کا حصر تلاوت میں ہی نہیں تو اس کا ثبوت محتمل اور جب دوسرے احتمالات موجود تو استدلال فاسد خصوصا جبکہ اس استدلال کے مقابل احادیث حسنہ موجود ہیں جن سے حالت جنابت و حیض میں تلاوت کی تخصیص کی گئی ہے جن کا بیان اوپر تفصیل سے ہوا۔ اس روایت کا درست مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر حالت میں اس حالت کے مناسب ذکر فرماتے رہتے تھے مثلا کھانے سے پہلے اس سے مناسب، سونے سے پہلے اس سے مناسب، کپڑا پہننے سے پہلے اس کے مناسب سفر میں جاتے وقت، واپسی آتے وقت اس کے مناسب وغیرہ وغیرہ لہذا اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حالت جنابت میں قرآن پاک کے علاوہ دیگر اذکار پڑھنے کا ثبوت ہوتا ہے لیکن قرآن کریم کی تلاوت کا ثبوت نہیں ہوتا۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ حائضہ و جنبی کے لیے قران پاک کی تلاوت کے سوا دیگر اذکار جائز ہیں۔

 شارح بخاری، علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: ”زاد ابن حبان، قد يتوهم غير المتحر في الحديث أن حديث عائشة، رضي اللہ تعالى عنها، كان يذكر اللہ تعالى على أحيائه، بعارض هذا، وليس كذلك، لأنها أرادت الذكر الذي هو غير القرآن، إذ القرآن يجوز أن يسمى ذكرا وكان لا يقرأ وهو جنب، ويقرؤه في سائر الأحوال“ ترجمہ: امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ حدیث میں غور و فکر کی کمی والا شخص وہم ڈالتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالی کا ذکر کرتے تھے “یہ (حالت جنابت وحیض میں قرآن پڑھنے کی ممانعت والی احادیث کے) معارض ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد ایسا ذکر ہے جو قرآن کے علاوہ ہے کیونکہ قرآن کو ذکر سے موسوم کرنا جائز ہے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم حالت جنابت میں نہ پڑھتے ہوں اور اس حالت کے علاوہ بقیہ تمام احوال میں پڑھتے ہوں۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض، جلد 3، صفحہ 261، مطبوعہ بیروت)

علامہ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ”ففي هذا إباحة ذكر اللہ عز وجل في حال الجنابة، وليس فيه، ولا في حديث أبي ظبية من قراءة القرآن شيء. وفي حديث علي رضي اللہ عنه بيان فرق ما بين قراءة القرآن، وذكر اللہ تعالى، في حال الجنابة“ ترجمہ: اس حدیث میں حالت جنابت میں ذکر اللہ کرنے کی اباحت موجود ہے۔ اور اس حدیث سے اور ابی ظبیہ والی حدیث سے، حالت جنابت میں قرآن پاک میں سے کچھ پڑھنے کی اباحت نہیں ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی حدیث میں حالت جنابت میں قرآن کریم پڑھنے اور دیگر اذکار پڑھنے کا فرق بیان ہوا ہے۔ (شرح معانی الآثار، باب ذکر الجنب والحائض، جلد 1، صفحہ 88، مطبوعہ بیروت)

شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یہ استدلال جیسا ہے ظاہر ہے۔ ظاہر ہے علی کل احیانہ اپنے عموم کلی پر نہیں۔کھانے، پینے، سونے، حوائج ضروریہ اس سے مستثنی ہیں۔ اور جب یہ عموم کلی پر نہیں تو اس میں حالت جنابت کا شمول یقینی نہیں۔ اسی طرح ذکر کا جب حصر تلاوت ہی میں نہیں تو اس کا ثبوت محتمل اور جب دوسرے احتمالات موجود تو استدلال فاسد، خصوصا جبکہ اس کے بالمقابل احادیث حسنہ موجود ہیں جن سے حالت جنابت اور حیض میں تلاوت کی تخصیص کی گئی ہے۔ اس حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر حالت میں اس حالت کے مناسب ذکر فرماتے رہتے تھے۔ مثلا کھانے سے پہلے اس کے مناسب، سونے سے پہلے اس کے مناسب، کپڑا پہننے سے پہلے اس کے مناسب، سفر میں جاتے وقت اس کے مناسب، سفر سے واپسی کے وقت اس کے مناسب، سواری پر بیٹھنے کے وقت اس کے مناسب، وغیرہ وغیرہ۔ ہوسکتا ہے ان اذکار میں کہیں کہیں قرآن مجید کی کوئی آیت یا آیت کا جز آجاتا رہا ہو تو اس سے ہمیں بھی انکار نہیں ہے کہ کسی آیت کا جز یا پوری آیت بہ نیت دعا حائضہ و جنبی بھی پڑھ سکتا ہے۔“ (نزہۃ القاری شر ح صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 792، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)

(4) چوتھی روایت کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہرقل روم کو خط لکھا اور اس میں قرآن کریم کی دو آیات بھی لکھی ہوئی تھیں، جن کو اس نے چھوا بھی اور پڑھا بھی حالانکہ کافر جنبی ہوتا ہے“ اس روایت سے بھی کسی طرح جنبی و حائضہ کے لیے تلاوت قرآن کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔اس کے درج ذیل جواب علماء نے دیے ہیں:

(الف) ہرقل اہل کتاب میں سے تھا اور دعوت اسلام پہنچنے سے پہلے اسے کافر کہنا درست نہیں ہے اور اہل کتاب اپنے مذہب کے مطابق وضو اور غسل بھی کرتے تھے وہی ان کے حدث و جنابت دور ہونے کے لیے کافی تھا۔

(ب) جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دو آیات اپنے خط مبارک کے مضمون کے درمیان لکھیں تو وہ سب خط کا مضمون ہوگئیں، انھیں پڑھنا خط پڑھنا ہے قرآن مجید کی تلاوت کرنا نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے قرآنی دعاؤں کو بہ نیت دعا پڑھنا تلاوت کرنا نہیں۔ جنبی کو بھی پڑھنا جائز ویسے ہی یہاں بھی ہے۔ باقی بطور قرآن اس روایت سے جنبی کے لیے پڑھنا ثابت نہیں ہوتا تو حائضہ کے لیے بھی نہیں ہوگا۔

شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اولاً ہرقل اہل کتاب میں سے تھا۔ دعوت اسلام پہنچنے سے پہلے اسے کافر کہنا درست نہیں ہے اور اہل کتاب اپنے مذہب کے مطابق وضو اور غسل بھی کرتے تھے وہی ان کے حدث و جنابت دور ہونے کے لیے کافی تھا۔ ثانیاً جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے والا نامے میں وہ دو آیتیں اپنے مضمون کے درمیان لکھیں تو وہ سب خط کا مضمون ہوگئیں، انھیں پڑھنا خط پڑھنا ہے قرآن مجید کی تلاوت کرنا نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے قرآنی دعاؤں کو بہ نیت دعا پڑھنا تلاوت کرنا نہیں۔ جنبی کو بھی پڑھنا، پڑھانا، جائز ویسے ہی یہاں بھی ہے۔ (نزہۃ القاری شر ح صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 794، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)

(5) پانچویں روایت کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کے وہ جنبی کے قرآن پاک پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے۔“ اس سے بھی معلوم ہوا کہ جنبی کا قرآن پڑھنا جائز ہے۔“ اس روایت کا عام فہم جواب یہ ہے کہ یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے اور ان کی رائے کے مقابل نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی احادیث حسنہ موجود ہیں جن میں واضح طور پر جنبی اور حائضہ کے لیے تلاوت قرآن کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ بات ہر عاقل پر عیاں ہے کہ یقیناً صحابی رسول کی رائے کے مقابل نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی رائے ہی ہر طرح لائق ترجیح ہے۔

شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یہ گزارش کروں گا کہ ایک صحابی کے فعل کے مقابلے میں احادیث حسنہ بہرحال ہر طرح لائق ترجیح ہیں۔“ (نزہۃ القاری شر ح صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 793، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو القاسم محمد اعظم قادری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10757
تاریخ اجراء: 29 ذیقعدۃ الحرام 1442ھ/10 جولائی 2021ء