کاروبار میں رقم دے کر ہر ماہ فکس نفع لینا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رقم دے کر ہر ماہ فکس نفع لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید کا اپنا کپڑوں کا کاروبار ہے عمرو نے زید کو پانچ لاکھ روپیہ دیا اور اس کے بدلے زید اب عمرو کو ہر مہینے 20 ہزار دیتا ہے کہ جب عمرو چاہے گا اپنے پانچ لاکھ واپس لے سکتا ہے، اس کے بعد یہ ماہانہ پیسے دینے کا نظام بھی بند ہوجائے گا۔ کیا شریعت مطہرہ اس طرح کی انویسٹمنٹ کی اجازت دیتی ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت سودی اور ناجائز و حرام ہے کیونکہ حقیقت میں عمرو نے زید کو انویسٹمنٹ نہیں بلکہ قرض دیا ہے کیونکہ اس کی رقم اسی طرح رہے گی اور وہ جب چاہے اپنے پیسے واپس لے سکتا ہے لہٰذا یہ قرض ہے، اور اس قرض کی وجہ سے ہی اسے نفع مل رہا ہے اور قرض پر ملنے والا مشروط نفع سود ہوتا ہے اور سود کا لین دین کرنا حرام و سخت گناہ ہے۔ لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ اس سودی معاہدے کو فوراً ختم کریں اور اس سے توبہ بھی کریں، اور زید نے عمرو سے اب تک نفع سمجھ کر جو سود لیا ہے اس پر لازم ہے کہ عمرو کو واپس کرے یا بغیر نیتِ ثواب شرعی فقیر کو دے دے۔
قرض کی تعریف بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’شرعاً: ما تعطيه من مثلى لتتقاضاه‘‘ یعنی: کسی شے کو اس غرض سے دینا کہ واپس اسی کی مثل حاصل کیا جاسکے شرعی اعتبار سے قرض کہلاتا ہے۔ (در مختار، جلد 07، صفحه 406، مطبوعہ کوئٹہ)
قرض پر مشروط نفع سود ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے: ”كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا“ یعنی: ہر وہ قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے وہ سود کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ (السنن الكبرى للبيهقى، جلد 5، صفحه 573، مطبوعه بيروت)
سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے ایک سوال ہوا جس کے الفاظ یہ ہیں: ”زید سے بکر نے کہا کہ اگر اس وقت پندرہ سو روپے دو تو میں لے لوں اور تجارت میں لگادوں اور چار سال میں اگر روپیہ ادا ہوا تو منافع لوں گا“ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”صورتِ مستفسرہ میں وہ منافع قطعی سود اور حرام ہیں، حدیث پاک میں ہے: ”کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا“ قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 561، رضا فاؤندیشن لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو مال رشوت یا تغنی یا چوری سے حاصل کیا، اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کر دے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کرے، خرید و فروخت کسی کام میں اُس مال کا لگانا حرام قطعی ہے، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کا نہیں۔ یہی حکم سُود وغیرہ عقودِ فاسدہ کا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں، بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کر دے،وذٰلک لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثتہ ما امکن اما فی الربٰو او اشباھہ فلفساد الملک وخبثہ و اذا قد ملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوک الماخوذ منہ لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شیئ واحد فلم یجب الرد وانما وجب الانخلاع عنہ اما بالرد واما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاک الخبیثۃ“ترجمہ: یہ اس لیے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے، لہٰذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹا دیا جائے، اور جہاں تک سُود یا اس جیسی اشیاء کا معاملہ ہے تو اس میں حرمت فسادِ مِلک اور خباثت کی بناء پر ہے اور جب ملک خبیث پر قبضہ کرنے کی وجہ سے وہ مالک ہو گیا، تو جس سے مال لیا گیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی، اس لیے کہ ایک چیز پر بیک وقت دو مِلک جمع ہونے محال ہیں، لہٰذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے، خواہ اسی کو واپس لوٹا یا جائے یا صدقہ کر دیا جائے جس طرح دیگر املاک خبیثہ کا حکم ہوتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 551 تا 552، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
نوٹ: شرعی اصولوں کے مطابق انویسٹمنٹ کا طریقہ جاننے کے لیے اپنے قریبی دار الافتاء اہلسنت کی برانچ وزٹ کریں یا دارالافتاء اہلسنت کے آفیشل فون نمبر پر رابطہ کریں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2466
تاریخ اجراء:08 محرم الحرام 1447ھ/04 جولائی 2025ء