قرض دے کر مقروض کی دکان کا کرایہ لینے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرض دے کر مقروض کی دکان کا کرایہ لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے دوست نے بیس لاکھ کا ایک مکان خریدا، جس کے لیے میں نے اپنے دوست کو تین لاکھ بیس ہزار روپے قرض دئیے۔ میرے دوست کی ایک دکان ہے، جس کو اس نے کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ ہمارے درمیان طے یہ پایا ہے کہ جب تک میرا دوست قرض ادا نہیں کر دیتا، تب تک میں اپنے دوست کی دکان کا کرایہ لیتا رہوں گا، جب میری قرض دی گئی رقم واپس مل جائے گی تو پھر کرایہ لینا بند ہو جائے گا؟ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا قرض واپس ملنے تک اپنے مقروض دوست کی دکان کا کرایہ لینا، قرض پر مشروط نفع لینا ہے اور قرض پر مشروط نفع سود ہوتا ہے اور سود لینا، دینا، ناجائز و حرام، گناہ کبیرہ اور باعثِ لعنت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کا لین دین کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ لہذا یہ سودی معاہدہ ہے اور جائز نہیں۔
سود کی حرمت سے متعلق قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: ’’اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔‘‘ (پارہ 3، سورۃ البقرۃ: 275)
سود کی ممانعت سے متعلق صحیح مسلم شریف کی حدیث ِمبارکہ ہے: ’’عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا و موکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء‘‘ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب (گناہ میں) برابر ہے۔ (صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 1219، رقم الحدیث: 106 - (1598)، مطبوعہ قاھرۃ)
قرض پر کسی قسم کا مشروط ( یعنی طے شدہ) نفع لینا سود ہے جو کہ حرام ہے، چنانچہ کنز العمال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پاک میں ہے: ’’کل قرض جر منفعۃ فھو ربا‘‘ ترجمہ: ہر وہ قرض جو منفعت لائے، وہ سود ہے۔ (کنز العمال، جلد 6، صفحہ 238، رقم الحدیث: 61551، مؤسسة الرسالة بیروت)
مصنف ابنِ ابی شیبہ کی حدیث پاک ہے: ’’عن ابن سیرین قال: اقرض رجل رجلاً خمسین مائۃ درھم و اشترط علیہ ظھر فرسہ فقال ابن مسعود: ما اصاب من ظھر فرسہ فھو ربا‘‘ ترجمہ: امام ابنِ سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، فرمایا کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو پانچ سو درہم قرض دیئے اور اِس قرض دینے پر اُس کے گھوڑے پر سواری (کا نفع حاصل کرنے) کی شرط رکھ لی، تو حضرتِ سیِدُنا عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے گھوڑے کی سواری کا جو نفع حاصل کیا، وہ سود ہے۔ (المصنف لابن ابی شیبہ، جلد 10، صفحہ 648، المجلس العلمی، بیروت)
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”قول منقح و محرر و اصل محقق و مقرریہ ہے کہ بر بنائے قرض کسی قسم کا نفع لینا مطلقاً سود و حرام ہے، حدیث میں ہے، حضور سید عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’کل قرض جر منفعۃ فھو رباً‘‘ یعنی ہر وہ قرض جو نفع کھینچ کر لائے، وہ سود ہے۔۔۔ یعنی اگر قرض اس شرط پر دیا کہ نفع لیں گے، تو وہ نفع بر بنائے قرض حرام ہوا ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 224، 223، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1245
تاریخ اجراء: 14 محرم الحرام 1448ھ/30 جون 2026ء