logo logo
AI Search

مقروض قرض ادا کیے بغیر فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مقروض قرض ادا کئے بغیر فوت ہو جائے تو کیا اسے سزا ملے گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

یاد رکھیں کہ مقروض یعنی جس شخص پر قرضہ ہو اوروہ فوت ہوجائے، تو اس کے قرض کی ادائیگی کے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ اگر مقروض میت نے اپنی ملکیت میں وفات کے وقت مال و اسباب خواہ کسی بھی صورت مثلامکان، جائیداد، سامان، رقم وغیرہ میں چھوڑا ہو، تو اس میں مال و اسباب میں ترتیب وار چار حقوق متعلق ہوں گے کہ سب سے پہلے اس مال سے میت کی تجہیز و تکفین میں فضول خرچی اور کنجوسی کے بغیر مال خرچ کیا جائے ،پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد اگر میت نے کسی چیز کی وصیت کی ہو، تو بقیہ رقم کی ایک تہائی 3/1 میں سے وصیت پوری کی جائے ، پھر باقی مال، ورثا کے درمیان کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ طریقہ کے مطابق تقسیم کیا جائے۔

اس تفصیل کی روشنی میں وراثت کی تقسیم کاری سے پہلے ترتیب وار حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے، جن میں سےدوسرا حق میت کے قرض کی ادائیگی کا بھی ہے، لہذا ورثاء کا اوپر بیان کردہ ترتیب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، میت کا قرض نہ اتارنا اور ترکہ تقسیم کر دینا، درست نہیں کیونکہ قرض میت کے ذمہ پر تھا، لہٰذااس کی ادائیگی سے پہلے ترکہ تقسیم نہیں ہوسکتا۔

ہاں! اگر واقعی مقروض شخص کے پاس دنیامیں مال نہیں تھا، اور اس نے ترکہ کچھ نہیں چھوڑا، اور اس نے بوقت حاجت قرض اداکرنے کی نیت سے قرض لیا، اور اس کی قرض ادا کرنے کی نیت بھی تھی، اور وہ اس میں کوشش بھی کرتا رہا، لیکن ان تمام کوششوں کے باجود وہ قرض ادا نہ کر سکا، تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ بروزِ  قیامت اسے سزادینے کی بجائے اس کے حسن نیت کے سبب اللہ کریم بروز قیامت اس کی مدد فرمائے گا خواہ اس کے قرض خواہ کو راضی فر ما کریا پھر اس کے دل میں قرض معاف کرنے کی بات ڈال کرکہ وہ اس کا قرض معاف کر دے، اور اس طرح مقروض کوقرض سے بری الذمہ فرمادے۔ البتہ اگر مرنے والے نے کچھ نہ چھوڑا ہو اور وصیت بھی نہ کی ہو، تو ورثا پرادائیگی لازم نہیں، لیکن پھر بھی ان کے لئے ترغیب ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کے قرض کی ادائیگی کردیں۔

میت کے ترکے کے حقوق کی ترتیب کے متعلق علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتےہیں: قال علماءنا رحمھم اللہ تعالیٰ تتعلق المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ، الاول: یبداء بتکفینہ و تجھیزہ من غیر تبذیر و لاتقصیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث مابقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب و السنۃ و اجماع الامّۃ" ترجمہ: ہمارے علمائے عظام رحمھم اللہ السلام فرماتے ہیں: میت کے ساتھ چار حقوق ترتیب وار متعلق ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ ابتداءً میت کی تجہیز و تکفین بغیر کسی فضول خرچی اور کمی کے کی جائے گی، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے، پھر قرض سےجو رقم بچے گی اس کی ایک تہائی 3/1 میں وصیت نافذ ہو گی، پھر باقی مال، ورثا کے درمیان کتاب و سنت اور اجماع  امت سے ثابت شدہ طریقہ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ (السراجی فی المیراث، صفحہ 11، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سنن ترمذی شریف میں ہے ”عن علي، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية، ۔ ۔و العمل علي هذا عند عامة أهل العلم: أنه يبدأ بالدين قبل الوصية“ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے دین یعنی قرض ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا، اور علما کااسی پر عمل ہے کہ وہ (وراثت) کی تقسیم میں وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کرتے۔ (سننِ ترمذی، صفحہ 796، رقم الحدیث 2122، مطبوعہ: دمشق)

بخاری شریف میں ہے ”عن النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلم قال: من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى اللہ عنه، ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه اللہ“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لوگوں کا مال اس ارادے سے لے کہ وہ انہیں واپس کر دے گا، اس مال کی ادائیگی میں اللہ کریم ایسے شخص کی مدد فرمائے گا اور جو شخص لوگوں کا مال ہڑپ کرنے اور ضائع کرنے کی نیت سے لے، اللہ تعالیٰ اسے ہلاک و برباد کر دے گا۔ (صحیح البخاری، صفحہ 430، رقم الحدیث 2378، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

درج بالا حدیث مبارک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے ”من استقرض احتياجا وهو يقصد أداءه و يجتهد فيه (أدى اللہ عنه): أي: أعانه على أدائه في الدنيا أو أرضى خصمه في العقبى“ ترجمہ: جو شخص ضرورت کی وجہ سے قرض لے، اس کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو، اور وہ اسے ادا کرنے کی پوری کوشش بھی کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرنے میں مدد فرمائے گا، یا دنیا میں اسے قرض ادا کرنے کے اسباب مہیا فرما دے گا، اور اگر دنیا میں ادائیگی نہ ہو سکے، تو آخرت میں قرض خواہ کو راضی فرما دے گا۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 6، صفحہ 110، مطبوعہ: کوئٹہ)

لیکن اگر میت نے مال نہ چھوڑا ہو اور اس پر قرض ہو تو ورثاء کو چاہیے کہ اپنے مال سے مرحوم کے قرض کی ادائیگی کر دیں، تاکہ وہ اس سے سبکدوش ہو جائے، چنانچہ مرحوم کے قرضے کی ادائیگی کی اہمیت جاننے کے لیے ایک روایت ملاحظہ کیجیے، صحيح بخارى شریف میں ہے: عن أبي هريرة رضي اللہ عنه: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين، فيسأل: هل ترك لدينه فضلا، فإن حدث أنه ترك لدينه وفاء، صلى، و إلا قال للمسلمين: صلوا على صاحبكم، فلما فتح اللہ عليه الفتوح،  قال: أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم، فمن توفي من المؤمنين فترك دينا، فعلي قضاؤه، و من ترك مالا فلورثته“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایسی میت کو لایا جاتا جس پر قرض ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پوچھتے کیا اس نے اپنے قرض کے لیے کوئی زائد مال چھوڑا ہے؟ اگر بیان کیاجاتا کہ مکمل قرض کی ادائیگی کے لیے مال چھوڑا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نماز جنازہ ادا فرماتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے کہ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو، پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پر کشائش فرمائی، تو ارشاد فرمایاکہ میں مومنوں کی جانوں کا ان سے زیادہ حق دار ہوں، لہٰذا جو بندۂ مومن اپنے ذمہ قرض چھوڑکر فوت ہو تو اس کو ادا کرنا مجھ پر لازم ہے اور جس نے مال چھوڑا ہو، تو وہ اُس کے ورثا کے لیے ہے۔ (صحیح البخاری، صفحہ 412، رقم الحدیث 2298، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

 کنز العمال میں ہے "شهدت جنازة فيها النبي صلى اللہ عليه و سلم فلما وضعت سأل النبي صلى اللہ عليه و سلم: هل عليه دين؟ قالوا: نعم فعدل عنها و قال: صلوا على صاحبكم، فلما رآه علي يمضي قال: يا رسول اللہ هو بريء من دينه أنا ضامن لما عليه فأقبل النبي صلى اللہ عليه وسلم فصلى عليه، فلما انصرف قال: يا علي جزاك اللہ و الإسلام خيرا فك اللہ رهانك من النار كما فككت رهان أخيك المسلم ليس من عبد مسلم يقضي عن أخيه دينا إلا فك اللہ رهانه يوم القيامة، فقام رجل من الأنصار فقال: يا رسول اللہ لعلي هذا خاصة؟ قال: لا بل لعامة المسلمين" ترجمہ: ایک جناز ہ آیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، جب جنازہ رکھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کیا اس کےذمے قرض ہے ؟حاضرین نے عرض کیا: جی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھو، تو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کوواپس تشریف لے جاتے دیکھا تو کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! یہ قرض سے بری ہے، میں اس کے قرض کا ضامن ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر جب پلٹے تو فرمایا: اے علی! اللہ تجھے بہترین جزا اورسلامتی سے نوازے، اللہ تمہاری بندشوں کو توڑے جیسے تم نے اپنے مسلمان بھائی کی بندش توڑی، کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں جو اپنے بھائی کا قرض ادا کرے مگر اللہ تعالی بروز قیامت اس کی بندشیں ختم فرمائے گا، اس پر ایک انصاری صحابی نے کھڑے ہوے اور پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! کیا یہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خاص ہے؟ تو فرمایا: نہیں، بلکہ یہ سب مسلمانوں کے لیے ہے۔ (کنز العمال، جلد 6، صفحہ 246، مطبوعہ: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5215
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1448ھ / 27 جولائی 2026ء