زمین گروی رکھ کر قرض لینے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اپنی زمین گروی رکھ کر قرض لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اپنی زمین گروی رکھ کر رقم ادھار لینا کیسا؟
جواب
زمین گروی رکھ کر رقم ادھار لینا شرعاً جائز ہے، لیکن اگر صورت حال یہ ہے کہ قرض لیا اور اپنی زمین گروی رکھوا دی کہ جب تک قرض واپس نہ ہو اس وقت تک قرض دینے والا اس زمین سے فائدہ اٹھاتا رہے، پھر جب قرض واپس کیا جائے گا تو زمین واپس مل جائے گی تو یہ سودی معاملہ اور ناجائز و گناہ ہے، اس سے مسلمانوں کو بچنا لازم ہے۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”رہن میں کسی طرح کے نفع کی شرط بلا شبہ حرام اور خالص سود ہے بلکہ اِن دیار میں مرتہن کا مرہون سے انتفاع بلاشرط بھی حقیقۃً بحکمِ عرف انتفاع بالشرط ربائے محض ہے۔
قال الشامی قال ط قلت والغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدراھم و ھذا بمنزلۃ الشرط لان المعروف کالمشروط و ھو مما یعین المنع ترجمہ: علامہ شامی فرماتے ہیں کہ طحاوی نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ غالب حال لوگوں کا یہ ہے کہ وہ رہن سے نفع کا ارادہ رکھتے ہیں اگر یہ توقع نہ ہو تو قرض ہی نہ دیں اور یہ بمنزلہ شرط کے ہے کیونکہ معروف مشروط کے حکم میں ہوتا ہے۔ یہ بات عدمِ جواز کو متعین کرتی ہے۔ “ (فتاویٰ رضویہ، جلد 25، صفحہ 57، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2457
تاریخ اجراء: 21 ربیع الاوّل 1447ھ/15 ستمبر 2025ء