logo logo
AI Search

سہارے سے کھڑے ہونے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سہارے سے کھڑے ہونے والے شخص کی امامت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام صاحب جامع شرائط ہیں، البتہ ان کو پٹھوں کی کمزوری کا مسئلہ ہے، وہ چلتے پھِرتے تو ہیں، گھر سے مسجد اور مسجد سے گھر پیدل ہی آتے جاتے ہیں، مگر ان کو چلنے میں کچھ آزمائش ہوتی ہے، کیونکہ ان کے گھٹنے مکمل سیدھے نہیں ہو پاتے، بلکہ گھٹنوں کا جھکاؤ آگے کی جانب رہتا ہے۔ اور نماز میں بھی جب سجدے سے اٹھتے ہیں، تو انہیں ایک ہاتھ سے ممبر وغیرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے، اگر سہارا نہ لیں، تو کھڑے ہونے میں کافی آزمائش ہوتی ہے اور نارمل کیفیت کی بنسبت کچھ وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایسے امام کے پیچھے نماز شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر امام صاحب میں امامت کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں اور وہ وہاں موجود افراد میں سب سے زیادہ مسائلِ نماز و طہارت جانتے ہیں، تو ان کے پیچھے نماز بلا کراہت درست ہے۔ اور اگر وہاں کوئی ایسا شخص موجود ہو، جس میں امامت کی تمام شرائط پائی جائیں اور وہ امام صاحب کی بنسبت مسائل نماز و طہارت زیادہ یا ان کے برابر جانتا ہو، تو اس صورت میں ان امام صاحب کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی اور خلاف اولیٰ ہے۔

یاد رہے کہ مذکورہ حکم فی نفسہٖ نماز سے متعلق ہے، البتہ اگر یہ چیز لوگوں کے لئے باعثِ نفرت اور جماعت میں کمی کا سبب ہو، بالخصوص جب امام نارمل کیفیت سے زیادہ وقت لگاتا ہے، تو واقعی لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار اور نئے نمازیوں کے لئے باعثِ تشویش ہوتی ہے، ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ ایسے شخص کو امام مقرر کیا جائے، جو جامع شرائط اور ہر اعتبار سے کامل ہو، کیونکہ جو ہر اعتبار سے کامل ہوتا ہے، اسی کی امامت افضل ہے۔

بہتر امام وہ ہے، جو ہر لحاظ سے کامل ہو۔ چنانچہ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: کل من کان اکمل فھو افضل، لان المقصود کثرۃ الجماعۃ و رغبۃ الناس فیہ اکثر و اجتماعهم عليه اوفر‘‘ ترجمہ: ایسا شخص جو ہر لحاظ سے اکمل ہو، وہی امامت کے لئے افضل ہے، کیونکہ مقصد جماعت کی کثرت ہےاور لوگوں کی ایسے شخص میں رغبت اور اسکے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، ج 1، ص 134، مطبوعہ، المطبعۃ الکبری الامیریہ، القاہرہ)

اسی بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: امام اُسے کیا جائے جو سنّی صحیح العقیدہ، صحیح الطہارۃ، صحیح القرأۃ، مسائلِ نماز و طہارت کا عالم، غیر فاسق ہو، نہ اُس میں کوئی ایسا جسمانی یا روحانی عیب ہو، جس سے لوگوں کو تنفر ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 626، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

کن لوگوں کے پیچھے نماز مکروہ ہے، اس بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: فان من مسائل کراھۃ الامام مفرعۃ علی ھذا الاصل و ھو ان من کان فیہ تنفیر الناس و قلۃ رغبتھم فامامتہ مکروھۃ کولد بغی و ابرص شاع برصہ وغیرھما‘‘ کیونکہ کراہتِ امامت کے بعض مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیں، وہ ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ لوگوں کو نفرت اور قلتِ رغبت ہواس کی امامت مکروہ ہے، مثلاً ولد الزنا اور برص والا ایسا شخص کہ جس کا مرضِ برص پھیل گیا ہو وغیرہما۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 462، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جس کے پاؤں میں ٹیڑھا پن ہو،اسی طرح بعض دیگر افراد کی امامت مکروہِ تنزیہی ہے۔ چنانچہ درِ مختار مع رد المحتار میں ہے: بین القوسین مزیدا من رد المحتار: تكره (الظاهر انها تنزيهية) خلف ۔ ۔ ۔ مفلوج و ابرص شاع برصه (و كذلك اعرج يقوم ببعض قدمه، فالاقتداء بغيره اولى تتارخانية و كذا ۔ ۔ ۔ من له يد واحدة ۔ ۔ ۔ و الظاهر ان العلة النفرة) ترجمہ: فالج زدہ، برص والا جس کا برص پھیل چکا ہو اور اسی طرح لنگڑا جو بعض قدم کے سہارے کھڑا ہوتا ہو،ان سب کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی ہے، پس ان کے علاوہ کی اقتداء اولیٰ ہے، تتارخانیہ۔ اور اسی طرح کا حکم اس شخص کا ہے، جس کا ایک ہی ہاتھ ہو۔ اور ظاہر یہ ہے کہ (ان کی امامت مکروہ ہونے کی) علت لوگوں کا نفرت کرنا ہے۔ (درِ مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 562، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)

اسی بارے میں فتاویٰ عا لمگیری میں ہے: لو كان لقدم الامام عوج وقام على بعضها يجوز وغيره اولى‘‘ ترجمہ: اگر امام کے پاؤں میں ٹیڑھا پن ہو، کہ پورا پاؤں زمین پر نہیں جما سکتا، تب بھی اس کی امامت جائز ہے، مگر (اس کے مقابلے میں) غیر معذور کی امامت بہتر ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، ج 1، ص 85، مطبوعہ، دار الفکر)

مذکورہ افراد کی امامت اس وقت مکروہ ہے، جب وہاں اور کوئی امامت کا زیادہ حقدار موجود ہو، ورنہ نہیں۔ چنانچہ در مختار مع رد المحتار میں ہے: بین القوسین مزیدا من رد المحتار هذا (ای ما ذكر من كراهة امامة المذكورين) ان وجد غيرهم (ای من هو احق بالامامة منهم) و الا فلا كراهة‘‘ مذکورہ لوگوں کی امامت اس وقت مکروہ ہے جب ان سے زیادہ امامت کا حق دار کوئی موجود ہو، ورنہ مکروہ نہیں۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 562، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: GUJ-0051
تاریخ اجراء: 21 ربیع الثانی 1447ھ / 15 اکتوبر 2025ء