logo logo
AI Search

پچھلی صف چیر کر اگلی صف پر کرنے جانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پچھلی صف کوچیرکراگلی صف میں جگہ پرکرنے کے لیے جانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

   بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ ہم نماز پڑھنے کے لیے مسجدمیں جاتے ہیں، نماز شروع ہوچکی ہوتی ہے لیکن اگلی صف میں کسی ایک طرف ایک آدمی کی جگہ خالی  ہوتی ہے اور اس سے جو پیچھے والی صف ہے اس میں بھی لوگ کھڑے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ مکمل ہوچکی ہوتی ہے تو اس صور ت حال میں کیا كريں؟ 

جواب

اگلی صف میں جگہ  خالی ہو اور پچھلی صف مکمل گئی ہو، تونئے آنے والے مقتدی کو حکم ہے کہ پچھلی صف کو چیر کر اگلی صف میں جائے اور اس خالی جگہ میں کھڑا ہو۔ اس کے ليے حدیث میں فرمایا: "جو صف میں کشادگی دیکھ کر اسے بند کر دے، اس کی مغفرت ہو جائے گی۔"

   مسند البزار میں روایت ہے کہ،”أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: من سد فرجة في الصف غفر له“ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نےارشاد فرمایا: "جس نے صف کی کشادگی کو پُر کیا تو اس کی مغفرت کردی جائے گی۔" (مسند البزار، رقم الحدیث 4232، ج 10، ص  159، مكتبة العلوم و الحكم)فتاوی ہندیہ میں ہے:"و إن وجد في الصف الأول فرجة دون الصف الثاني يخرق الصف الثاني كذا في القنيةترجمہ: اگر  پہلی صف میں جگہ خالی  ہو دوسری میں نہ ہو تو دوسری صف کو چیر ے گا (اور پہلی صف کی کشادگی کو پُر کرے گا) ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 89، دار الفکر، بیروت)

   بہار شریعت میں ہے "  پہلی صف میں جگہ ہو اور پچھلی صف بھر گئی ہو تو اس کو چیر کر جائے اور اس خالی جگہ میں کھڑا ہو، اس کے ليے حدیث میں فرمایا: کہ ''جو صف میں کشادگی دیکھ کر اسے بند کر دے، اس کی مغفرت ہو جائے گی۔''(بہار شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 586، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-3769

تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1446 ھ/23 اپریل 2025 ء