logo logo
AI Search

سامع امام کے پیچھے قراءت کر لے تو حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سامع کا امام کے پیچھے قراءت کرنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تراویح میں حافظ صاحب قرآن کریم سناتے ہیں، ان کے پیچھے سامع کھڑے ہوتے ہیں تاکہ اگر کوئی غلطی ہو، تو وہ لقمہ دیدیں، تو کیا سامع اپنے آپ کو غلطی سے بچانے کے لئے امام صاحب کے ساتھ خود بھی ہلکی آواز کے ساتھ قراءت کر سکتا ہے؟ اور اگر کسی نے یوں قراءت کی ہو، تو ایسے سامع کی تراویح کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

جواب جاننے سے قبل تمہیداً یہ سمجھ لیجئے کہ نماز چاہے سری ہو یا جہری، احناف کے نزدیک کسی بھی مقتدی کا امام کے پیچھے قراءت کرنا مکروہِ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، امام کی قراءت مقتدیوں کے حق میں کافی ہے، لہذا امام جب قراءت کرے، تو مقتدیوں پر خاموش رہنا واجب ہوتا ہے۔ پھر اگر کسی نے بھول کر امام کے پیچھے قراءت کی، تو اس کی نماز ہو جائے گی اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا، لیکن اگر قصداً قراءت کی، تو نماز کا اعادہ واجب ہو گا، کیونکہ امام کے پیچھے اگر بھولے سے کوئی واجب ترک ہو جائے، تو اس سے نہ سجدہ سہو لازم آتا ہے اور نہ ہی اعادہ، لیکن اگر قصداً واجب ترک کیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوجاتی ہے۔

اس تفصیل کے مطابق دیگر مقتدیوں کی طرح سامع کا امام کے پیچھے قراءت کرنا بھی مکروہ تحریمی و گناہ ہے، نیز سامع کا اس وجہ سے قراءت کرنا کہ وہ غلطی سے بچ سکے، یہ قصداً ترکِ واجب کہلائے گا اور اس طرح پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ واجب ہو گا، لہٰذا سامع نے اپنی قراءت کے ساتھ جتنی بھی نمازیں اور تراویح ادا کیں، توبہ کے ساتھ ان سب کا اعادہ (لوٹانا) واجب ہو گا۔

اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ (پارہ 9، سورۃ الاعراف، آیت 204)

مذکورہ آیت کریمہ کے تحت تفسیر نور العرفان میں ہے: ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنا مقتدی کو منع ہے، خواہ امام جہری قراءت کرے یا آہستہ۔ مقتدی پر سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض ہوتا، تو رکوع میں مل جانے سے اس کو رکعت نہ ملتی۔ امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہے، جمہور صحابہ کا مذہب یہی ہے۔ یہ آیت مقتدی کو سورۃ فاتحہ پڑھنے سے روکنے کے لئے (دلیل) ہے‘‘۔ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 212، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امام قراءت کرے، تو مقتدی خاموش رہے گا۔ سنن نسائی میں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’انما جعل الامام لیوتم بہ، فاذا کبر فکبروا واذا قرا فانصتوا‘‘ ترجمہ: بے شک امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو اور جب قراءت کرے، تو خاموش رہو۔ (سنن نسائی، کتاب الافتتاح، جلد 1، صفحہ 146، مطبوعہ لاہور)

امام کی قراءت ہی مقتدی کی قراءت ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’من کان لہ امام، فقراءۃ الامام لہ قراءۃ‘‘ ترجمہ: جس کے لئے امام ہو، تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوۃ، صفحہ 61، مطبوعہ کراچی)

امام کے پیچھے مقتدی کا خاموش رہنا واجب ہے۔ چنانچہ در مختا ر میں واجباتِ نماز ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’(انصات المقتدی) فلو قرا خلف امامہ کرہ تحریماً ولا تفسد فی الاصح کما سیاتی قبیل باب الامامۃ ولا یلزمہ سجود سھو لو قرا سھواً‘‘ ترجمہ: مقتدی کا خاموش رہنا (واجب ہے)، اگر کسی نے امام کے پیچھے قراءت کی، تو مکروہ تحریمی ہے اور اصح قول کے مطابق نماز فاسد نہیں ہو گی، جیسا کہ عنقریب باب الامامۃ سے کچھ پہلے آئےگا اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا جبکہ بھول کر قراءت کی ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 202، مطبوعہ پشاور)

اور امام کے پیچھے قصداً ترکِ واجب سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار میں ہے: ’’(قولہ: انصات المقتدی) فلو لم ینصت وقرا، یجب علیہ اعادۃ الصلوۃ‘‘ ترجمہ: (مقتدی کا خاموش رہنا واجب ہے) اگر خاموش نہ رہا اور قراءت کی، تو اس پر نماز کا اعادہ واجب ہو گا۔‘‘ (حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 211، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی امجدیہ میں ہے: ’’چوں از مقتدی سھواً ترک واجب واقع شد، نہ بروسجدہ سھو واجب است، نہ اعادہ نماز۔ اعادہ درآں صورت واجب است کہ عمداً ترک واجب کند یا او از جانب شرع بسجدہ سھو مامور بود ونکند، خواہ نکردن از سھو بود یا بقصد۔۔۔ الخ‘‘ ترجمہ: جب مقتدی سے بھول کر واجب چھوٹ جائے، اس پر نہ سجدہ سہو واجب ہے، نہ اعادہ نماز۔ اعادہ نماز اس صورت میں واجب ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر واجب چھوڑ دے یا اس پر شریعت کی جانب سے سجدہ سہو کا حکم تھا اور اس نے نہیں کیا، سجدہ نہ کرنا خواہ بھول کر ہو یا قصداً۔۔ الخ‘‘ (فتاوی امجدیہ، حصہ 1، صفحہ 274، مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی)

یونہی فقہ کا مشہور قاعدہ ہے کہ جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی، اس کا اعادہ واجب ہے۔ چنانچہ درر الحکا م میں ہے: ’’کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم، تجب اعادتھا‘‘ ترجمہ: ہر وہ نماز جو کراہتِ تحریم کے ساتھ ادا کی گئی ہو، اس کا اعادہ واجب ہو گا۔ ‘‘ (درر الحکام شرح غرر الاحکام، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 69، مطبوعہ بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7210
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1444ھ / 16 مئی 2023ء