منفرد کے امام سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امام نے نماز میں آیتِ سجدہ پڑھی اس وقت کوئی اپنی نماز پڑھ رہا ہو تو اس پر سجدہ تلاوت لازم ہوگا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک دن عشاء کی نماز میں لیٹ ہو گیا۔ میں اکیلا اپنی عشاء کی فرض نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت تراویح شروع ہو چکی تھی۔ اسی دوران حافظ صاحب نے آیت سجدہ پڑھی اور نماز میں سجدہ تلاوت کیا۔ آیت سجدہ میں نے بھی سنی تھی اگرچہ میں اپنی نماز میں تھا۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے اوپر سجدہ تلاوت واجب ہے یا نہیں ؟ ایسی صورت میں اگر سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے تو نمازی کو کب سجدہ کرنا چاہیے، نماز میں یا نماز سے فارغ ہو کر؟ مجھے چونکہ علم نہیں تھا اس لیے میں نے ابھی تک وہ سجدہ نہیں کیا ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔
جواب
صورت مسئولہ میں تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب سے آیت ِسجدہ سننے کے سبب آپ پر بھی سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے کیونکہ سجدہ تلاوت لازم ہونے کا سبب آیتِ سجدہ کا سننا ہے جو یہاں پایا گیا ہے۔ اور مذکورہ صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ نمازی نماز سے فارغ ہو کر سجدہ تلاوت کرے۔ نماز میں نہ کرے کیونکہ خارجِ نماز سے آیت سجدہ سننے کے سبب لازم ہونے والا سجدہ افعال نماز میں سے نہیں ہے اور جو کام افعال نماز سے نہ ہو اسے نماز کے اندر داخل کرنا جائز نہیں اور اگر نماز کے اندر سجدہ تلاوت ادا کرنے کی نیت سے نماز کے سجدے سے جدا سجدہ کر لیا تو اس سے سجدہ تلاوت ادا نہ ہوگا کیونکہ ممنوع و ناجائز کام کرنے سے واجب ادا نہیں ہوسکتا بلکہ ایسی صورت میں نماز سے باہر اس سجدے کا دوبارہ ادا کرنا لازم ہے۔ نماز میں کر لینے سے اگرچہ نماز فاسد نہیں ہوتی جبکہ تلاوت کرنے والے کے ساتھ، اس کی اتباع کے قصد کے ساتھ سجدہ نہ کیا ہو مگر افعال نماز کے علاوہ عمل، نماز میں کرنا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے اور ایسی نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے وہ واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اگر اس صورت میں تلاوت کرنے والے کے ساتھ، اس کی اتباع کے قصد کے ساتھ سجدہ کیا جائے تو نماز ہی ٹوٹ جاتی ہے۔
المبسوط للسرخسی میں ہے "وإذا سمعها من الإمام من ليس معهم في الصلاة فعليه أن يسجدها لتقرر السبب وهو السماع" ترجمہ: اور جب کسی ایسے شخص نے امام سے سجدہ تلاوت سنی جو ان کے ساتھ نماز میں نہیں ہے پس اس پر لازم ہے کہ وہ سجدہ تلاوت کرے سبب کے پائے جانے کی وجہ سے اور وہ آیت ِسجدہ کا سننا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 2، صفحہ 11، دارالمعرفة، بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے "ولو سمع المصلی من أجنبی يسجد بعد الفراغ ولو سجد فی الصلاة لا يجزيه ولا تفسد صلاته، كذا في التهذيب هو الصحيح، كذا في الخلاصة" ترجمہ: اور اگر نمازی نے کسی دوسرے سے آیت سجدہ سنی تو نماز کے بعد سجدہ کرے اور اگر نماز میں ہی کر لیا تو یہ کافی نہ ہوگا اور اس کی نماز فاسد نہ ہوگی، جیساکہ تہذیب میں ہے اور وہی صحیح ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 133، دارالفکر، بیروت)
تنویر الابصار مع در مختار و رد المحتار میں ہے ”ولو سمع المصلي السجدة من غيره (أي ممن ليس معه في الصلاة سواء كان إماما غير إمامه أو مؤتما بذلك الإمام أو منفردا أو غير مصل أصلا) لم يسجد فيها لأنها غير صلاتية بل يسجد بعدها لسماعها من غير محجور (ولو سجد فيها لم تجزه) لأنها ناقصة للنهي فلا يتأدى بها الكامل“ والعبارۃ بین الھلالین مزیدا من رد المحتار“ ترجمہ: نمازی نے دوسرے سے آیت سجدہ سنی یعنی اس سے سنی جو اس کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو برابر ہے کہ وہ اس کے امام کے علاوہ کوئی دوسرا امام ہو یا اس دوسرے امام کا مقتدی ہو یا منفرد ہو یا اصلا نمازی ہی نہ ہو تو نماز میں سجدہ نہ کرے کیونکہ یہ سجدہ نماز کا نہیں بلکہ نماز کے بعد سجدہ کرے کہ آیت سجدہ سنی ایسے شخص سے ہے جس کو آیت سجدہ پڑھنے کی ممانعت نہیں اور اگر نماز کے اندر سجدہ کر لیا تو وہ کافی نہیں کیونکہ وہ ممنوع ہونے کی وجہ سے ناقص ہے پس اس سے کامل سجدہ ادا نہیں ہوگا۔ (تنویر الابصار مع در مختار ورد المحتار، جلد 2، صفحہ 113، دار الفكر، بيروت)
مذکورہ بالا عبارت میں موجود الفاظ ”(للنهي)“ کے تحت رد المحتار میں ہے”علة للنقصان وذلك أن الأمر بإتمام الركن الذي هو فيه وانتقاله إلى آخر يقتضي النهي عن الاشتغال بأداء ما وجب بسبب خارج عن الصلاة فيها فالنهي ضمني كما في غرر الأفكار“ ترجمہ: مصنف کا قول للنہی نماز کے اندر کئے گئے سجدہ تلاوت کے ناقص ہونے کی علت ہے یعنی نمازی کو حکم ہے کہ وہ جس رکن کو ادا کر رہا ہے اس کو مکمل کرنے کے بعد دوسرے رکن کی طرف منتقل ہو اور یہ نماز سے باہر کے واجب کو نماز کے اندر ادا کرنے کے ممنوع ہونے کا تقاضہ کرتا ہے لہذا نہی ضمنی ہے جیسا کہ غرر الافکار میں ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 113، دار الفكر، بيروت)
مزید آگے چل کر علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں: ”والظاهر أن الإعادة واجبة لكراهة التحريم کما ہو مقتضی النہی المذکور“ ترجمہ: ظاہر یہ ہے کہ (وہ سجدہ نماز میں ہی کر لینے کی صورت وہ) نماز لوٹانا واجب ہے مکروہ تحریمی ہونے کی وجہ سے جیسا کہ مذکورہ نہی کا تقاضا ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 113، دار الفكر، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ’’اگر دوسرے نمازی نے کہ اس کے ساتھ نماز میں شریک نہ تھا آیت سُنی خواہ وہ منفرد ہو یا دوسرے امام کا مقتدی یا دوسرا امام ان پر بعد نماز سجدہ واجب ہے۔ يوہيں اس پر واجب ہے جو نماز میں نہ ہو۔ جو شخص نماز میں نہیں اور آیت سجدہ پڑھی اور نمازی نے سُنی تو بعد نماز سجدہ کرے نماز میں نہ کرے اور نماز ہی میں کر لیا تو کافی نہ ہو گا، بعد نماز پھر کرنا ہو گا مگر نماز فاسد نہ ہوگی ہاں اگر تلاوت کرنے والے کے ساتھ سجدہ کیا اور اتباع کا قصد بھی کیا تو نماز جاتی رہی۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 729، مکتبۃالمدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو القاسم محمد اعظم قادری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: LAR-11307
تاریخ اجراء: 18 رمضان المبارک 1443 ھ / 20 اپریل 2022 ء