logo logo
AI Search

حنفی امام کا بسم اللّٰہ بلند آواز سے پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حنفی امام کا شافعی مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز میں تسمیہ بلند آواز سے پڑھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ملائیشیا میں شافعی مذہب کے ماننے والے ہیں اور جب ہم کمپنی میں ایک ساتھ سب اسٹاف والے نماز پڑھتے ہیں تو بعض اوقات وہ مجھے جماعت کے لیے آگے کر دیتے ہیں اور جس طرح ان کے امام صاحب سورہ فاتحہ سے پہلے اور دوسری صورت ساتھ ملانے سے پہلے بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں تو میں بھی اسی طرح سورہ فاتحہ سے پہلے اور سورہ فاتحہ کے بعد بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہوں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریحات کے مطابق حنفی کے لیے اس وقت تک دیگر ائمہ مجتہدین (امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کے مذہب کی رعایت کرنا مستحب ہے، جب تک اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب نہ کرنا پڑے اور اگر ان کی رعایت کرنے میں اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب کرنا پڑے، تو ایسی رعایت کی اجازت نہیں۔ بیان کی گئی صورت میں فقہ حنفی کے مطابق نماز میں تعوذ و تسمیہ آہستہ پڑھنا سنت ہے، جہر (یعنی بلند آواز) سے پڑھنا خلاف سنت و مکروہ ہے، لہذا نماز پڑھاتے وقت (شوافع کی رعایت کرتے ہوئے) آپ کا تعوذ و تسمیہ بلند آواز سے پڑھنا درست نہیں کہ اس میں مکروہ کا ارتکاب ہورہا ہے۔

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حتی الامکان چاروں مذہب بلکہ جمیع مذاہب ائمہ مجتہدین کی رعایت ہمارے علماء بلکہ سب علماء مستحب لکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ یہ اسی وقت تک ہے کہ اپنے مذہب کے کسی مکروہ کا ارتکاب نہ ہو ورنہ ایسی رعایت کی اجازت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 297، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نماز میں تعوذ و تسمیہ آہستہ آواز سے پڑھنا سنت ہے۔ جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے (سننها) رفع اليدين للتحريمة، و نشر أصابعه، و جهر الإمام بالتكبير، و الثناء، و التعوذ، و التسمية، و التأمين سرا" ترجمہ: نمازی کا تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا، اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھنا، امام کا بلند آواز سے تکبیرکہنا، ثناء، تعوذ، تسمیہ اور آمین آہستہ آواز سے کہنا نماز کی سنتوں میں سے ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 01، صفحہ 80، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نماز کی سنتوں کو بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں: ثنا و تعوذ و تسمیہ و آمین کہنا اور ان سب کا آہستہ ہونا (سننِ نماز میں سے ہے)۔ (بہارِ شریعت، جلد 01، حصہ 3، صفحہ 522، 523، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

مکروہات نماز کو بیان کرتے ہوئے در مختار میں علامہ علاؤ الدین علی حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: يكره ۔ ۔ ۔ ترك كل سنة" ترجمہ: (نماز کی) ہر سنت کا ترک مکروہ ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 511، 512، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5094
تاریخ اجراء: 30 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 16 جون 2026ء