logo logo
AI Search

مسبوق بقیہ نماز میں سورتوں کی ترتیب کیا رکھے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسبوق کا باقی نماز میں امام کی سورتوں کے ساتھ ترتیب کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی جماعت کے ساتھ ایک یا دو رکعتیں رہ گئی ہوں اور وہ ان رکعتوں کو ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو، تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ امام نے جن سورتوں کی تلاوت کی ہے ان کے بعد والی سورتیں ہی پڑھے یا وہ امام کی پڑھی ہوئی سورتوں سے پہلی سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے؟

جواب

مسبوق (جس کی جماعت کے ساتھ کچھ رکعتیں رہ گئی ہوں) کے لیے امام کی پڑھی ہوئی سورتوں کے بعد والی سورتیں پڑھنا ضروری نہیں، بلکہ وہ امام کی پڑھی گئی سورتوں سے پہلے والی سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے، کیونکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب مسبوق اپنی بقیہ رکعات ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو وہ منفرد کے حکم میں ہوتا ہے اور اس کی ادا کی جانے والی رکعتیں قراءت کے اعتبار سے بالترتیب پہلی اور دوسری رکعت شمار ہوتی ہے، پس جب قراءت کے اعتبار سے مسبوق کی پہلی، دوسری رکعت ہے، تو منفرد شخص کی طرح مسبوق بھی جہاں سے چاہے قراءت کر سکتا ہے۔ ہاں! مسبوق اپنی فوت شدہ رکعات میں سورتوں کی ترتیب کا خیال ضرور رکھے گا۔ نیز یہ بات بھی ہے کہ منفرد کے لئے ہر جگہ امام کی ترتیب کی رعایت کرنا، ممکن بھی نہیں ہوتا جیسے سری نمازوں جیسے ظہر و عصر میں تو منفرد کو یہ علم ہی نہیں کہ امام نے کون سی سورت پڑھی ہے تو وہ کس چیز کی رعایت کرے گا؟  بہرحال اصل علت وہی ہے کہ مقتدی، بقیہ نماز میں منفرد ہوتا ہے۔

منفرد جس جگہ سے چاہے قراءت کر سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: ﴿فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”قرآن میں سے جتنا آسان ہو اتنا پڑھو۔“ (القرآن، پارہ 29، المزمل، آیت 20)

مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر سمرقندی میں ہے:”فاقرؤا ما تیسر من القرآن فی جمیع الصلوات“ ترجمہ: تمام نمازوں میں قرآن پاک میں سے جتنا آسانی سے پڑھ سکو پڑھو۔ (تفسیر سمرقندی، جلد 3، صفحہ 418، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مسبوق بھی بقیہ نماز میں منفرد کے حکم میں ہے۔ چنانچہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”(والمسبوق من سبقہ الامام بھا أو ببعضھا وھو منفردفیما یقضیہ) حتی یثنی ویتعوذ ویقرأ“ ترجمہ :اور مسبو ق کہ جس کی امام کے ساتھ تمام یا بعض رکعتیں رہ جائیں وہ اپنی بقیہ رکعتیں ادا کرنے میں منفرد ہے، حتی کہ وہ ثنا اور تعوّذ پڑھے گا اور قراءت بھی کرے گا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 596، مطبوعہ دار الفكر، بیروت)

قراءت کے حق میں مسبوق کی بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری رکعت شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے: ”المسبوق يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في التشهد حتى لو أدرك مع الإمام ركعة من المغرب فإنه يقرأ في الركعتين بالفاتحة والسورة، ولو ترك في إحداهما فسدت صلاته“ ترجمہ: مسبوق قراءت کے اعتبار سے اپنی نماز کی ابتدائی رکعتیں ادا کرتا ہے اور تشہد کے اعتبار سے آخری رکعتیں۔ (فتح القدیر، جلد 1، صفحہ 391، مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

اسی بارے میں بہار شریعت میں ہے: ”مسبوق نے جب امام کے فارغ ہونے کے بعد اپنی شروع کی تو حق قراء ت میں یہ رکعت اوّل قرار دی جائے گی اور حق تشہد میں پہلی نہیں بلکہ دوسری تیسری چوتھی جو شمار میں آئے مثلاً تین یا چار رکعت والی نماز میں ایک اسے ملی تو حق تشہد میں یہ جو اب پڑھتا ہے، دوسری ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 590، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

منفرد اپنی نماز میں سورتوں کو ترتیب سے پڑھے گا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”یجب الترتیب فی سور القرآن، فلو قرأ منکوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو، لأن ذلک من واجبات القراءۃ لا من واجبات الصلاۃ ‘‘ترجمہ: قرآن کی سورتوں میں ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے، تو اگر کسی نے قرآن کو خلاف ترتیب پڑھا، تو گنہگار ہوگا، لیکن اس پر سجدہ سہو لازم نہیں، کیونکہ قرآن کو ترتیب سے پڑھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 457، مطبوعہ دار الفكر، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0162
تاریخ اجراء: 27 محرم الحرام 1447ھ/13 جولائی 2026ء