اکیلے نمازی کے پیچھے نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب ملے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تنہا نماز پڑھنے والے کی اقتدا کی تو کیا جماعت کا ثواب ملے گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسجد میں کوئی آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور ایک آدمی اس کے بغل میں جا کے کھڑا ہو جاتا ہے اور پیچھے سے ہلکا سا نوک کرکے اس کو امام مان لیتا ہے اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگ جاتا ہے، تو کیا یہ جو بعد میں آیا اور جو پہلے سے پڑھ رہا تھا اس کو امام مان لیا، تو کیا اس کو جماعت کا ثواب ملے گا؟
جواب
پہلے یہ جان لیجئے کہ شرائط پائے جانے کی صورت میں عاقل بالغ مسلمان پر مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، اور بلا عذرِ شرعی مسجد کی جماعت ترک کر دینا گناہ ہے، لہٰذا ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ بلا عذر شرعی مسجد کی جماعت ترک کر دی جائے، اور یوں الگ سے کسی کی اقتدا میں نماز پڑھ لی جائے۔ ہاں! اگر کبھی عذرِ شرعی کی وجہ سے جماعت رہ جائے، تو یوں کسی کو امام بنا کر جماعت کا اہتمام کر لینے سے جماعت کا ثواب مل جائے گا، لیکن جس کی اقتدا میں نماز پڑھی، اگر اس نے امامت کی نیت نہیں کی، تو اگرچہ امامت پر کوئی حرج نہیں، لیکن امامت کی نیت نہ ہونے کی وجہ سے اسے جماعت کا ثواب نہیں ملے گا۔
بلا عذرِ شرعی جماعت ترک کرنے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے ”عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: من سمع النداء فلم يأته، فلا صلاة له، إلا من عذر“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اذا ن سنی اور نماز کے لئے حا ضر نہ ہو، تو اس کی نماز ہی نہیں مگر یہ کہ کوئی عذر ہو۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 159، رقم الحدیث 793، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں ارشاد فرماتے ہیں: "پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے؛ ایک وقت کا بھی بلا عذر ترک گناہ ہے۔" (فتاوٰی رضویہ، جلد 7، صفحہ 194، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بلا عذرِ شرعی مسجد کی پہلی جماعت چھوڑ کر جماعت کا اہتمام کرنے کے متعلق فتاوی فیض الرسول میں ہے ”یہ جماعتِ ثانیہ کا جواز صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو کبھی کسی عذر کے سبب جماعتِ اولیٰ کی حاضری سے محروم رہے نہ یہ کہ جماعتِ ثانیہ کے بھروسے پر بلا عذرِ شرعی قصداً جماعت ترک کرے یہ بلا شبہ ناجائز و گناہ ہے۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 340، شبیر برادرز، لاہور)
جماعت فوت ہو جائے، تو جماعت کا اہتمام کرنے پر جماعت کا ثواب ملنے کے متعلق بحر الرائق میں ہے ”وإذا فاتته لا يجب عليه الطلب في المساجد بلا خلاف بين أصحابنا بل إن أتى مسجدا للجماعة آخر فحسن، وإن صلى في مسجد حيه منفردا فحسن، وذكر القدوري يجمع بأهله ويصلي بهم يعني وينال ثواب الجماعة“ ترجمہ: (اگر کسی وجہ سے) جماعت رہ گئی، تو دیگر مساجد میں جماعت تلاش کرنا واجب نہیں اور اس میں ہمارے اصحاب میں سے کسی کا اختلاف نہیں، بلکہ اگر وہ کسی دوسری جماعت کے لیے مسجد جائے، تو اچھی بات ہے اور اگر اپنے علاقے کی مسجد میں تنہا نماز پڑھ لی، تو بھی ٹھیک ہے اور امام قدوری علیہ الرحمۃ نے فرمایا: وہ اپنے گھر والوں کو جمع کرے اور انہیں نماز پڑھا دے، یعنی یوں وہ جماعت کا ثواب پالے گا۔ (بحر الرائق، جلد 1، صفحہ 606، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے امامت کی نیت ہونے کے متعلق تنویر الابصار مع در مختار میں ہے ”و(لا) يشترط لصحة الاقتداء نية (إمامة المقتدي) بل لنيل الثواب عند اقتداء أحد به“ ترجمہ: اقتدا کے درست ہونے کے لیے مقتدی کی امامت کی نیت ہونا ضروری نہیں، البتہ کسی کے امام کی اقتدا کرتے وقت ثواب کے حصول کے لیے امامت کی نیت ضروری ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 128، مطبوعہ: کوئٹہ)
یونہی بہار شریعت میں ہے ”امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثواب جماعت نہ پائے گا اور ثواب جماعت حاصل ہونے کے ليے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 495، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5131
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1448ھ/20 جون 2026ء