logo logo
AI Search

امام صرف السلام بلند آواز سے کہے تو نماز ہوجائے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

امام نے لفظِ السلام تیز آواز میں اور بقیہ الفاظ آہستہ کہے، نماز کا کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

امام جماعت کے ساتھ نماز پڑھا رہا تھا، امام نے سلام پھیرتے ہوئے لفظ السلام تیز آواز سے کہا اور بقیہ الفاظ آہستہ کہے جو مقتدیوں نے نہیں سنے، اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

امام کا بلند آواز میں سلام کہنا فرض یا واجب نہیں کہ اس کا ترک ہوا تو نماز ہی نہ ہو یا نماز ناقص ہو البتہ سنت یہ ہے کہ امام دونوں طرف سلام بلند آواز سے کہے مگر دوسری طرف سلام بہ نسبت پہلے سلام کے قدرے پست آواز سے کہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر امام صاحب نے السلام بلند آواز سے کہا اور بقیہ الفاظ آہستہ ادا کیے تو نماز درست ہوگئی۔ امام کے سلام پھیرنے پر مقتدیوں نے سلام پھیر دیا تو ان کی نماز بھی ادا ہو گئی۔

بہار شریعت میں ہے: سنت یہ ہے کہ امام دونوں سلام بلند آواز سے کہے مگر دوسرا بہ نسبت پہلے کے کم آواز سے ہو۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 536، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2508
تاریخ اجراء: 13 ربیع الآخر 1447ھ / 07 اکتوبر 2025ء