logo logo
AI Search

کیا انسان و جن کے علاوہ مخلوق اللّٰہ کی نافرمانی نہیں کرتی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

انسانوں اور جنوں کے علاوہ مخلوق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر سکتی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیدکاکہناہے کہ انس وجن کے علاوہ مخلوق اللہ تعالی کی نافرمانی نہیں کرسکتی کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایاہے: ﴿اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴾ترجمہ: اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔ (سورۃ یس، پ 23، آیت 82)

شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیازیدکی یہ بات درست ہے یا اس میں کوئی تفصیل ہے ؟

جواب

یہ یاد رہے کہ اللہ تبارک وتعالی کے احکامات دوطرح کے ہیں: ایک تکوینی احکام اوردوسرے تکلیفی احکام۔ دونوں احکام میں تمام مخلوقات برابرہیں۔ تکوینی احکام میں کسی کا اختیار نہیں ہوتا، خواہ وہ انس وجن کے لیے ہوں یا ان کے علاوہ کے لیے۔ زید نے جو آیت مبارک کوڈکی ہے، اس میں اس طرح کی کوئی تقسیم نہیں کہ انس و جن کے علاوہ کے لیے اللہ تعالی "کن" فرمائےتووہ ہوجاتے ہیں اور انس و جن میں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ مطلقا ہے کہ کسی بھی چیز کے متعلق جب اس کا ارادہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے ہوجائے تووہ فورا ویسے ہوجاتی ہے، چاہے وہ جن و انس کا معاملہ ہو یا ان کے علاوہ کا۔

نیز قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے جن گنہگاروں کو بندر بننے کا حکم فرمایا گیا، تو ان کے متعلق جو حکم تھا، وہ تکوینی تھا، اس معاملے میں ان کا کوئی اختیار نہیں تھا، لہذا جیسے ہی حکم ہوا، وہ فورا ویسے ہوگئے، جس کی وضاحت مفسرین کرام نے بیان فرمائی ہے۔ جس سے واضح ہے کہ اللہ تبارک وتعالی کا حکم تکوینی انس و جن اور ان کے علاوہ تمام مخلوقات کے لیے برابر ہے کہ وہ جیسے ہی فرماتا ہے، فورا ویسے ہی ہوجاتا ہے۔

اور تکلیفی احکام میں سامنے والے کو اختیار دیا جاتا ہے، جس وجہ سے نافرمانی کرنے پروہ سزا کا حق دار بنتا ہے، اس معاملے میں بھی جن و انس وغیرہ سبھی برابر ہیں کہ جس مخلوق کو بھی حکم تکلیفی دیا جائے گا، اس کے لیے یہی تفصیل ہوگی اور جس طرح جن و انس کو تکلیفی احکام کا مکلف بنایا جاتا ہے، اسی طرح جن و انس کے علاوہ، جاندار، بے جان وغیرہ کو بھی تکلیفی احکام کا مکلف بنایا جاتا ہے اور نافرمانی پر وہ بھی سزا کے حق داربنتے ہیں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لانے اور اللہ تبارک و تعالی کی تسبیح کا ہر چیز کو مکلف بنایا گیا ہے۔ اسی طرح تمام انبیاے کرام علیہم الصلوۃ و السلام سے محبت کرنے کا ہر چیز کو مکلف بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرگٹ نے جب حضرت ابراہیم علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام سے عدوات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نارِ نمرودمیں پھونکیں ماریں، تو اس کی سزا میں اسے قتل کرنے کا حکم ہوا۔ اور المفاتیح میں کسی نبی علیہ الصلوۃ و السلام سے عداوت رکھنے والی ہر مخلوق خواہ وہ انسانوں کے علاوہ ہو، اسے کافر کہا گیا ہے۔ جس کی تفصیل نیچے آرہی ہے۔

اب اوپر ذکر کی گئی باتوں پر جزئیات ملاحظہ کیجیے!

(الف) بنی اسرائیل کے گنہگارلوگوں کے حوالے سےفرمان باری تعالی ہے: ﴿وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـٕیْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور بے شک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔ (سورۃ البقرۃ، پ 01، آیت 65)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیرکبیرمیں علامہ فخرالدین رازی علیہ الرحمۃ المتوفی 606ھ تحریر فرماتے ہیں: "قوله تعالى: (كونوا قردة خاسئين) ليس بأمر لأنهم ما كانوا قادرين على أن يقلبوا أنفسهم على صورة القردة بل المراد منه سرعة التكوين كقوله تعالى: (انما قولنا لشيء اذا اردناه ان نقول له كن فيكون) [النحل: 40] و كقوله تعالى: (قالتا اتينا طائعين) [فصلت: 11] و المعنى أنه تعالى لم يعجزه ما أراد إنزاله من العقوبة بهؤلاء بل لما قال لهم،(كونوا قردة خاسئين) صاروا كذلك أي لما أراد / ذلك بهم صاروا كما أراد و هو كقوله: (كما لعنا اصحاب السبت و كان امر الله مفعولا) [النساء: 47]" ترجمہ: اللہ تبارک وتعالی کا فرمان: "بندر ہوجاؤ دھتکارے ہوئے" یہ درحقیقت امر (حکم) نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو بندر کی صورت میں تبدیل کرنے پر قادر نہیں تھے بلکہ اس سے مراد جلد بندر بنانا ہے، جیسے اللہ تبارک و تعالی کے اس فرمان میں ہے کہ: "جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے "اور جیساکہ یہ فرمان باری تعالی ہے: "(تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے)  دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے "اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان گنہگاربنی اسرائیل پر جو سزا نازل فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس میں کوئی چیز رکاوٹ نہ بن سکی بلکہ جیسے ہی اللہ تعالی نے ان سے یہ فرمایاکہ: "بندر ہوجاؤ دھتکارے ہوئے" تو وہ فورا ہی ایسے ہوگئے یعنی جب ان کے متعلق ایسا ہونے کا ارادہ فرمایا تو وہ ارادے کے موافق ایسے ہوگئے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تبارک و تعالی کا یہ فرمان ہے "جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر اور خدا کا حکم ہو کر رہے۔" (تفسیر کبیر، ج 03، ص 541، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

یہی بات تفسیربیضاوی میں علامہ شیرازی بیضاوی علیہ الرحمۃ المتوفی 685ھ نے اسی آیت مبارکہ کے تحت بیان فرمائی، اس پر حاشیۃ الشہاب علی تفسیرالبیضاوی میں علامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی علیہ الرحمۃ المتوفی 1069ھ تحریر فرماتے ہیں: "قوله: (كونوا ليس بأمر إذ لا قدرة عليه الخ) هذا بناء على أنه مسخ حقيقي ولم يبينه لشهرته و ظهوره من النظم و الأمر عليه ليس تكليفياً بل تكوينيا كما في قوله تعالى: ﴿كُنْ فَيَكُوْنُ﴾" ترجمہ: مصنف نے جوفرمایاکہ: "یہ درحقیقت امر (حکم) تھا کیونکہ وہ اس پر قادر نہیں تھے" تو یہ اس بناء پر ہے کہ اس سے حقیقی مسخ مراد ہے اور اسے واضح بیان نہیں فرمایا اس کی شہرت کی وجہ سے اور الفاظ سے اس کے ظاہر ہونے کی وجہ سے اور اس بناء پر جو حکم ہے، وہ تکلیفی نہیں بلکہ تکوینی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے " ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔" (حاشیۃ الشہاب، ج 02، ص 174، دار صادر، بیروت)

(ب) حیوانات میں بھی مادہ معصیت ہوتا ہے، اس حوالے سے صحیح بخاری شریف میں ہے "عن أم شريك رضي اللہ عنها، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم" أمر بقتل الوزغ، و قال: كان ينفخ على إبراهيم عليه السلام"" ترجمہ: حضرت ام شریک رضی اللہ تعالی عنہاسے مروی ہے کہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے گرگٹ کے قتل کا حکم فرمایا اور فرمایا: یہ (نمرودکی آگ کو بھڑکانے کے لیے) حضرت ابراہیم علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام پر پھونکیں مارتا تھا۔ (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ص 614، رقم الحدیث 3359، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

المفاتیح شرح المصابیح میں عظیم محدث، مظہر الدین حسین بن محمود بن حسن شیرازی حنفی، المتوفی 727ھ تحریر فرماتے ہیں: "و كان ينفخ على إبراهيم عليه السلام؛ يعني: ينفخ على النار التي ألقى نَمْرودُ اللعينُ فيها إبراهيمَ عليه السلام ليشعل النار عليه؛ يعني: أَظْهَر عداوةَ نبيِّ اللہ إبراهيمَ عليه السلام، و مَنْ أظهر عداوة نبيٍّ من أنبياء اللہ فهو كافر يستوفي فيه الإنسُ و غيرُهم." ترجمہ: یعنی نمرود لعین نے جس آگ میں حضرت ابراہیم علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کو ڈالا تھا اس آگ پر گرگٹ پھونکیں مارتا تھا تاکہ ان پر آگ کے شعلے مزید بھڑکیں یعنی اس نے اللہ تعالی کے نبی حضرت ابراہیم علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام سے دشمنی ظاہر کی اور جس نے اللہ تعالی کے نبیوں میں سے کسی سے بھی دشمنی کا اظہار کیا تو وہ کافر ہے، اس میں انسان اور انسان کے علاوہ مخلوق برابر ہے۔ (المفاتیح شرح المصابیح، ج 04، ص 484، دار النوادر)

مرقاۃ المفاتیح، شرح المشکاۃ للطیبی اور فیض القدیر وغیرہ میں ہے، و اللفظ للآخر:" قال البيضاوي: (قوله كان ينفخ على إبراهيم) بيان لخبث هذا النوع و فساده و أنه بلغ في ذلك مبلغا استعمله الشيطان فحمله على أن ينفخ في النار التي ألقي فيها الخليل و سعى في اشتعالها" ترجمہ: قاضی بیضاوی نے فرمایا: یہ جوحدیث پاک میں بیان فرمایا گیا کہ گرگٹ (نمرودکی آگ کو بھڑکانے کے لیے) حضرت ابراہیم علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام پر پھونکیں مارتا تھا۔ تو اس میں اس نوع کی خباثت اور اس کے فساد کا بیان ہے اور یہ کہ وہ اس معاملے میں اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ شیطان نے اسے استعمال کیا تو شیطان نے اسے اس بات پر ابھارا کہ وہ اس آگ میں پھونکے جس میں حضرت خلیل علی نبیناوعلیہ الصلوۃ و التسلیم کو ڈالا گیا تھا اور اس نے اس آگ کو بھڑکانے میں کوشش کی۔ (فیض القدیر، ج 02، ص 59، مطبوعہ مصر)

(ج) بے جان چیزوں میں بھی مادہ معصیت ہوتا ہے، اس کے حوالے سے شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ میں ہے "روى ابن مردويه و البزار و غيرهما برجال الصحيح، عن ابن عباس قال: لما كانت ليلة الأحزاب قال الصبا للشمال: اذهبي بنا ننصر رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فقالت: إن الحرائر لا تهب بالليل، فغضب اللہ عليها، فجعلها عقيما، و أرسل الصبا، فأطفأت نيرانهم، و قطعت أطنابهم، فقال صلى اللہ عليه و سلم: "نصرت بالصبا و أهلكت عاد بالدبور"." ترجمہ: ابن مردویہ اور بزار وغیرہ نے صحیح کے راویوں کے ذریعے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے، فرمایا: جب غزوہ احزاب کی رات تھی، صبا ہوا نے شمالی ہوا سے کہا: چلو ہم اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی مددکردیں، تو شمالی ہوا نے کہا: آزاد عورتیں رات کو نہیں نکلتیں، پس اس وجہ سے شمالی ہوا پر اللہ تعالی نے غضب فرمایا تو اسے بانجھ کردیا (خیر و برکت سے محروم کردیا) اور صبا کو بھیجا تو اس نے ان کی آگوں کو بجھادیا اور ان کے خیموں کی طنابوں کو اکھیڑ دیا، اس پر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا: صبا سے میری مددکی گئی اور دبور (پچھم والی ہوا) سے عاد کو ہلاک کیا گیا۔  (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، ج 03، ص 55، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ملفوظات اعلی حضرت میں ہے "ہر شے مکلف ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم پر ایمان لانے اور خدا کی تسبیح کے ساتھ ۔ ۔ ۔ (پھر فرمایا) ان میں مادہ معصیت (یعنی گناہ کا عُنصَر) بھی ہے ان کے لائق جو سزا ہوتی ہے وہ ان کو دی جاتی ہے۔ اہلِ کشف فرماتے ہیں: ''تمام جانور تسبیح کرتے ہیں، جب تسبیح چھوڑ دیتے ہیں اسی وقت ان کو موت آتی ہے۔ ہر پتا تسبیح کرتا ہے، جس وقت تسبیح سے غفلت کرتا ہے اسی وقت درخت سے جدا ہو کر گر پڑتا ہے۔'' ۔ ۔ ۔ جب مجمع ہوا کفار کا مدینہ طیبہ پر کہ اسلام کا قلع قمع کردیں، غزوہ اَحزاب کا واقعہ ہے۔ ربّ عَزَّوَجَلَّ نے مدد فرمانا چاہی اپنے حبیب کی، شمالی ہوا کو حکم ہوا جا اور کافروں کو نیست و نابود کردے۔ اس نے کہا: "اَلْحَلَائِلُ لاَیَخْرُجْنَ بِاللَّیْل فَاَعْقَمَھَا اللہُ تَعَالٰی" بیبیاں رات کو باہر نہیں نکلتیں۔ تو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) نے اس کو بانجھ کردیا۔ اسی وجہ سے شمالی ہوا سے کبھی پانی نہیں برستا پھر صَبا (یعنی مشرقی ہوا) سے فرمایا:"فَقَالَتْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا" تو اس نے عرض کیا ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ وہ گئی اور کفار کو برباد کرنا شروع کیا۔ صرف ایک خندق درمیان میں تھی اِس پار مسلمان تھے اُس پار کفار، اِدھر صبح تک چراغ جلتے رہے اور دوسری طرف اونٹ بارہ بارہ کوس پر گرے، تو پُروائی (یعنی مشرقی ہوا) کو یہ نعمت دی کہ بارش اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔" (ملفوظات اعلی حضرت، ص 530 تا 531، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10978
تاریخ اجراء: 19 ربیع الآخر 1443ھ / 25 نومبر 2021ء