کیا بھائی پنشن کے حقدار ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
پنشن میں بھائیوں کا حق ہوگا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
صورت مسئولہ میں زیدکے بھائیوں کا زید کی پنشن میں کوئی حق نہیں ہے، لہذا ان کا پنشن میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنا بھی شرعا درست نہیں ہے۔ پنشن ایک تحفہ و عطیہ ہے اور شرکاء میں سے کسی ایک کو اگر گورنمنٹ کی طرف سے یا کسی اورکی طرف سے تحفہ دیا جائے، تو وہی اس کا حقدار ہوتا ہے، دوسروں کا اس میں حق نہیں ہوتا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے "و لا يشاركه فيما يرث من ميراث ولا جائزة يجيزها السلطان و لا الهبة و لا الصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان، و لا الهدية، هكذا في المبسوط" ترجمہ: اور ایک شریک، دوسرے شریک کے ساتھ اس چیزمیں شریک نہیں ہوگا جو اسے میراث سے ملے اور نہ اس انعام میں جو سلطان اس کو دے اور نہ ہبہ اور صدقہ میں، اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے اور نہ ہدیہ میں اسی طرح مبسوط میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الشرکۃ، ج 02، ص 309، کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "بتصریح علماء منصب وپنشن بھی موروث نہیں بعد فوت منصبدار، رئیس جس کا نام مقرر کردے وہی مستحق ہے باقی ورثہ کاکچھ حق نہیں۔ فتح القدیراور رد المحتارمیں ہے "العطاء صلۃ فلایورث" ترجمہ: عطیہ ایک صلہ ہے لہذا اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔" (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 393، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے "ان میں سے ایک کو اگر میراث ملی یا شاہی عطیہ یا ہبہ یا صدقہ یا ہدیہ میں کوئی چیز ملی تو یہ خاص اسکی ہوگی شریک کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا۔" (بہار شریعت، ج 02، حصہ 10، ص 494، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-249
تاریخ اجراء: 10 جمادی الاولی 1443ھ / 15 دسمبر 2021ء