کیا پاؤں ہلانے سے نحوست آتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا پاؤں ہلانے سے نحوست ہوتی ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا پاؤں ہلانے سے نحوست ہوتی ہے؟
جواب
بیٹھے بیٹھے پاؤں ہلانا مہذب طریقہ نہیں ہے اس لیے بلا وجہ پاؤں ہلانے سے بچنا چاہیے، پاؤں ہلانے سے نحوست آنے کا کوئی شرعی ثبوت نہیں، اور کسی چیز سے نحوست لینا اسلام میں اچھا بھی نہیں۔
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: "أن النبي صلى اللہ عليه و سلم كان لا يتطير من شيء" یعنی نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیتے تھے۔ (سنن أبي داود،کتاب الطب، جلد 4، صفحہ 19، الحدیث: 3920، المكتبة العصرية، بيروت)
فتاوی رضویہ شریف میں ایک درخت کو منحوس سمجھنے کے بارے سوال ہوا، تو شیخ الاسلام، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً فرمایا: ”شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، شرع نے نہ اسے منحوس ٹھہرایا نہ مبارک، ہاں جسے عام لوگ نحس سمجھ رہے ہیں اس سے بچنا مناسب ہے کہ اگر حسب تقدیر اسے کوئی آفت پہنچے ان کا باطل عقیدہ اور مستحکم ہوگا کہ دیکھو یہ کام کیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا اور ممکن کہ شیطان اس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 267، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-033
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1448ھ / 01 اگست 2026ء