استخارہ یا فال سے چوری ثابت ہو سکتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
استخارہ یا فال کے ذریعے چوری ثابت ہو سکتی ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا استخارہ یا فال کے ذریعے چوری ثابت ہوسکتی ہے؟ اور اس سے موصول نتیجے کی بنیاد پر کسی کو چور قرار دے سکتے ہیں؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمادیجئے۔
جواب
شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں محض استخارے یا فال کے ذریعے چوری ثابت نہیں ہوسکتی ، نہ ہی اس سے موصول نتیجے کی بنیاد پر کسی کو چور قرار دیا جاسکتا ہے، بلکہ یوں بلا ثبوت شرعی محض استخارہ یا فال کے ذریعے کسی پر چوری کا الزام لگانا یا لگوانا، یا اس سے موصول نتیجے کو صحیح سمجھنا خالصتاً بہتان اور دل آزاری کی صورت ہے، اور مسلمان پر بہتان لگانا ، اس کی دل آزاری کرنا، ناجائز و حرام اور سخت گناہ والے کام ہیں، جس سے بچنا لازم و ضروری ہے۔
تفصیل مسئلہ یہ ہے کہ ہر وہ جائز و مباح معاملہ جس کے نفع بخش یا نقصان دہ ہونے کا انسان اپنی عقل کی روشنی میں فیصلہ نہ کرسکے اور تردد میں مبتلا ہوجائے کہ کروں یا نہ کروں، تو اس معاملے میں اللہ پاک سے رہنمائی طلب کرنے کو استخارہ کہا جاتا ہے، نیز جائز فال، جو جائز طور پہ ہو تو ایسی فال میں حرج نہیں، نیز ایسی فال بھی ایک قسم کا استخارہ ہی ہے، اور ان دونوں(استخارہ، فال) کا تعلق ماضی (گزشتہ زمانے) میں کام کے ہونے یا نہ ہونے سے نہیں، بلکہ مستقبل (آئندہ) میں درپیش ان معاملات سے ہے جن کو کرنا ہے، نیز ان (استخارہ، فال) کے ذریعے مستقبل میں کام کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بھی جو اشارے سمجھ میں آتے ہیں، وہ اشارے ہرگز ہرگز یقین کا درجہ نہیں رکھتے، بلکہ ظنی (گمان) ہی ہوتے ہیں، ہوتا وہی ہے جو اللہ پاک کو منظور ہوتا ہے۔ جبکہ چوری ثابت ہونے کیلئے شریعتِ مطہرہ نے لازمی قرار دیا ہے کہ یا تو بندہ بذاتِ خود قطعی (یقینی) طور پر اقرار کرلے کہ میں نے چوری کی ہے، یا نیک و پارسا دو مَرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں اس بات کی گواہی دیں کہ اس بندے کو چوری کرتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔اس کے علاوہ کسی اور ذریعے سے چوری ثابت کرنا محض ظن (گمان، شبہ) اور بہتان کی صورت ہے، جوکہ ناجائز و گناہ ہے۔
چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔ (القرآن، سورۃ الاحزاب، پارہ22، آیت 58)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: و من قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه اللہ ردغة الخبال حتى يخرج مما قال“ یعنی جو کسی مسلمان کے بارے میں ایسی بات کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اللہ پاک اس کو اُس وقت تک ردغۃ الخبال (یعنی جہنم میں وہ جگہ جہاں دوزخیوں کا پیپ و خون جمع ہوگا، اس) میں رکھے گا جب تک اس کے گناہ کی سزا پوری نہ ہوجائے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ، جلد 7، الحدیث 3611، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فقیہ النفس، محقق مطلق، امامِ اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت، الشاہ امام احمد ر ضا خان نوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: کسی مسلمان کو تہمت لگاناحرام قطعی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 386، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
امام اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک سوال ہوا کہ: زید کا قمیص چوری ہوا اور بکر پر چند قرائن کی وجہ سے بطور شُبہ کے چور ثابت کیا گیا اور جس روز سے بکر پر چوری ثابت ہُوئی اس روز سے تمام محلہ والوں نے بکر کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی چھوڑ دی اور بوجہ شک کے اور اسی شک کو لے کربکر کے پیچھے نماز پڑھنا بلا تو بہ جائز ہے یا نہیں، دیگر گزارش یہ ہے کہ بکر کے باپ نے کہا کہ زید اگر قسم کھائے تو مال مسروقہ ہم دیں گے اور زید نے کہا ہم قسم کھائیں گے لیکن قسم نہیں کھائی اورزید کے پیچھے بلا توبہ نماز جائز ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
تو اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: زید پر کوئی الزام نہیں اور خالی شُبہ کے سبب بکر پر چوری ثابت نہیں ہوسکتی، نہ اس کے پیچھے نماز منع ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 613، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
نیز اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے: فال نکالنے کے سبب زید کی بیوی پر روپئے رکھنے کا الزام لگانا سراسر غلط ہے۔ نہ شریعت کے نزدیک صحیح ہے اور نہ حکومت کے نزدیک۔ فال نکالنے والے، نکلوانے والے اور اسے صحیح ماننے والے گنہگار ہوئے، سب توبہ کریں کہ جھوٹا الزام حرام اور اس میں ایذائے مسلم ہے اور وہ بھی سخت ناجائز و حرام۔ حدیث شریف میں: من أذي مسلما فقد اذاني و من اذاني فقد اذي اللہ‘‘ (یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان کو ایذا ء دی تو تحقیق اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے معاذ اللہ! اللہ پاک کو ایذاء دی)۔ (فتاویٰ فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 203، مطبوعہ لاھور)
استخارہ سے جو اشارے سمجھ میں آتے ہیں وہ ظنی (گمان) ہی ہوتے ہیں، یقین کا درجہ نہیں رکھتے۔ چنانچہ فتاویٰ خلیلیہ میں ہے: (سوال:) کسی گمشدہ یا کسی اور چیز کے بارے میں جو معلومات حاضرات اور استخارے سے حاصل کی جاتی ہیں کیا وہ صحیح ہیں؟ اور کیا ان پر اعتماد کر کے کوئی شرعی حکم لگایا جاسکتا ہے یا نہیں۔؟
(الجواب:) آدمی میں اگر خود اتنی روحانیت و قابلیت اور اہلیت ہو کہ وہ ان عملیات سے جو بزرگانِ دین سے منقول اور خاصانِ خدا کا معمول رہے ہیں، استفادہ کرسکے اور ’’حاضرات‘‘ کے اشارے صحیح طور پر سمجھ سکے تو بے شک حاضرات سے فائدہ اٹھائے۔ یہی حال استخارہ کا ہے اور بہرحال اس سے جو اشارے سمجھ میں آتے ہیں، وہ یقین کا درجہ نہیں پاسکتے، ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے اور ان حاضرات میں اگر شیاطین و کفار سے مددلی جائے جیساکہ بہت سے ہوس پرستوں نے اسے ذریعہ معاش بنا رکھا ہے تو آپ ہی حرام بلکہ کفر تک پہنچاتا ہے۔ مولائے کریم اپنی پناہ حفاظت میں رکھے۔ (آمین)۔ (فتاویٰ خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 225 - 226، مطبوعہ لاھور)
چوری کے ثبوت کے طریقے بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: چوری کے ثبوت کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ چور خود اقرار کرے اور اس میں چند بار کی حاجت نہیں صرف ایک بار کافی ہے۔ دوسرا یہ کہ دو مرد گواہی دیں اور اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو قطع نہیں مگر مال کا تاوان دلایاجائے اور گواہوں نے یہ گواہی دی کہ ہمارے سامنے اقرار کیا ہے تو یہ گواہی قابل اعتبار نہیں، گواہ کا آزاد ہونا شرط نہیں۔ (بھارِ شریعت، حصہ 9، جلد 2، صفحہ 415، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تنبیہ:
یاد رہے! کہ عوام میں مشہور بعض فالنامے جن کا ثبوت احادیث کریمہ میں نہیں ملتا، اور انہیں اکابر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اس قسم کے فالنامے سراسر بے اصل و بے بنیاد ہیں،نیز بعض لوگ جو قرآنِ کریم سے مختلف طریقوں سے فال، استخارہ نکلواتے ہیں ، یہ بھی فقہ حنفی میں شرعاً ناجائز و ممنوع ہےکہ قرآنِ کریم اس طرح کے کاموں کےلئے نازل نہیں ہوا ہے، نیز اس کے علاوہ بھی بعض دیگر ذرائع سے جو عام طور پر فال دیکھنا رائج ہے، یہ بھی عموماً معصیت (گناہ) سےخالی نہیں ہوتے، بلکہ بعض صورتوں میں تو اس کے سبب بندہ دائرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتا ہے، لہذا اس قسم کے فال نکالنے، نکلوانے یا اسے صحیح سمجھنے سے بچنا ہوگا۔ ہاں! اگر قرآن کریم کے علاوہ دیوان حافظ وغیرہ سے جائز فال، جائز طور پہ دیکھے، نہ خود یقین کرے، نہ یقین دلائے، تو حرج نہیں ہے۔
امامِ اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: فال ایک قسمِ استخارہ ہے، استخارہ کی اصل کتب احادیث میں بکثرت موجود ہے، مگر یہ فالنامے جو عوام میں مشہوراوراکابر کی طرف منسوب ہیں بے اصل و باطل ہیں، اور قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے۔ اور دیوان حافظ وغیرہ سے بطورِ تفاول جائزہے۔ و اللہ تعالیٰ اعلم (فتاوی رضویہ، جلد 23 ، صفحہ 397، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاویٰ افریقہ میں ہے: قرآنِ کریم سے فال دیکھنے میں ائمہ اربعہ کے چار قول ہیں ۔ ۔ ۔ ہمارے علمائے حنفیہ فرماتے ہیں کہ ناجائز و ممنوع و مکروہِ تحریمی ہے، قرآن عظیم اس لئے نہیں اتارا گیا۔ (ملتقط از فتاویٰ افریقہ، صفحہ 149، مطبوعہ لاھور)
نیز فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: (جو شخص فال کھول کر لوگوں کو اچھا اور برا ہونا بتاتا ہو) اگر یہ احکام قطع و یقین کے ساتھ لگاتا ہو، جب تو مسلمان ہی نہیں، اس کی تصدیق کرنےوالے کو صحیح حدیث میں فرمایا: فقد کفر بما نزل علی محمد صلی اللہ تعالی علیہ و سلم، ۔۔۔ (یعنی تحقیق اس نے قرآنِ کریم کا انکار کیا )اور اگر یقین نہیں کرتا، جب بھی عام طور پر جو فال دیکھنا رائج ہے، معصیت سےخالی نہیں۔ (ملخص ازفتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 100، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FMD-4764
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1447ھ /21 جنوری 2026ء