logo logo
AI Search

علم ابجد کیا ہے نیز اسکا سیکھنا اور استعمال کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

علم ابجد کے متعلق تفصیل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

حساب جمل یعنی حروف ابجد سے مراد اعداد کا علم ہے، اس علم میں ہر حرف کے لئے ایک عدد مقرر کیا گیا ہے، جیسے "الف" کے لئے 1، "ب" کے لئے 2، "ج" کے لئے 3اور "د" کے لئے 4 کا عدد مقرر ہے، اعداد کے اعتبار سے شروع کے یہی چار حروف مل کر لفظ ابجد بنتا ہے، اس لئے اسے علم ابجد کہا جاتا ہے،

اس علم کا استعمال، علم جعفر، علم نجوم، تعویزات لکھنے، تاریخ پدائش و تاریخ وفات نکالنے یا تاریخی نام رکھنے، وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ اس علم کو سیکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے، اس علم کا استعمال، زمانہ رسالت سے جاری ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اعداد کے ساتھ حساب لگایا گیا اور آپ نے منع نہیں فرمایا، جو اس کے جواز کی واضح دلیل ہے، حتی کہ بعض علماء نے قرآن پاک کے حروف مقطعات کو بھی انہیں میں سے شمار کیا ہے۔ نیز بزرگان دین سے یہ علم ثابت ہے جیسا کہ امام اہل سنت شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا: علم اوفاق( یہ علم الاعداد کا دوسرا نام ہے) امام حجۃ الاسلام غزالی وامام فخر الدین رازی وشیخ اکبر محی الدین ابن عربی وغیرہم اجلہ اکابر سے ہے۔ یونہی بزرگان دین سے اس علم کے اعتبار سے تاریخی نام رکھنا اور اعداد میں تعویزات لکھنا ثابت ہے، جیسے امام اہل سنت شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنا، تاریخ ولادت کے اعتبار سے نام "المختار" نکالا تھا، یونہی آپ علیہ الرحمہ اپنی کتب و رسائل کا نام ایسا تجویز فرماتے تھے، جو علم الاعداد کے اعتبار سے اس کا سن تصنیف بنتا ہو۔

البتہ! اس علم کو اگر کوئی جادو، علم نجوم کے غلط استعمال وغیرہ غلط مقصد سے سیکھتا ہے تو اس کی غرض و مقصد غلط ہونے کی وجہ سے اس کا یہ علم سیکھنا بھی مذموم ممنوع قرار دیا جائے گا۔

قاضی ابو الخیر عبد اللہ بن عمر بیضاوی شیرازی علیہ الرحمۃ اپنی تفسیر انور التنزیل و اسرار التأویل میں حروف مقطعات (الم) کی بحث میں ارشاد فرماتےہیں:”او الى مدد اقوام و آجال بحساب الجمل كما قال ابو العالية متمسكا بما روي ”انه عليه الصلاة و السلام لما اتاه اليهود تلا عليهم الم البقرة فحسبوه و قالوا كيف ندخل في دين مدته احدى و سبعون سنة، فتبسم رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فقالوا: فهل غيره، فقال: المص والر و المر، فقالوا: خلطت علينا فلا ندري بايها نأخذ“ ترجمہ: یا ان حروف مقطعات سے بحساب جمل قوموں کی بقا کی معیاد کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ابو العالیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب یہود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں سورۃ البقرۃ سے ”الم“ پڑھ کر سنایا تو انہوں نے حساب لگایا اور کہنے لگے کہ ہم اس دین میں کیسے داخل ہوجائیں جس کی کل مدت 71 سال ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے، تو اس پر یہود نے پوچھاکیا اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا المص، الر، المر، تو انہوں نے کہا آپ نے معاملہ ہم پر مشتبہ کردیا، اب ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ہم ان میں سے کسے بنیاد بنا کر حساب لگائیں۔ (انوار التنزیل و اسرار التاویل، سورۃ البقرۃ، آیت 1، ج 1، ص 34، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

مزید ارشاد فرماتے ہیں: فان تلاوته اياها بهذا الترتيب عليهم وتقريرهم على استنباطهم دليل على ذلك، و هذه الدلالة و ان لم تكن عربية لكنها لاشتهارها فيما بين الناس حتى العرب تلحقها بالمعربات كالمشكاة و السجيل و القسطاس“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہود پر اعدادکی ترتیب سے آیات کی تلاوت کرنا اور ان کے استدلال کوبرقرار رکھنا اس علم پر دلیل ہے، اور حساب جمل کی یہ دلالت اگرچہ عربی نہیں لیکن عام لوگوں میں حتی کہ عربوں میں بھی مشہور ہونے کی وجہ سے اسے معربات سے ملایا جائے گا، جیسے لفظ مشکوۃ، سجیل، قسطاس وغیرہ۔“ (انوار التنزیل واسرار التاویل، سورۃ البقرۃ، آیت 1، ج 1، ص 34، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

حروف مقطعات کے بارے میں کلام کرتے ہوئے تفسیر طبری میں ہے ”و لا شك في صحة معنى القسم بالله و أسمائه و صفاته، و هن من حروف حساب الجمل“ ترجمہ: اس معنی کی صحت میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ حروف مقطعات اللہ کے اسماء اور اس کی صفات کی قسم ہیں، اور یہ حساب جمل کے حروف سے ہے۔ (التفسیر الطبری، سورۃ البقرہ، ج 1، ص 224، دار هجر للطباعة)

آٹھویں صدی ہجری کے مشہور شافعی بزرگ محمد بن ابراہیم الکنانی الحموی اپنی کتاب ايضاح الدليل في قطع حجج اهل التعطيل میں حروف مقطعات کی بحث کرتے ہوئے ان حروف کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: عن ابي العالية ان المراد بها حساب الجمل“ ترجمہ: حضرت ابو العالیہ علیہ الرحمۃ سے مروی ہے کہ ان حروف مقطعات سے مراد حساب جمل ( علم ابجد) ہے۔ (ایضاح الدلیل فی قطع حج اھل التعطیل، ج 1، ص 98، دار السلام، مصر)

زمانہ نبوی کے بعد بھی کئی علماء سے اس علم کا استعمال کرنا ثابت ہے چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: ” قال: الخويي وقد استخرج بعض الائمة من قوله تعالى ﴿الم غلبت الروم﴾ ان البيت المقدس تفتحه المسلمون في سنة ثلاثة و ثمانين و خمسمائة و وقع كما قاله“ ترجمہ: امام خویی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان ﴿الم غلبت الروم﴾سے بعض آئمہ نے استخراج کیا کہ مسلمان بیت المقدس کو پانچ سو تراسی (583ھ) میں فتح کرلیں گے، اور جیسا انہوں نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ (الاتقان فی علوم القرآن، النوع الثالث و الاربعون، ص 495،دار الکتب العربی بیروت)

البدایہ و النھایہ میں ہے ”وجاءته امرأة فقالت: رأيت كان سنورا أدخل رأسه في بطن زوجي فأخذ منه قطعة، فقال لها ابن سيرين: سرق لزوجك ثلاثمائة درهم، وستة عشر درهما، فقالت: صدقت من أين أخذته؟ فقال: من هجاء حروفه و هي حساب الجمل، فالسين ستون، و النون خمسون، و الواو ستة و الراء مائتان، و ذلك ثلاثمائة و ستة عشر“ ترجمہ: امام ابن سیرین علیہ الرحمۃ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نےخواب میں ایک بلی دیکھی جس نے اپنا سر میرے خاوند کے پیٹ میں داخل کر دیا اور اس سے گوشت کا ایک ٹکرا نکال لیا تو امام ابن سیرین علیہ الرحمۃ نے اس عورت کو فرمایا کہ تیرے خاوند کے تین سو سولہ درہم چوری ہو گئے ہیں، اس عورت نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا ہے مگر آپ نے کیسے معلوم کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا حساب جمل کے ساتھ، سین کے ساٹھ، نون کے پچاس، واؤ کے چھ اور راء کے دوسو ہیں، اور یہ تین سو سولہ بنتے ہیں۔ (البدایہ و النھایہ، سنۃ عشر و مائۃ، ج 9، ص 304، دار إحياء التراث العربي، بیروت)

نیز علما اس علم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تاریخ پیدائش کے حساب سے نام بھی تجویز فرماتے تھے چناچہ رسائل شاہ ولی اللہ کے شروع میں ہے "یہ فقیر( شاہ ولی اللہ) بتاریخ 14 شوال 1114ھ چہار شنبہ کے دن طلوع آفتاب کے وقت پیدا ہوا تاریخی نام عظیم الدین نکالا گیا۔" (رسائل شاہ ولی اللہ، ص 8، اویسی بک سٹال، گوجرانوالہ)

بزرگان دین سے اعداد میں تعویز لکھنا ثابت ہے اور اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے تاکہ جو افراد قرآن پاک کو چھو نہیں سکتے وہ بھی ان تعویذات سے استفادہ کر لیں اور کسی بے ادبی کا اندیشہ بھی نہ ہو، اسی لئے کافر کو تعویذ دینا ہو تو حکم ہے کہ قرآن آیات ہر گز لکھ کر نہ دے بلکہ آیات کی بجائے اعداد لکھ کر دے۔ یونہی جہاں بے ادبی ہونے کا گمان ہو جیسے جلانے وغیرہ کے تعویز ات تو وہاں علما نے اسی علم کے اعتبار سے تعویز لکھنے کو انسب قرار دیا ہے۔

چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: غیر مسلم کو آیات قرآنی لکھ کر ہر گز نہ دی جائیں کہ اساء ت ادب کا مظنہ ہے، بلکہ مطلقا اسماء الہیہ و نقوش مطہرہ نہ دیں کہ ان کی بھی تعظیم واجب، بلکہ دیں تو ان کے اعداد لکھ دیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 397، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ زید کہتا ہے کہ تعویذکا یا آیات قرآن نقش جد اول میں لکھنا خلاف شرع اور ناجائز ہے۔ عمرو کہتاہے کہ نہیں، عدد میں خلاف شرع تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ حرفوں لکھنا فضیلت رکھتا ہے۔ دونوں میں سے کسی کا قول مطابق شریعت ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: آیات کریمہ و اسمائے طیبہ کی برکات سے استفادہ کےدونوں طریقے ہیں جن میں عبارت و الفاظ لکھے جائیں وہ جزر کہلاتے ہیں اور زبان تکسیر میں مظہر اوراعداد والے وفق و مضمر، علم اوفاق امام حجۃ الاسلام غزالی و امام فخر الدین رازی وشیخ اکبر محی الدین ابن عربی وغیرہم اجلہ اکابر سے ہے اس میں عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں بلکہ محل احراق ونحوہ میں وہی انسب ہیں۔ و اللہ تعالی اعلم۔" (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 406، رضا  فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر سوال ہوا کہ ہندو کو تعویذ دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو اس کا کیا طریقہ ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: کافر کو اگر تعویذ دیا جائے تو مضمر جس میں ہندسے (اعداد) ہوتے ہیں نہ کہ مظہر جس میں کلام الہی و اسمائے الہی کے حروف ہوتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 197، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: تعویذ ایسا ہو کہ اس میں شرعی قباحت نہ ہو جیسے ادعیہ اور آیات یا ان کے اعداد یا کسی اسم کا نقش مظہر یا مضمر لکھا جائے۔ ( بہار شریعت، ج 3، حصہ 14، ص 147، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بسم اللہ شریف کے علم ابجد کے اعتبار سے 786 عدد بنتا ہے، یہ لکھنے کے متعلق فتاوی فقیہ ملت میں ہے ”مسجد کی دیوار پر اور خط وغیرہ کسی بھی چیز پر 786 لکھنا غلط نہیں، جائز و درست ہے۔“ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 284، شبیر برادرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5239
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 23 جولائی 2026ء