چاندی کی ادھار خرید و فروخت کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چاندی کی ادھار خرید و فروخت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل چاندی کی خریدو فروخت کثرت سے ہو رہی ہے، جس میں ایک طریقہ کار یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مثال کے طور پر آج چاندی کا ریٹ 15000 فی تولہ ہے تو خریدار سنار سے بات کرتا ہے کہ میں نے آپ سے 50 تولہ چاندی 15 ہزار فی تولہ کے حساب سے خریدی، اور اس کے پیسے دو دن بعد دوں گا، اس پر سنار کہتا ہے، ٹھیک ہے، میں نے 50 تولہ چاندی بیچی لیکن چاندی بھی دو دن بعد دوں گا۔ سودے کے وقت چاندی متعین نہیں ہوتی، بس وزن متعین ہوتا ہے۔ اس طرح خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمادیں ۔
نوٹ: اس خرید و فروخت کے بعد خریدار اور سنار اس سودے سے پھر نہیں سکتے، دو دن بعد چاندی کے ریٹ اوپر ہوں یا نیچے، دونوں اس سودے کی وجہ سے چاندی اور پیسے دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
جواب
سونا چاندی ثمن خلقی ہے جبکہ کرنسی نوٹ ثمن اصطلاحی ہے تو غیر معین ثمن خلقی کا ثمن اصطلاحی یعنی غیر معین سونا یا غیر معین چاندی کی نوٹ کے ساتھ بیع ہو تو بیع درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول کی مجلس میں ان میں سے کسی ایک پر حقیقۃً یعنی ہاتھ کے ساتھ قبضہ ہو جائے، اگر دونوں میں سے کسی پر حقیقۃً قبضہ نہ ہو، اس کے بغیر ہی عاقدین جدا ہو جائیں تو بیع ناجائز و باطل ہو جائے گی کہ یہ بیع الکالی بالکالی یعنی ادھار کے عوض ادھار کی بیع ہوگی جس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے منع فرمایا۔
لہذا اس تفصیل کے مطابق پوچھی گئی صورت میں بھی خریدار سنار سے غیر معین چاندی کا ریٹ معین کر کے سودا مکمل کرتا ہے، لیکن اس وقت نہ خریدار پیسے دیتا ہے اور نہ ہی سنار چاندی دیتا ہے تو ان میں سے کسی بھی ایک چیز پر قبضہ نہیں ہوتا، نہ سنار کا ثمن پر قبضہ ہوتا اور نہ ہی خریدار کا اس مجلس میں چاندی پر قبضہ ہوتا ہے لہٰذا یہ بیع الکالی بالکالی یعنی ادھار کے عوض ادھار کی بیع ہوئی، جوکہ ناجائز و باطل ہے۔
مشکوۃ المصابیح میں ہے: "عن ابن عمر، أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم نهى عن بيع الكالي "حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کی بیع سے منع فرمایا۔ (مشکوۃ المصابیح، ج 02، ص 531، مطبوعہ:بیروت)
فلوس کے بدلے چاندی کی بیع کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”لو باع فضۃ بفلوس فانہ یشترط قبض احد البدلین قبل الافتراق لا قبضھما کما فی البحر عن الذخیرۃ۔ اگر فلوس کے عوض چاندی بیچی تو جدا ہونے سے پہلے ان میں سے ایک پر قبضہ شرط ہے، نہ کہ ان دونوں پر جیساکہ بحر میں ذخیرہ سے منقول ہے۔ (رد المحتار، ج 7، ص 554، مطبوعہ: کوئٹہ)
درہم کے بدلے پیسے خریدے تو مجلس عقد میں ان میں سے کسی بھی ایک پر قبضہ کر لیا تو بیع درست ہو جائے گی، چنانچہ مبسوط سرخسی اور فتاوی عالمگیری میں ہے: ولفظ للآخر "اذااشتری الرجل فلو سا بدراھم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز۔۔۔ وکذلک لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراھم کذا فی المبسوط۔ملخصا" جب کسی شخص نے دراہم کے بدلے پیسے خریدے اور ثمن ادا کر دیا اس حال میں کہ بائع کے پاس پیسے نہ ہوں تو بیع جائز ہے۔ اور اسی طرح بیع جائز ہے جبکہ عاقدین پیسے پر قبضہ کے بعد، دراہم پر قبضہ سے پہلے جدا ہوجائیں اسی طرح مبسوط میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 03، ص 224، مطبوعہ: کوئٹہ) (مبسوط للسرخسی، ج 14، ص 32، مطبوعہ: کوئٹہ)
محیط برھانی میں ہے: "وروی ھشام عن محمد رحمہ اللہ تعالی: فیمن اشتری فلوسا بدراھم وقبض الفلوس، ولم یقبض الدراھم، حتی لو افترقا، فھو جائز ۔" ھشام نے امام محمد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، اس کے بارے میں جو فلوس کو دراہم کے بدلے خریدے اور فلوس پر قبضہ کیا اور دراہم پر قبضہ نہیں کیا، یہاں تک کہ دونوں جدا ہوگئے تو یہ بیع جائز ہے۔ (محیط برھانی، ج 09، ص 297، مطبوعہ: کراچی)
یہاں حکمی قبضہ کافی نہیں بلکہ حقیقی قبضہ یعنی ہاتھ سے قبضہ کرنا ہوگا، چنانچہ بیع الفلوس بالدراہم کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "بیع الفلوس بالدراہم صرف نہیں، نہ اس میں سب احکام صرف جاری۔ مگر اس قدر میں شک نہیں کہ جب تاعین رواج ان کے لئے حکم اثمان ہے تو احد الجانبین میں قبض بالید ہونا ضرور ہے، والا لکان افتراقاً عن دین بدین و قد نھی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی۔ ورنہ یہ دین کے بدلے دین سے افتراق ہوگا، حالانکہ رسول اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ادھا ر کے بدلے ادھار کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ ملخصا " (فتاوی رضویہ، ج 17، صفحہ 632 تا 633، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور )
کلابتوں کے متعلق سوال کے جواب میں سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ہاں ازانجا کہ فلوس و نوٹ اصطلاحاً ثمن ہیں (تو جب کلابتوں کے ساتھ ان کا تبادلہ ہو) ایک جانب سے قبضہ ضرور ہے، کیلا یلزم الافتراق عن دین بدین (تاکہ دین کے بدلے دین سے جدا ہونا لازم نہ آئے ۔ت) لہٰذا اگر روپیہ کے پیسے خریدے روپیہ دے دیا اور پیسے پھر دیئے جائیں گے تو مذہب راجح و معتمد میں کچھ مضائقہ نہیں، بعینہ یہی حالت کلابتوں اور پیسوں یا نوٹ کی ہے کہ صرف ایک طرف سے قبضہ ہوجانا کافی، اگرچہ دوسری جانب قرض ہو۔۔۔پھر لیتے وقت یہ ضرور نہ ہوگا کہ خاص پیسے یا نوٹ ہی لیں بلکہ برضائے مشتری ان پیسوں یا نوٹوں کے روپے بھی لے سکتے ہیں، فانہ بیع عین بدین کان علیہ فیجوز برضاہ ۔۔ہاں یہ ضرور ہے کہ جس مجلس میں ان کے عوض روپیہ دینا ٹھہرے اسی مجلس میں تمام و کمال روپیہ ادا کر دیا جائے ورنہ یہ معاوضہ یعنی پیسوں یا نوٹوں کے بدلے جو روپیہ دینا قرار پایا ہے ناجائز ہوجائیگا للافتراق عن الکالی بالکالی۔ دین کے بدلے دین کی بیع سے جدا ہونے کی وجہ سے۔ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 629 تا 631، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بیع الدین بالدین میں کسی بھی ایک پر قبضہ نہیں کیا تو بیع باطل ہو جائے گی ، چنانچہ در مختار میں ہے: "جاز شراء المستقرض القرض ولو قائما من المقرض بدراھم مقبوضۃ فلو تفرقا قبل قبضھا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ۔" مستقرض کے لئے جائز ہے کہ قرض دہندہ سے درہم مقبوضہ کے عوض قرض کو خریدے اگر قائم ہو پھر اگر وہ دونوں ان دراہم مذکورہ پر قبضہ سے پہلے متفرق ہوگئے تو خریداری باطل ہو جائے گی کیونکہ یہ قرض سے افتراق ہے (بزایہ) ۔" (در مختار مع رد المحتار، ج 07، ص 411 تا 412، مطبوعہ: کوئٹہ)
یونہی فتاوی عالمگیری میں ہے: "اذاکان لہ علیہ فلوس او طعام فاشتری من علیہ الفلوس او الطعام الفلوس او الطعام بدراھم وتفرقا قبل نقد الدراھم کان العقد باطلا وھذا فصل یجب حفظہ والناس عنہ غافلون ۔" جب ایک شخص کا دوسرے پر پیسہ یا غلہ آتا تھا تو اس نے جس پر پیسہ یا غلہ آتا ہے انہی پیسوں یا غلہ کو روپے سے خرید لیا اور روپے دینے سے پہلے جدا ہوگئے تو بیع باطل ہوگئی، اس مسئلہ کا یادرکھنا واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، ج 03، ص 102، مطبوعہ: کوئٹہ)
روپیہ کو پیسے کے عوض بیچا اور مجلس میں کسی ایک پر بھی حقیقی قبضہ نہیں کیا، اور دونوں جدا ہوگئے تو بیع باطل ہوجائے گی، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "روپیہ قرض دیا اور یہ ٹھہرا لیا کہ سوا سولہ آنے لیں گے، یہ سود و حرام قطعی ہے اور اگر روپیہ سترہ آنے یا سولہ آنے کا برضائے مشتری بیچا ور قیمت چار دن یا دو دن یا دس برس بعد دینی ٹھہری تو یہ جائز ہے جبکہ روپیہ اسی جلسہ میں دے دیا گیا ورنہ بیع باطل ہوجائے گی، لکونہ افتراقا عن دین بدین ویکفی قبض احد الجانبین کما حققناہ فی کفل الفقیہ۔ کیونکہ افتراق ہے دین سے دین کے بدلے میں اور ایک جانب سے قبضہ کا پایا جانا کافی ہے جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میں کردی ہے ۔" (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 353، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
یونہی فتاوی رضویہ میں ایک اور مقام پر مذکورہے: "جائز ہے اگر عمرو نے کہا کہ خرید لاؤ اور اس نے زید سے خرید کر اس جلسہ میں قبضہ کرلیا اس صورت میں عمرو کا تمسک لکھ دینا خریداری نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ دلال زید سے خریدنے کے بعد روپے کے اطمینان کے لئے یہ تمسک اسے دے دے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ہاں اگر دلال نے آکر عمرو سے کہا اور عمرو نے جواب دیا کہ میں نے خریدا یعنی عقد بیع وشراء یہیں ہولیا اور تمسک لکھ گیا بعدہ دلال نے نوٹ زید سے لاکر دیا تو حرام و باطل ہے کہ جلسہ بیع میں نہ نوٹ پر قبضہ ہوا نہ روپوں پر۔ فکان افتراقا عن دین بدین وقد نھی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی۔ تو یہ دین سے دین کے بدلے جدائی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ادھار کی ادھار کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 626 تا 627، مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اشکال: آپ نے مذکورہ بیع کے حوالے سے بیع باطل کا حکم بیان فرمایا ہے، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ جب خریدار چند دنوں کے بعد ثمن دے کر چاندی لے گا تو یہ سودا نئی بیع تعاطی (بغیر لفظی ایجاب و قبول کے، محض چیز لے لینے اور ثمن دے دینے) کے طور پر درست ہوجائے ؟
جواب: بیع تعاطی کے منعقد ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی عقد فاسد یا باطل کے ضمن میں واقع نہ ہوئی ہو، اگر بیع تعاطی کسی عقد فاسد یا باطل کے ضمن میں واقع ہو، تو اس بیع تعاطی سے نئی بیع منعقد نہیں ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں بھی پہلے چاندی کے سودا کی بیع باطل ہوئی، اس کے چند روز بعد اسی بیع باطل کی بناء اور اسی کی وجہ سے بیع تعاطی واقع ہوئی، تو اس وجہ سے نئی بیع بطور تعاطی منعقد نہیں ہوگی ۔
بیع تعاطی کے حوالے سے الاشباہ والنظائر میں ہے: "وقالوا التعاطی ضمن عقد فاسد او باطل، لا ینعقد بہ البیع کما فی الخلاصۃ۔" اور فقہاء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ تعاطی عقد فاسد یا باطل کے ضمن میں ہو تو اس سے بیع منعقد نہیں ہوگی جیساکہ خلاصہ میں ہے۔ (الاشباہ والنظائر مع شرح الحموی، ج 3، ص 257، مطبوعہ:کراچی)
علامہ ابن عابدین الشامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں خلاصہ کے تحت لکھتے ہیں: "وعبارة الخلاصة: اشترى رجل من وسائدي وسائد ووجوه الطنافس، وهي غير منسوجة بعد ولم يضربا له أجلا لم يجز، فلو نسج الوسائد ووجوه الطنافس وسلم إلى المشتري لا يصير هذا بيعا بالتعاطي؛ لأنهما يسلمان بحكم ذلك البيع السابق، وأنه وقع باطلا۔ اهـ۔وعبارة البزازية والتعاطي إنما يكون بيعا إذا لم يكن بناء على بيع فاسد أو باطل سابق أما إذا كان بناء عليه فلا۔اهـ۔
ایک آدمی نے مجھ سے تکیے اور قالینوں کے چہرے خریدے، جبکہ وہ ابھی بنے (بُنے) نہیں تھے، اور ان کے لیے کوئی مدت بھی مقرر نہیں کی گئی تھی، تو یہ خرید و فروخت جائز نہیں تھی۔ پھر اگر بعد میں تکیے اور قالینوں کے چہرے بُن کر خریدار کے حوالے کر دیے جائیں، تو یہ معاملہ بیع تعاطی نہیں بنے گا، کیونکہ یہ چیزیں اسی پہلے والی بیع کی وجہ سے دی جا رہی ہیں، اور وہ عقد باطل تھا۔ اھ۔ اور بزازیہ کی عبارت: بیع تعاطی اسی وقت بیع ہوتی ہے جب وہ کسی سابق فاسد یا باطل بیع کی بنیاد پر نہ ہو۔ لیکن اگر وہ اسی سابق (فاسد یا باطل) بیع پر مبنی ہو تو پھر وہ بیع نہیں ہوگی۔اھ۔ (رد المحتار، ج 07، ص 27، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار میں علامہ ابن عابدین الشامی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی بزازیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: "والبزازية: إن التعاطي بعد عقد فاسد أو باطل لا ينعقد به البيع؛ لأنه بناء على السابق۔" اور بزازیہ میں ہے کہ فاسد یا باطل عقد کے بعد ہونے والی بیع تعاطی سے بیع منعقد نہیں ہوتی، کیونکہ وہ تعاطی اسی سابق عقد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ (رد المحتار، ج 07، ص 27، مطبوعہ: کوئٹہ)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک مسئلہ کے تحت بیع تعاطی والے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "الا تری ان البیع قد ینعقد ابتداء بالتعاطی لکن اذا تقدمہ بیع باطل او فاسد و ترتب علیہ التعاطی لاینعقد البیع لکونہ ترتب علی سبب آخر۔ آپ دیکھتے نہیں کہ دستی تبادلہ سے ابتداءً بیع ہوجاتی لیکن جب پہلے یہ بیع باطل یا فاسد ہوچکی ہو تو اس کے بعد یہ دستی تبادلہ بیع نہیں بن سکتی کیونکہ اب یہ ایك ا ور سبب پر مرتب ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 18، ص 560، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
تنبیہ: یاد رہے مذکورہ بیع باطل ہے اور بیع باطل کے حکم کے مطابق چاندی خریدار کی ملک نہیں ہوگی بلکہ اس کے پاس امانت ہوگی اور ثمن سنار کی ملک نہیں ہوگا، اس صورت میں خریدار چاندی کو بیچ دیتا ہے تو اس کی بیع سنار کی اجازت پر موقوف ہوگی، وہ اجازت دے گا تو بیع درست ہوگی اور اجازت نہیں دیتا تو نافذ نہیں ہوگی۔ نیز بیع کی اجازت دینے کی صورت میں جو بھی نفع ہوگا وہ سنار کو ملے گا، خریدار کو وہ نفع رکھنا جائز نہیں، خریدار صرف اپنا ثمن لے گا جو کہ سنار کو دیا تھا۔
بیع باطل کا حکم بیان کرتے ہوئے تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "(و) البیع الباطل (حکمہ عدم ملک المشتری ایاہ) اذاقبضہ (فلا ضمان لو ھلک) المبیع (عندہ) لانہ امانۃ۔" اور بیع باطل اس کا حکم یہ ہے کہ مشتری اس کا مالک نہیں ہوتا جب وہ اس پر قبضہ کرلے تو کوئی تاوان نہیں ہے اگر مبیع اس کے پاس ہلاک ہوجائے، کیونکہ وہ امانت ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 07، ص 411 تا 412، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بیع باطل کا حکم یہ ہے کہ مبیع پر اگر مشتری کا قبضہ بھی ہوجائے جب بھی مشتری اُس کا مالک نہیں ہوگا اور مشتری کا وہ قبضہ قبضہ امانت قرار پائے گا۔" (بہار شریعت، ج 02، ص 701، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بیعِ باطل کی صورت میں حاصل شدہ ثمن کا حکم بیان کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: "بُطلان پر (بیع باطل کی صورت میں) وہ روپیہ کہ بنامِ ثمن، زمینداروں نے لیا، اُن کے لیے حرام ۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 431، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایسی رقم کی واپسی کے متعلق لکھا: "قیمت کہ زمینداروں نے لی، بدستور ملکِ مشتریان (پرباقی ہے)، اُن (زمینداروں) پر فرض کہ قیمت پھیریں (واپس ادا کریں) ۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 427، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بیع باطل میں مشتری نے مبیع بیچ دی تو وہ مالک کی اجازت پر موقوف ہوگی، اجازت دینے کے بعد اس کا سارا ثمن مالک کو ملے گا مشتری کو نہیں ملے گا چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "اگر مشتریوں نے بیچ ڈالیں تو جن جن کے ہاتھ بیچیں وہ سب بیعیں اجازت زمینداروں پر موقوف رہیں گی، جب تک مچھلیاں اور وہ بائع و مشتری و زمیندار باقی ہیں زمینداروں کو اختیار ہے چاہے بیع جائز کردیں اور قیمت خود لے لیں یا فسخ کردیں اور مچھلیاں واپس لیں، کما ھو حکم بیع الفضولی، ومعلوم ان الاجازۃ انما تلحق الموجود دون المعدوم، فیشترط لھا قیام العاقدین والمقعود علیہ، وکذا المجیز، حتی لم یکن لوارثہ ان یجیز کمافی الدرالمختار وغیرہ۔ جیسا کہ بیع الفضولی کا حکم ہے، اور ظاہر ہے کہ اجازت موجود چیز کو لاحق ہو سکتی ہے معدوم چیز کو نہیں، تو اس لئے اس وقت عاقدین اور معقود علیہ چیز کا موجود ہونا شرط ہے اور یوں اجازت دینے والے کا موجود ہونا بھی ضروری ہے اس لئے اس کے وارث کو اجازت دینے کا حق نہ رہے گا جیسا کہ در مختاروغیرہ میں ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 428، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: har-7312
تاریخ اجراء: 28 شعبان المعظم 1447 ھ/17 فروری 2026ء