logo logo
AI Search

گولڈ بی ایس (Gold B.S) ایپ پر ٹریڈنگ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گولڈ بی ایس (Gold B.S) ایپ پر ٹریڈنگ کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا سوال یہ ہے کہ آج کل ایک ایپلیکیشن گولڈ بی ایس (Gold Buy/Sell) لانچ کی گئی ہے۔ یہ ایک ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے، جس میں کچھ افراد اپنی رقم انویسٹ (Invest) کرتے ہیں اور پھر تھامس لمیٹڈ کمپنی ان افراد کا وکیل ہونے کی حیثیت سے اپنے ماتحت افراد کے ذریعے آن لائن سونا خرید کر بکواتی ہے۔ تھامس لمیٹڈ اس ٹریڈنگ پلیٹ فارم کا سی ای او (Chief Executive Officer) بھی ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع سے ہم تھامس لمیٹڈ کمپنی کو اطلاع دیتے ہیں کہ وہ ہماری رقم سے سونا خریدے اور آگے فروخت کر دے۔ واضح رہے کہ سونا ہمارے یا کمپنی کسی کے قبضے میں نہیں آتا۔

یہ تمام خرید و فروخت آن لائن ہماری زیرِ نگرانی ہوتی ہے اور ٹھیک دو تین گھنٹے بعد جتنا منافع ہوتا ہے، اس میں سے 10 فیصد بطور کمیشن "گولڈ بی ایس" کو ملتا ہے، جبکہ بقیہ منافع سرمایہ کار (ہمارے) اور تھامس لمیٹڈ کمپنی کے درمیان تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان بھی اسی تناسب سے ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹریڈنگ کا مذکورہ طریقہ شرعا جائز ہے؟ اس میں انویسٹ کرنے اور منافع حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ ہمیں تحریری صورت میں بتا دیں کہ یہ کاروبار کرنا، جائز ہے یا نہیں۔

جواب

سوال میں کمپنی کے متعلق مذکور معلومات مکمل نہیں ہیں۔ لہذا پہلے یہاں اس سے متعلق تفصیلی معلومات درج کی جاتی ہیں، پھر حکم مع الدلائل بیان کیا جائے گا۔

Gold B.S ایک آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں صارفین کو سونا (Gold)، کرپٹو کرنسیز اور دیگر مالیاتی اثاثوں میں تجارت (Trading) کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم سوشل میڈیا میں تشہیر، واٹس ایپ گروپس اور ریفرل سسٹمز کے ذریعے عام لوگوں اور خاص طور پر ایسے نئے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے، جو فوری منافع کمانا چاہتے ہیں۔

اس میں کام کرنے کے لئے سب سے پہلے صارف گوگل یا پلے سٹورسے ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرکے اپنا اکاؤنٹ بناتا ہے، اکاؤنٹ بنانے کے بعد کاروبار کے لئے Deposit/ Recharge والے سیکشن میں جاکر رقم ٹرانسفر کرتا ہے۔

یہ کمپنی مختلف کاروبار کے دعوے کرتی ہے، جس میں ایک سونے کا کاروبار بھی شامل ہے۔ صارفین کو عام طور پر خرید و فروخت (Buy/Sell) کے سگنلز اور وقت کی تجاویز (Timing suggestions) فراہم کی جاتی ہیں۔

ریفرل اور کمیشن سسٹم: دوستوں کو مدعو کریں اور کمیشن کمائیں۔

نوٹ: یہ سب سے بڑی خطرے کی گھنٹی (Red Flag) ہے، کیونکہ ایسے بہت سے پلیٹ فارمز حقیقی ٹریڈنگ سے منافع کے بجائے نئے لوگوں کو لانے (Referrals) پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

 Gold BS  اصلی ہے یا سکیم  (Scam)؟

سیکیورٹی ٹولز اسے متعدد خطرے کے سگنلز کے ساتھ ایک "مشکوک ویب سائٹ" قرار دیتے ہیں۔ مالک کی معلومات پوشیدہ ہیں۔

اس میں خطرے کی نشانیاں واضح ہیں، اس کا کوئی واضح کاروباری ماڈل نہیں، اور پاکستان میں کسی مالیاتی ادارے سے منظور شدہ نہیں ہے۔ سنجیدہ سرمایہ کاری کے لئے انتہائی غیر محفوظ ہے۔

یہ تمام معلومات گولڈ بی ایس کے متعلق اس  ویب سائٹ سے اختصار سے درج کی گئی ہے۔ https://goldbs.com.pk/  

حکم ِ شرع :

مذکورہ ایپلیکیشن میں اپنی رقم جمع کرا کے نفع کمانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا طریقہ کار ہماری شریعت اسلامیہ کے خرید و فروخت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا، اور اس میں کئی شرعی اغلاط پائی جاتی ہیں۔ نیز اس میں جوا، دھوکہ اور ضرر کے پہلو بھی واضح ہیں۔ ان باتوں کی تفصیل ذیل میں بیان کی جاتی ہے۔

(1) خارج میں کوئی کاروبار نہیں : خارج میں اس کمپنی کا کاروباری ماڈل نہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خارج میں کوئی کاروبار نہیں، نہ حقیقی خرید و فروخت ہوتی ہے، بلکہ محض فرضی اور ڈیجیٹل طور پر یہ کام ہو رہا ہے۔ جبکہ فرضی اور ڈیجیٹل چیز اپنی ذات میں کوئی ایسا مال ہی نہیں کہ جو شرعاً قابل خرید و فروخت ہو۔ لہذا یہ معاملہ ہی باطل ہے۔

مال کی تعریف کے متعلق رد المحتار میں ہے: ”المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة ۔۔۔ والمال ما من شأنه أن يدخر للانتفاع وقت الحاجة“ ترجمہ: مال سے مراد وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اسے وقتِ حاجت تک ذخیرہ کرنا ممکن ہو.... مال وہ ہے جسے وقتِ ضرورت نفع حاصل کرنے کے لئے جمع کیا جا سکے۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 501، دار الفکر، بیروت)

’’الفقہ الاسلامی وادلتہ‘‘ میں ہے: ”المال هو كل عين ذات قيمة مادية“ ترجمہ: مال ہر وہ عین چیز ہے جو قیمت رکھتی ہو اور مادی ہو۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ، جلد 5، صفحہ 3305، دار الفکر، بیروت)

بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”مال وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو، جس کو دیا لیا جاتا ہو، جس سے دوسروں کو روکتے ہوں، جسے وقت ضرورت کے لیے جمع رکھتے ہوں۔“ (بھار شریعت، جلد 2، صفحہ 696، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(2) قبضے سے قبل فروخت: اگر بالفرض کہیں کچھ مال ہو اور اسے خرید و فروخت مانیں تو بھی یہ بیع کے شرعی اصولوں کے خلاف ہی ہے، کیونکہ سونا منقولی چیزوں میں سے ہے اور منقولی (Movable) چیزیں خریدنے کے بعد قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا شرعا ناجائز ہے؛ کہ حدیث پاک میں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ نیز مذکورہ کمپنی میں سونا (Gold)، چاندی (Silver)، اور دیگر کرنسی کی آپس میں خرید و فروخت ہوتی ہے، جسے بیع صرف کہتے ہیں؛ اس کے درست ہونے کے لیے شرعی طور پر خرید و فروخت کی اسی مجلس میں عوضین پر قبضہ شرط ہے، اس کے بغیر  بیع صرف درست نہیں ہوتی، اور ایسی صورت میں چیز آگے بیچنا بھی جائز نہیں ہوتا۔ جبکہ اس کمپنی کے طریقہ کار میں مجلس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا، بلکہ بغیر قبضہ وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یقبضہ، قال ابن عباس: وأحسب کل شیءبمنزلة الطعام“ ترجمہ: جو شخص غلہ خریدے، تو وہ اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے نہ بیچے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ تمام اشیاء غلہ ہی کے حکم میں ہیں۔ (صحیح المسلم، ج 3، ص 1160، دار احیاء التراث العربی)

مبسوطِ سرخسی میں ہے: ”وكذلك ماسوى الطعام من المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا“ ترجمہ: ہمارے نزدیک کھانے کے علاوہ دیگر منقولی چیزوں میں یہی حکم ہے کہ قبضے سے پہلے ان کی بیع جائز نہیں۔ (مبسوط سرخسی، ج 13، ص 10، مطبوعہ کوئٹہ)

 ثمن كا ثمن کے ساتھ تبادلہ بیع صرف ہے، اور مجلس میں ہی عوضین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے۔ جیسا کہ مختصر القدوری میں ہے: ”الصرف هو: البيع إذا كان كل واحد من العوضين من جنس الأثمان ..... ولا بد من قبض العوضين قبل الافترق“ ترجمہ: جب عوضین میں سے ہر ایک ثمن کی جنس سے ہو تو یہ بیع صرف ہوتی ہے۔ اس میں جدا ہونے سے پہلے پہلے مجلس میں ہی عوضین پر قبضہ ضروری ہوتا ہے۔ (مختصر القدوری، صفحہ 90، دار الكتب العلمية)

(3) ضرر و دھوکا: ایسی کمپنیوں میں صارف کی رقم محفوظ نہیں ہوتی، بلکہ یہ کمپنیاں جب چاہیں صارف کا اکاونٹ بلاک کر کے اس کاسارا سرمایہ ضبط کرلیتی ہیں، لہٰذا جب رقم ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے تو اس میں اپنی رقم جمع کروانے میں خود کو ضرر پہنچانا اور دوسروں کو اس میں ایڈ کروانے میں انہیں ضرر پہنچانا ہے۔ جبکہ خود کو ضرر پہنچانا اور کسی دوسرے کو ضرر میں ڈالنا دونوں ہی منع ہیں۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’لاضرر ولاضرار فی الاسلام‘‘ ترجمہ: اسلام میں نہ اپنے آپ کو ضرر میں ڈالنا ہے، نہ دوسرے کو ضرر دینا۔ (المعجم الاوسط ، ج 5، ص283، دار الحرمین، قاھرہ)

 (4) "تھامس لمیٹڈ " کو نفع نقصان دونوں میں بیک وقت شریک کرنا درست نہیں: کیونکہ اگر یہ وکیل بالاجرت ہو یا بروکر ہو؛ تو محض وکیل یا بروکر کاروبار کے نفع نقصان میں شریک نہیں ہوتے، بلکہ انھیں صرف طے شدہ اجرت دی جاتی ہے۔ اگر بغیر کوتاہی نقصان ہو جائے تو ان پر تاوان ڈالنا بھی جائز نہیں۔ کیونکہ ان کے پاس مال امانت ہوتا ہے۔ یا اگر یہ مضارب ہو تو اب یہ نفع میں تو شریک ہو گا لیکن اس پر بھی چونکہ نقصان ڈالنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ مضارب کے پاس مال امانت ہوتا ہے، اور جب امانت بغیر کوتاہی کے ہلاک ہو جائے تو تاوان لازم نہیں ہوتا۔

وکیل کے پاس مال امانت ہوتا ہے۔ جیسا کہ الفقہ الاسلامی اور شرح مختصر الکرخی اور العقود الدریہ میں ہے :واللفظ للآخر: ”المقبوض في يد الوكيل أمانة بمنزلة الوديعة والأمين“ ترجمہ: وکیل کے قبضے میں مال ودیعت و امانت کے قائم مقام ہوکر امانت ہوتا ہے۔ (العقود الدریہ ، جلد1، صفحہ 341، دار المعرفہ )

مضارب امین ہوتا ہے۔ در مختار و رد المحتار: ”(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح)؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن)؛ لأنه  أمين“ ترجمہ: مال مضاربت میں سے جو ہلاک ہو جائے اسے نفع کی طرف پھیرا جائے گا، کیونکہ نفع تابع ہوتا ہے، اگر ہلاکت نفع سے زائد ہو تو مضارب تاوان نہیں دے گا۔ کیونکہ مضارب امین ہے۔ (در مختار و رد المحتار، ج 05، صفحہ 656، دار الفکر، بیروت)

مال امانت بغیر کوتاہی کے ہلاک ہو جائے تو تاوان نہیں۔جیسا کہ درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: ”الأمانة غير مضمونة. يعني على تقدير هلاكها أو ضياعها بدون صنع الأمين وتقصيره ولا يلزم الضمان“ ترجمہ: امانت کا تاوان نہیں یعنی جب وہ امین کی کوتاہی اور اس کے فعل کے بغیر ہلاک یا ضائع ہو جائے۔ اس پر تاوان لازم نہیں ہوگا۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، جلد 02، صفحہ 235، دار الجيل)

(5)کمیشن کا طریقہ غیر شرعی: دیگر افراد کو ممبر بنانے پر جو کمیشن دیاجاتا ہے یہ حقیقت میں لالچ کا جال بچھایا جاتا ہے تاکہ زیادہ لوگ اپنی رقم شامل کریں اور کمپنی کے پاس بغیر محنت لاکھوں روپے جمع ہوجائیں۔ قطع نظر ان کے مقصد سے کمیشن کا یہ طریقہ کار بھی شرعی قوانین کی روشنی میں جائز نہیں ہے۔ کیونکہ کمیشن ایجنٹ محنت و قابل معاوضہ کام کرنے کے بعد صرف اتنی ہی اجرت کا حقدار ہوتا ہے جتنی اس کام کی عرف میں رائج ہو، جبکہ مذکورہ کمپنی کا طریقہ یہ ہے کہ ممبر بننے والے افراد جتنی زیادہ رقم انویسٹ کریں گے اتنی زیادہ کمیشن بنے گی۔ نیز جس آدمی کو ممبر بنانے کے لیے اس نے محنت نہیں کی، بلکہ کسی دوسرے فرد نے کی ہے، تو اس کی کمیشن وہ دوسرا فرد ہی لے سکتا ہے، پہلا فرد جس نے کوئی محنت نہیں کی اس کو کمیشن کا مستحق نہیں بنایا جاسکتا، جبکہ یہاں کمپنی پہلے فرد کو بھی کمیشن کا کچھ حصہ دیتی ہے۔ یہ سب امور خلافِ شرع ہیں۔

  امام اہلسنت احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت و کوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی، بائع کے لئے کوئی دوا دوش نہ کی، اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلا آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے، خرید لینی چاہیے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے، اس نے خرید لی، جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے، محنت کرنے کی ہوتی ہے، نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے، مشورہ دینے کی۔ رد المحتار میں بزازیہ وولوالجیہ سے ہے: ’’الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجر، وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہ، لان ذٰلک عمل یستحق بعقد الاجارۃ الخ۔……اور اگر بائع کی طرف سے محنت و کوشش و دوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگرچہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2797
تاریخ اجراء: 26 ذی الحجۃ الحرام 1447ھ/12 جون 2026ء