logo logo
AI Search

ایڈوانس رقم دے کر کم قیمت میں کام کروانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایڈوانس اجرت کی وجہ سے کم پیسوں میں کام کروانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا جیولری کا کام ہے، جیولری پالش ہوتی ہے، پالش کا نارمل مارکیٹ ریٹ فرض کریں 1300 پر کلو ہے، اور پالش والوں كو ایک ماہ بعد بل ادا کیا جاتا ہے، میں پالش والے سے کہوں کہ: آپ مجھ سے ایڈوانس لے لیں، اور میرا  کام آپ 1100 میں کردیں۔ اس پروہ ایگری ہو جائے، تو میرا یوں ایڈوانس دے کر نفع حاصل کرنا کیا درست ہے؟ آپ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کا ایڈوانس اجرت کی صورت میں کم پیسوں پر کام کروانا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ عقد اجارہ ہے، اور ایڈوانس دی جانے والے رقم اجرت ہے، اور اجرت میں باہمی رضامندی سے کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی چیز کو بیچتے وقت اس کا ثمن، نقد میں کم، اور ادھار میں زیادہ مقرر کیا جائے، تو فقہاے کرام نے اس کے جائز ہونے کی تصریح فرمائی، اور کتب فقہ میں ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اجارہ میں اجرت کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بیع میں ثمن کا معاملہ ہے، لہٰذا ایڈوانس اجرت دینے کی وجہ سے، اجرت میں کمی کرنا بھی جائز ہوگا۔

استحقاق اجرت کی صورتیں بیان کرتے ہوئے، اما م ابو الحسن برہان الدین مرغینانی علیہ الرحمۃ ہدایہ میں اور امام ابوبکر حدادی حنفی علیہ الرحمۃ جوہرہ میں لکھتے ہیں، (و اللفظ للجوھرۃ) ”(و الأجرة لا تجب بالعقد) أي لا يجب أداؤها۔۔۔ (و يستحق بأحد معان ثلاثة إما أن يشترط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط أو باستيفاء المعقود عليه)“ ترجمہ: اور اجرت عقد کی وجہ سے واجب نہیں ہوتی یعنی اس کا ادا کرنا لازم نہیں ہوتا اور اس کا استحقاق تین صورتوں میں سے ایک کے ذریعے ہوتا ہے یا پیشگی اجرت کو شرط قرار دیا جائے یا بغیر شرط پیشگی اجرت دے دی جائے یا جس چیز پر عقد ہوا، اس کے منافع کو مکمل حاصل کر لیا جائے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 01، صفحہ 568، مطبوعہ: لاہور)

بیع میں نقد و ادھار کے اعتبار سے ثمن میں کمی و زیادتی کرنا جائز ہے، محقق ابن الہمام علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”ان كون الثمن على تقدير النقد ألفا و على تقدير النسيئة ألفين ليس فی معنى الربا“ ترجمہ: کسی چیز کی قیمت نقد کی صورت میں ایک ہزار اور ادھار کی صورت میں دو ہزار ہو، تو یہ سود کے معنی میں داخل نہیں۔ (فتح القدیر، جلد 06، صفحہ 410، مطبوعہ: کوئٹہ)

 مبسوط سرخسی اور بدائع میں ہے، (واللفظ للآخر): ”الاجرۃ فی الاجارات معتبرۃ بالثمن فی البیاعات لان کل واحد من العقدین معاوضۃ المال بالمال“ ترجمہ: اجارہ میں اجرت کو بیع میں ثمن پر قیاس کیا جائے گا، کیونکہ ان میں سے ہر ایک معاوضۃ المال بالمال (مال کے بدلے مال دینا) ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 04، صفحہ 48، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5104
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 12 جون 2026ء