ڈومیسائل بنانے کے پیسے لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ڈومیسائل بنانے کی اجرت لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچہری میں لوگ ڈومیسائل بنواتے ہیں، (ڈومیسائل میں اس شخص کے ذاتی کوائف اور وہ کس صوبے کا ہے، ان چیزوں کا اندارج ہوتا ہے) ڈومیسائل کا کام کرنے والے کا کام فارم وغیرہ تیار کرنا، ان کی ٹائپنگ کرنا، پرنٹنگ کرنا وغیرہ ہے، ان کاموں کی اجرت لینا کیسا ہے؟ اور جو یہ کام کرتے ہیں، وہ سرکاری اجیر نہیں ہوتے بلکہ اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔
جواب
اگر ڈومی سائل کا فارم تیار کرنے میں جھوٹ، دھوکہ، رشوت وغیرہ ناجائز معاملات نہ کیے جائیں، تو اس کام پر اجرت لینا جائز و درست ہے، کہ جائز کام ہے اور جائز کام پر اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: "ملازمت کی صورتیں جو سائل نے لکھیں اس کا جواب کلی کہ انھیں اور ان جیسے دس ہزار کو شامل ہو، یہ ہے کہ ملازمت دو قسم ہے:
ایک وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے، جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین، اس کا لکھنا پڑھنا، تقاضا کرنا اس کے ذمہ ہو، ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگر چہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے، وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے، اور مال حرام ہے، تو حرام در حرام۔
دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہٖ امر جائز کی ہو مگر تنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتا ہے، اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جا رہا ہے، بعینہٖ مال حرام ہے۔ نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلک ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز۔" (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 515، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10487
تاریخ اجراء: 16 رجب المرجب 1442ھ / 01 مارچ 2021ء