logo logo
AI Search

کیا مسلمان غیر مسلموں کی عبادت گاہ کا کام کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسلمان کا غیر مسلموں کی عبادت گاہ کا کام کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

غیر مسلم کی عبادت گاہ پر کسی مسلمان کا کانٹریکٹ پر کوئی کام کرنا کیسا؟ جیسے ان کی عبادت گاہ کے باہر لوہے کی گرل جالی لگانا، پھول پودے لگانا، کھڑکی اور شیشے لگانا، دروازے کا کام کرنا وغیرہ؟

جواب

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکروہ (ناپسندیدہ) ہے، لہذا اس سے بچنا چاہیے۔ امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا: "مسلمان معمار کو بتکدہ کی نو تعمیر یا مرمت کرنا شرعاً درست ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو جو کوئی ایسا کرے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ "تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”مکروہ ہے اور جو کرے مستحق سزا نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 19، صفحہ 504، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5196
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1448ھ/16 جولائی 2026ء