logo logo
AI Search

شرٹ کا ڈیزائن بنا کر پیسے لینا کیسا ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شرٹ کا ڈیزائن بنا کر کمپنی کو دینا اور کمیشن لینا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی جو شرٹیں فروخت کرتی ہے، اور ان شرٹوں پر مختلف ڈیزائنز لگاتی ہے، ڈیزائنز کمپنی کے پاس نہیں ہوتے، وہ مختلف ڈیزائنرز کو آفر کرتی ہے کہ آپ لوگ ڈیزائن بنا کر ہماری ویب سائٹ پر رکھیں، جس کا ڈیزائن کسٹمر پسند کرے گا، ہم اس کا جائز ڈیزائن (جس میں جاندار کی تصویر یا کسی طرح کی خلاف شرع چیز نہیں ہوتی) شرٹ پر لگا کر فروخت کریں گے، ڈیزائن بمع شرٹ جتنے میں بکے گا، اس کا 10 پرسنٹ ڈیزائنر کا ہوگا، بقیہ کمپنی کا۔ اور شرٹ کتنے میں سیل ہوگی اور اس کا 10 پرسنٹ کتنا ہوگا، یہ سب کمپنی اور ڈیزائنر آپس میں طے کرتے ہیں اور اسی کے مطابق شرٹ سیل کی جاتی ہے اور ڈیزائنر کو پرسنٹیج ملتی ہے۔ اور جب جب اور جتنی تعداد میں شرٹیں بکتی رہیں گی، جن پر اس ڈیزائنر کا ڈیزائن لگے گا، تب تب ہر شرٹ کا 10 پرسنٹ ڈیزائنر کو ملتا رہے گا۔

اور کمپنی کی ویب سائٹ پر یہ ڈیزائن مخصوص دنوں تک لگا رہتا ہے، اگر اتنے دنوں میں نہ بکے تو کمپنی اس ڈیزائن کو ویب سائٹ سے الگ کروا دیتی ہے اور اس کے بدلے ڈیزائنر کو کچھ بھی نہیں دیتی۔

اور یہ یاد رہے کہ ڈیزائنر جو ڈیزائن بنا کر دیتا ہے وہ بعینہ شرٹ پر نہیں لگایا جاتا بلکہ وہ ایک ماڈل کی حیثیت سے ہوتا ہے، کمپنی ویسا ڈیزائن خود شرٹ کے اوپر بناتی ہے۔ اور ڈیزائنر کمپنی کا اجیر بھی نہیں ہوتا کہ کمپنی اس سے اجرت پر ڈیزائن بنوا رہی ہو۔

جواب

صورت مسئولہ کے مطابق ڈیزائنر اپنے حق ایجاد کا متعین عوض وصول کر رہا ہے تو شرعاً یہ درست ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ:

صورت مسئولہ میں ڈیزائنر نے جو ڈیزائن بنایا ہے، اسے کسی پروڈکٹ پر چسپاں کرنا، یہ اس کا حق ہے، جسے حق ایجاد کہا جاتا ہے، ڈیزائنر اپنا یہ حق کمپنی کو دے رہا ہے اور اس کا عوض وصول کر رہا ہے، اسے فقہی اصطلاح میں "نزول عن الحق بالعوض" کہا جاتا ہے۔ اور یہ حق ایجاد، ڈیزائنر کو اصالۃ حاصل ہوا ہے، محض ضرر دور کرنے کے لیے نہیں ہے اور ایسے حق کا عوض لینا، صاحب حق کے لیے شرعا درست ہوتا ہے لہذا ہماری صورت میں بھی ڈیزائنر کو اپنے حق ایجاد کا عوض لینا شرعا درست ہے۔ اور صورت مسئولہ میں عوض متعین اس طرح ہے کہ جب معلوم ہے کہ شرٹ بمع ڈیزائن اتنے میں فروخت ہوگی تو اس کا 10 پرسنٹ کتنا بنے گا، وہ بھی معلوم ہے۔

نوٹ:

صورت مسئولہ میں ڈیزائن کی خرید و فروخت نہیں ہو رہی کیونکہ ڈیزائنر فقط ڈیزائن کی تصویر ویب سائٹ پر لگاتا ہے اور کمپنی ویسا ڈیزائن خود بنا کر شرٹ پر لگاتی ہے، جس سے واضح ہے کہ ڈیزائنرکے ڈیزائن کی خرید و فروخت نہیں ہوتی۔ نیز ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ڈیزائن کی خرید و فروخت ہو رہی ہوتی تو صرف ایک مرتبہ میں کمپنی اسے لے کر اس کا عوض دے دیتی جبکہ یہاں جب جب شرٹوں پر ڈیزائن لگایا جاتا رہے گا، تب تب اس کے بدلے رقم ڈیزائنر کو ملتی رہے گی۔

اس کی نظیر حق طباعت والا مسئلہ ہے کہ وہاں ہر مرتبہ کی طباعت پر مصنف کو عوض ملتا ہے، یہ تصنیف بیچنا نہیں ہے اگر تصنیف بیچی جاتی تو صرف ایک مرتبہ عوض وصول ہوتا۔

رد المحتار میں ہے "ثبوت حق الشفعة للشفيع، وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك فلا يستحق شيئا أما حق الموصى له بالخدمة، فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة فيكون ثابتا له أصالة فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق حيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالة لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه"

 ترجمہ: شفیع کے لیے حق شفعہ کا ثبوت اور بیوی کے لیے باری کی تقسیم کاری کے حق کا ثبوت اور اسی طرح خیار دی گئی عورت کے لیے نکاح میں حق خیار کا ثبوت، یہ شفیع اور عورت سے محض ضرر دور کرنے کے لیے ہے اور جو حق اس طور پر ثابت ہوتا ہے، اس سے صلح کرنا درست نہیں ہوتا کیونکہ صاحب حق جب (عوض پر) راضی ہوا تو پتاچلا کہ اسے اس حق کے نہ ملنے پر کوئی ضرر نہیں ہے لہذا وہ کسی چیز کا مستحق نہیں ہوگا، اور جس شخص کے لیے غلام کی خدمت کی وصیت کی گئی، اس کاحق ایسا نہیں ہے بلکہ وہ اس کے لیے نیکی اور صلہ کے طور پر ثابت ہوا ہے لہذا وہ اس کے لیے اصالۃ ثابت ہوگا تو اس سے صلح کرنا درست ہے جب وہ اس سے غیر کے حق میں دستبردار ہو اور اسی کی مثل وہ حقوق ہیں، جن کا ذکر اشباہ کے حوالے سے پیچھے ہوا یعنی حق قصاص، حق نکاح اور حق رقیت کہ ان کا عوض لینا درست ہے کیونکہ یہ صاحب حق کے لیے اصالۃ ثابت ہوئے ہیں، نہ کہ اس سے ضرر دور کرنے کے لیے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب البیوع، ج 07، ص 34، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوظائف کے طرف منجر ہوگا، وہاں ہر چند علماء کو اختلاف ہے اور یہ مبحث معرکۃ الآراء ہے، مگر مرضی ومختار جماہیر فحول و نحاریر عدول، صحت و قبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار و ملاحظہ نظائر ان شاء اﷲ تعالٰی اظہر، اگرچہ دوسرا پلہ بھی بہت ثقیل و گراں ہے۔۔۔۔خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رد المحتار میں کلام علامہ بیری شارح اشباہ سے اس کی تائید نقل اور حقوق موصی لہ بالخدمہ و قصاص و نکاح و رق کا حقوق شفعہ و قسم زوجہ و خیار مخیرہ فی النکاح سے بدیں وجہ کہ صور اولٰی میں حق اصالۃ ثابت ہے تو ان سے اعتیاض جائز بخلاف اخیرہ کے کہ وہاں ثبوت حق صرف بربنائے ضرر ہے، جب صاحب حق اعتیاض پر راضی ہو ا، معلوم ہوا مستضررنہ تھا، راسًا حق باطل ہوا، یہ عوض کیسا، فرق بیان کرکے فرماتے ہیں: "ولایخفی ان صاحب الوظیفۃ ثبت لہ الحق فیہ بتقریر القاضی علی وجہ الاصالۃ لاعلی رفع الضرر "(اورمخفی نہ ر ہے کہ بیشک صاحب وظیفہ کے لئے حق، قاضی کی تقریر سے بطور اصل ثابت ہوا، نہ کہ رفع ضرر کے طورپر۔) " (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 110 تا 112، رضا فاونڈیشن، لاہور)

مفتی نظام الدین صاحب مد ظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں: "حق اصلی ہو لیکن مال عین سے متعلق نہ ہو، جیسے حق قصاص، حق تعلی، حق تصنیف، حق طباعت، حق ایجاد وغیرہ، یہ حقوق اصالۃ ثابت ہیں، ایسا نہیں کہ محض کسی سے ضرر دور کرنے کے لیے ان کو ثابت مان لیا گیا ہے، ان کی بیع ناجائز ہے مگر عوض لے کر ان سے دستبرداری جائز ہے، خود قرآن حکیم نے حق قصاص کے بدلے میں مال لے کر اس سے دستبرداری کی اجازت دی ہے۔۔۔ان حقوق کی بیع اس لیے ناجائز ہے کہ یہ نہ مال ہیں اور نہ مال عین سے متعلق ہیں۔ " (جدید فقہی مباحث، ص 227، 228، مطبوعہ: کراچی)

اشکال:

اگر عاقدین کے ذہنوں میں یہ نہ ہوکہ ہم نزول عن الحق کر رہے ہیں تو کیا اسے بھی نزول عن الحق قرار دیا جائے گا؟

جواب:

اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ایسے مواقع پر اجمالا عاقدین کے ذہن میں ہوتا ہے کہ یہاں حق کا معاوضہ ہوتا ہے یعنی دونوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ڈیزائنر کا ڈیزائن ہے وہ چاہے تو اسے کسی پروڈکٹ پر لگائے لیکن کمپنی اسے لگا لیتی ہے اور اس کا عوض دیتی ہے۔

ثانیا: فلیٹوں کی بیع در بیع میں نزول عن الحق والی صورت پائی جاتی ہے وہاں عقد کرنے والوں کے اذہان میں نزول عن الحق والی صورت نہیں ہوتی لیکن پھر بھی اس کی اجازت دی گئی۔

ثالثا: تصحیح عقد والی صورتوں میں تصحیح والی صورت عاقدین کے ذہن میں ہونے کی شرط نہیں لگائی جاتی بلکہ صرف امکان دیکھا جاتا ہے کہ وہ صورت بن سکتی ہے یا نہیں؟ اگر بن سکتی ہے تو پھر اسی کو قرار دے کر حکم بیان کیا جاتا ہے جیسے:

الجوھرۃ النیرۃ میں ہے ’’قوله: (ومن باع سيفا محلى بمائة درهم وحليته خمسون درهما فدفع من ثمنه خمسين درهما جاز البيع وكان المقبوض حصة الفضة، وإن لم يبين ذلك) لأن حصة الفضة يستحق قبضها في المجلس وحصة السيف لا يستحق قبضها في المجلس فإذا نقد مقدار الحلية وقع ما نقد عن المستحق. قوله: (وكذلك؛ إذ قال: خذ هذه الخمسين من ثمنهما) لأن أمور المسلمين محمولة على الصحة ما أمكن ولا يمكن ذلك إلا بأن يصرف المقبوض إلى ما يستحق قبضه‘‘

ترجمہ: اور جس نے سو دراہم کے بدلے زیور والی تلوار بیچی اور تلوار کا زیور پچاس دراہم ہے پس خریدار نے اس کے ثمن میں سے پچاس دراہم دیے تو بیع جائز ہے اور جتنے ثمن پر قبضہ ہوا وہ چاندی کا حصہ ہوگا اگرچہ اس بات کی اس نے وضاحت نہ کی ہو کیونکہ چاندی کے حصے پر اسی مجلس میں قبضہ ہونا ضروری ہے اور تلوار کے حصے پر اسی مجلس میں قبضہ ضروری نہیں ہے پس جب زیور کی مقدار برابر ثمن ادا کرے گا تو جس پر قبضہ ضروری ہے وہ اس کی طرف سے ادا ہوگا۔ اور اسی طرح کا حکم اس وقت ہوگا جب خریدار یہ کہے کہ یہ پچاس ان دونوں کے ثمن سے ہیں کیونکہ جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں کے معاملات کو صحت پر محمول کیا جاتا ہے اور یہ ممکن نہیں مگر اسی طریقے سے کہ قبضہ کیے ہوئے ثمن کو اس کی طرف پھیرا جائے جس کے ثمن پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، باب الصرف، ج 01، ص 222، المطبعۃ الخیریۃ)

اس صورت میں خریدارنے یہ کہا تھا کہ یہ رقم تلوار اور اس پر لگی چاندی کی طرف سے وصول کرو، تو اس کے باوجود تصحیح عقد کے لیے اسے صرف چاندی کا عوض قراردیا گیا کیونکہ جو رقم اداکی گئی تھی وہ چاندی کے برابر تھی، اگر اس میں سے کچھ تلوار کا معاوضہ قرار دیا جائے تو چاندی میں کمی بیشی ہوگی جو کہ جائز نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10567
تاریخ اجراء: 26 شعبان المعظم 1442 ھ/ 10 اپریل 2021 ء