استطاعت سے پہلے حج کرلیا اب دوبارہ حج فرض ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج فرض نہ تھا پھر بھی کرلیا تو!
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ میں نے تقریباً 24 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ حج کیا تھا، لیکن اس وقت میں صاحبِ استطاعت نہیں تھا۔ اب میری عمر 32 سال ہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ صاحبِ استطاعت ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اب مجھ پر دوبارہ سے حج کرنا فرض ہے؟
نوٹ: سائل نے وضاحت کی کہ اس نے 24 سا ل کی عمر میں جو حج کیا تھا، وہ مطلق حج کی نیت سے کیا تھا، حج فرض یا نفل کی کوئی نیت نہیں تھی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے 24 سال کی عمر میں مطلق حج کی نیت سے حج کر لیا تھا، تو اب آپ پر صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود حج فرض نہیں، کیونکہ جو شخص صاحبِ استطاعت نہ ہو اور وہ فرض حج کی یا مطلق حج کی نیت سے حج کر لے، تو اس کا فرض حج ادا ہو جاتا ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ذو الحجۃالحرام 1440ھ