logo logo
AI Search

فرشتوں کا رسول ہونا کہاں سے ثابت ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا فرشتوں میں بھی رسول ہوتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے سنا ہے کہ فرشتوں میں بھی رسول ہوتے ہیں جیسے حضرت جبریل علیہ السلام اور دیگر فرشتے، سوال یہ ہے کہ ان کا رسول ہونا کہاں سے ثابت ہے؟

جواب

جی ہاں فرشتوں میں بھی رسول ہوتے ہیں جیسے حضرت جبریل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، حضرت عزرائیل علیھم السلام بھی فرشتوں میں سے رسول ہیں۔ نیز فرشتوں کا خصوصا حضرت جبریل علیہ السلام کا رسول ہونا خود قرآن کریم کی صریح اور واضح آیات سے ثابت ہے۔ جن میں سے کچھ آیات مندرجہ ذیل ہیں۔

اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ”اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِؕ- اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ“ ترجمہ کنز الایمان: اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے بے شک اللہ سُنتا دیکھتا ہے۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 75)

تفسیر خازن، تفسیر نسفی میں ہے: و اللفظ لتفسیر للنسفی (اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ) یختار (مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا) كجبريل و ميكائيل و إسرافيل و غيرهم (وَّ مِنَ النَّاسِ) رسلاً كإبراهيم و موسى و عيسى و محمد وغيرهم عليهم السلام“ ترجمہ: اللہ فرشتوں میں سے رسول چن لیتا ہے جیسے حضرت جبریل، میکائیل، اسرافیل علیھم السلام اور ان کے علاوہ، اور آدمیوں میں سے رسول جیسے حضرت ابراھیم، حضرت موسی، حضرت عیسی، حضرت محمدعلی نبینا و علیھم السلام اور ان کے علاوہ۔ (تفسیر نسفی جلد 2، صفحہ 455، مطبوعہ بیروت)

مزید ارشاد فرمایا: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا“ ترجمہ کنز الایمان: سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (پارہ 22، سورۃ فاطر، آیت 1)

اس آیت مبارکہ کے الفاظ ”جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تفسیر بحر العلوم میں فرمایا: يعنی: مرسل الملائكة بالرسالة جبريل و ميكائيل و إسرافيل و ملك الموت و الكرام الكاتبين عليهم السلام“ ترجمہ: یعنی وہ فرشتوں کو رسول کے طور پر بھیجتا ہے، جبریل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت اور کراما کاتبین علیھم السلام۔ (تفسیر بحر العلوم جلد 3، صفحہ 79، مطبوعہ بیروت)

خصوصا جبریل امین علیہ السلام کے رسول ہونے کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا: ”قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا (18) قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا“ ترجمہ کنزالایمان: بولی: میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ بولا: میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ (پارہ 16، سورۃ مریم، آیت 18. 19)

تفسیر مظہری میں اس آیت کے تحت فرمایا: ”قال جبرئيل (اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ) يعنى لست بشرا تخافينه و تتعوذين منه لكنى رسول ربّك من الملائكة أرسلنی إليك“ ترجمہ: جبریل علیہ السلام نے فرمایا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں یعنی میں انسان نہیں ہوں جس سے تو خوف زدہ ہے اور پناہ مانگ رہی ہے بلکہ میں تو تیرے رب کا فرشتوں میں سے ایک رسول ہوں، جس نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے۔ (تفسیر مظہری جلد 6، صفحہ 11، مطبوعہ بیروت)

مزید ارشاد فرمایا: ”اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ“ ترجمہ کنز الایمان: بے شک یہ عزت والے رسول کا پڑھنا ہے۔ (پارہ 30، سورۃ التکویر، آیت 19)

اس آیت کے تحت تفسیر ابو السعود میں فرمایا: ”و هو جبريل عليه السلام قاله من جهة اللہ عز و جل“ ترجمہ: یعنی رسول کریم سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں جو رب عزوجل کی طرف سے قرآن پڑھتے ہیں۔ (تفسیر ابو السعود جلد 5، صفحہ 489، مطبوعہ ریاض)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ جبریل امین علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ وہی ہیں جنہیں حق تبارک و تعالیٰ رسول کریم مکین امین فرماتا ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 29، صفحہ 354، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فرشتوں میں کون کون سے فرشتے رسول ہیں، ان میں کچھ کا نام ذکر کرتے ہوئے تفسیر قرطبی میں ”جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا“ کے تحت فرمایا: ”الرسل منھم جبریل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت صلی اللہ علیھم اجمعین“ ترجمہ: فرشتوں میں سے جو رسول ہیں ان میں جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت علیھم السلام شامل ہیں۔ (تفسیر قرطبی جلد 17، صفحہ 341، مطبوعہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3181
تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1445ھ / 27 مئی 2024ء